وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَ نَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ ۚۖ وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ ﴿۱۶﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں جن کا وسوسہ اس کا نفس ڈالتاہے اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
En
اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں
En
ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیاﻻت اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 16) ➊ { وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ:} وسوسہ کا اصل معنی وہ ہلکی یا دبی ہوئی حرکت یا آواز ہے جو عام طور پر محسوس نہ ہوتی ہو۔ اس سے مراد وہ بات بھی ہوتی ہے جو بالکل آہستہ آواز سے کسی کے کان میں کہی جائے اور صرف اسی کو سنائی دے اور وہ بات بھی جو بغیر آواز کے کسی کے دل میں ڈال دی جائے، جیسے شیطان یا نفس انسان کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ قیامت کے منکروں کے اس شبہ کا جواب کہ جب ہم مر کر مٹی ہو گئے تو دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے، اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ ہم انسان کے مٹی ہو جانے والے ہر ذرے کو جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہے، وہ نہ ہمارے علم سے باہر ہے اور نہ ہماری دسترس اور قدرت سے، ہم جب چاہیں گے اسے دوبارہ زندہ کر دیں گے، اب فرمایا خاک کے ذرّات کا وجود تو پھر بھی باقی رہتا ہے اور نظر آتا ہے، ہم تو انسان کی وہ چیزیں بھی جانتے ہیں جو اس سے بھی زیادہ مخفی ہیں اور بظاہر ان کا وجود بھی باقی نہیں رہتا، کیونکہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے تو ہم سے بڑھ کر اسے کون جان سکتا ہے؟ فرمایا: «اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [الملک: ۱۴] ”کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔“ چنانچہ ہم اس کے اقوال و افعال ہی کو نہیں اس کی ان باتوں کو بھی جانتے ہیں جن کا خیال اور وسوسہ اس کا نفس اس کے دل میں ڈالتا ہے۔ سو ہم صرف اسے زندہ ہی نہیں کریں گے، بلکہ زندہ کرنے کے بعد اس کے تمام اعمال کا محاسبہ بھی کریں گے اور محاسبے کے لیے اگرچہ ہمارا علم ہی کافی ہے، مگر ہم نے حجت پوری کرنے کے لیے اس کے ہر قول و فعل کو فرشتوں کے ذریعے سے لکھ کر محفوظ کرنے کا بھی بندوبست کیا ہے۔
➋ {وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ: ” الْوَرِيْدِ “} دل سے نکلنے والی رگ جس کے کٹنے سے انسان مر جاتا ہے۔ دل میں اس کا نام ”وتین“ ہے، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ» [الحاقۃ: ۴۶] ”پھر ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔“ اور گردن میں اس کا نام ”وريد “ ہے، جو {”وَرَدَ يَرِدُ“} سے {”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر ہے، کیونکہ خون دل سے اس میں وارد ہوتا ہے۔ {” حَبْلِ “} کا معنی بھی رگ ہے۔ {” حَبْلِ “} کی اضافت {” الْوَرِيْدِ “} کی طرف بیانیہ ہے، یعنی وہ رگ جو ورید ہے، جیسا کہ مسجد الجامع کی اضافت ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”گردن کی رگ مراد ہے جس میں جان پھرتی ہے دل سے دماغ تک۔ اس کے کٹنے سے موت ہے۔“
➌ ”ہم اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں“ کیونکہ انسان کے جسم کے حصے تو ایک دوسرے کو چھپائے ہوئے ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔ مفسر ابنِ کثیر نے یہاں {” نَحْنُ “} سے مراد فرشتے لیے ہیں، جیسا کہ سورۂ واقعہ کی آیت (۸۵): «وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ» (اور ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اور لیکن تم نہیں دیکھتے) میں بعض ائمہ نے فرشتوں کا قریب ہونا مراد لیا ہے۔ اگرچہ اس معنی کی بھی گنجائش ہے، مگر الفاظ کے ظاہر کا تقاضا یہی ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ اپنے متعلق فرما رہے ہیں اور اس بات کا یقین اور احساس کہ میرا رب میری رگِ جاں سے بھی زیادہ مجھ سے قریب ہے، انسان کو گناہوں کے ارتکاب سے زیادہ باز رکھنے والا اور اس سے محبت پیدا کرنے کا زیادہ باعث ہے۔ فتح البیان میں ہے، قشیری نے فرمایا: {” فِيْ هٰذِهِ الْآيَةِ هَيْبَةٌ وَ فَزَعٌ وَ خَوْفٌ لِقَوْمٍ وَ رَوْحٌ وَ أُنْسٌ وَ سُكُوْنُ قَلْبٍ لِقَوْمٍ “} ”اس آیت میں کچھ لوگوں کے لیے ہیبت، گھبراہٹ اور خوف کا اور کچھ لوگوں کے لیے راحت، انس اور سکونِ قلب کا سامان موجود ہے۔“
➍ قرآن مجید نے صریح الفاظ میں اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا بیان فرمایا ہے: «اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى» [طٰہٰ: ۵] ”وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔ “ پھر اس کا انسان کے قریب ہونے کا کیا مطلب ہے؟ یہ بحث ان شاء اللہ سورۂ حدید کی آیت (۴): «وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ» میں آئے گی۔
➋ {وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ: ” الْوَرِيْدِ “} دل سے نکلنے والی رگ جس کے کٹنے سے انسان مر جاتا ہے۔ دل میں اس کا نام ”وتین“ ہے، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ» [الحاقۃ: ۴۶] ”پھر ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔“ اور گردن میں اس کا نام ”وريد “ ہے، جو {”وَرَدَ يَرِدُ“} سے {”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر ہے، کیونکہ خون دل سے اس میں وارد ہوتا ہے۔ {” حَبْلِ “} کا معنی بھی رگ ہے۔ {” حَبْلِ “} کی اضافت {” الْوَرِيْدِ “} کی طرف بیانیہ ہے، یعنی وہ رگ جو ورید ہے، جیسا کہ مسجد الجامع کی اضافت ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”گردن کی رگ مراد ہے جس میں جان پھرتی ہے دل سے دماغ تک۔ اس کے کٹنے سے موت ہے۔“
➌ ”ہم اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں“ کیونکہ انسان کے جسم کے حصے تو ایک دوسرے کو چھپائے ہوئے ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔ مفسر ابنِ کثیر نے یہاں {” نَحْنُ “} سے مراد فرشتے لیے ہیں، جیسا کہ سورۂ واقعہ کی آیت (۸۵): «وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ» (اور ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اور لیکن تم نہیں دیکھتے) میں بعض ائمہ نے فرشتوں کا قریب ہونا مراد لیا ہے۔ اگرچہ اس معنی کی بھی گنجائش ہے، مگر الفاظ کے ظاہر کا تقاضا یہی ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ اپنے متعلق فرما رہے ہیں اور اس بات کا یقین اور احساس کہ میرا رب میری رگِ جاں سے بھی زیادہ مجھ سے قریب ہے، انسان کو گناہوں کے ارتکاب سے زیادہ باز رکھنے والا اور اس سے محبت پیدا کرنے کا زیادہ باعث ہے۔ فتح البیان میں ہے، قشیری نے فرمایا: {” فِيْ هٰذِهِ الْآيَةِ هَيْبَةٌ وَ فَزَعٌ وَ خَوْفٌ لِقَوْمٍ وَ رَوْحٌ وَ أُنْسٌ وَ سُكُوْنُ قَلْبٍ لِقَوْمٍ “} ”اس آیت میں کچھ لوگوں کے لیے ہیبت، گھبراہٹ اور خوف کا اور کچھ لوگوں کے لیے راحت، انس اور سکونِ قلب کا سامان موجود ہے۔“
➍ قرآن مجید نے صریح الفاظ میں اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا بیان فرمایا ہے: «اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى» [طٰہٰ: ۵] ”وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔ “ پھر اس کا انسان کے قریب ہونے کا کیا مطلب ہے؟ یہ بحث ان شاء اللہ سورۂ حدید کی آیت (۴): «وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ» میں آئے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
1 6 ۔ 1 یعنی انسان جو کچھ چھپاتا اور دل میں مستور رکھتا ہے وہ سب ہم جانتے ہیں وسوسہ دل میں گزرنے والے خیالات کو کہا جاتا ہے جس کا علم اس انسان کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا لیکن اللہ ان وسوسوں کو بھی جانتا ہے اسی لیے حدیث میں آتا ہے اللہ تعالیٰ نے میری امت سے دل میں گزرنے والے خیالات کو معاف فرما دیا ہے یعنی ان پر گرفت نہیں فرمائے گا جب تک وہ زبان سے ان کا اظہار یا ان پر عمل نہ کرے۔ البخاری کتاب الایمان۔ 16۔ 1 ورید شہ رگ یا رگ جان کو کہا جاتا ہے جس کے کٹنے سے موت واقع ہوجاتی ہے یہ رگ حلق کے ایک کنارے سے انسان کے کندھے تک ہوتی ہے ہم انسان کے بالکل بلکہ اتنے قریب ہیں کہ اس کے نفس کی باتوں کو بھی جانتے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ نَحْنُ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی ہمارے فرشتے انسان کی رگ جان سے بھی قریب ہیں۔ کیونکہ انسان کے دائیں بائیں دو فرشتے ہر وقت موجود رہتے ہیں، وہ انسان کی ہر بات اور عمل کو نوٹ کرتے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک رات اور دن کے فرشتے مراد ہیں۔ رات کے دو فرشتے الگ اور دن کے دو فرشتے الگ (فتح لقدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو کچھ اس کے دل میں وسوسہ گزرتا [18] ہے، ہم تو اسے بھی جانتے ہیں اور اس کے گلے کی رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب [19] ہیں۔
[18] شیطان کا انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑنا :۔
چونکہ ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اس لئے اس کی فطرت کو سب سے زیادہ جاننے والا ہمارے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے ہم تو اس کے دل کے خیال اور اس میں پیدا ہونے والے برے خیالوں یا وساوس تک کو بھی جانتے ہیں۔ ویسے یہ وساوس کیونکر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے: ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ مسجد نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے جب میں واپس آنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ (تاکہ مجھے گھر تک پہنچا آئیں) جب ہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازہ کے قریب پہنچے تو دو انصاری مرد (اسید بن حضیر اور عمار بن بشر رضی اللہ عنہ) ملے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آگے نکل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ذرا ٹھہر جاؤ، (یہ عورت میری بیوی ہے)“ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! یا رسول اللہ اور آپ کا یہ وضاحت فرمانا ان پر شاق گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان خون کی طرح آدمی کے بدن کی ہر رگ میں پہنچتا ہے۔ میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں کوئی وسوسہ نہ ڈال دے“ [بخاری۔ کتاب الجہاد باب بیوت ازواج النبی]
[19] اللہ کا رگ جان سے زیادہ نزدیک ہونا :۔
اللہ تعالیٰ کی یہ قربت اس کے علم اور اس کی قدرت کے لحاظ سے ہے نہ کہ اس کی ذات کے لحاظ سے کیونکہ اس کی ذات تو ساری کائنات سے اوپر عرش پر ہے اور انسان کی جان یا نفس یا روح کا مسکن انسان کا دل ہے۔ تو جب اللہ اپنے علم کے لحاظ سے انسان کے دل اور اس میں پیدا ہونے والے خیالات تک کو جانتا ہے تو رگ جان یا رگ گردن، جو گلے کے سامنے کی طرف ہوتی ہے وہ تو دل سے کافی دور ہے۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دائیں اور بائیں دو فرشتے ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہی انسان کا خالق ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ انسان کے دل میں جو بھلے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی وہ جانتا ہے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگزر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2528]
اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم۔ ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آ جائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لیے کہ «وانا» نہیں کہا بلکہ «ونحن» کہا ہے یعنی میں نہیں کہا بلکہ ہم کہا ہے۔ یہی لفظ اس شخص کے بارے میں کہے گئے ہیں جس کی موت قریب آ گئی ہو اور وہ نزع کے عالم میں ہو فرمان ہے «وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:85] یعنی ’ ہم تم سب سے زیادہ اس سے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے۔ ‘
یہاں بھی مراد فرشتوں کا اس قدر قریب ہونا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» ۱؎ [15-الحجر:9] ’ یعنی ہم نے ذکر کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کے محافظ بھی ہیں ‘ فرشتے ہی ذکر قرآن کریم کو لے کر نازل ہوئے ہیں اور یہاں بھی مراد فرشتوں کی اتنی نزدیکی ہے جس پر اللہ نے انہیں قدرت بخش رکھی ہے۔
پس انسان پر ایک پہرا فرشتے کا ہوتا ہے اور ایک شیطان کا اسی طرح شیطان بھی جسم انسان میں اسی طرح پھرتا ہے جس طرح خون۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3107] جیسے کہ سچوں کے سچے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگزر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2528]
اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم۔ ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آ جائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لیے کہ «وانا» نہیں کہا بلکہ «ونحن» کہا ہے یعنی میں نہیں کہا بلکہ ہم کہا ہے۔ یہی لفظ اس شخص کے بارے میں کہے گئے ہیں جس کی موت قریب آ گئی ہو اور وہ نزع کے عالم میں ہو فرمان ہے «وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:85] یعنی ’ ہم تم سب سے زیادہ اس سے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے۔ ‘
یہاں بھی مراد فرشتوں کا اس قدر قریب ہونا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» ۱؎ [15-الحجر:9] ’ یعنی ہم نے ذکر کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کے محافظ بھی ہیں ‘ فرشتے ہی ذکر قرآن کریم کو لے کر نازل ہوئے ہیں اور یہاں بھی مراد فرشتوں کی اتنی نزدیکی ہے جس پر اللہ نے انہیں قدرت بخش رکھی ہے۔
پس انسان پر ایک پہرا فرشتے کا ہوتا ہے اور ایک شیطان کا اسی طرح شیطان بھی جسم انسان میں اسی طرح پھرتا ہے جس طرح خون۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3107] جیسے کہ سچوں کے سچے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔