(آیت 15) ➊ { اَفَعَيِيْنَابِالْخَلْقِالْاَوَّلِ:} یہ خلاصہ اور نتیجہ ہے اس دلیل کا جس کی تفصیل سورت کے شروع سے آ رہی ہے کہ جب ہم نے اس وقت جب کچھ بھی نہیں تھا آسمان و زمین، بارش اور اوپر مذکور تمام چیزیں پیدا کر لیں اور ہمیں ان کے پیدا کرنے سے کوئی تھکاوٹ لاحق نہیں ہوئی تو کیا یہ بے چارہ انسان ضعیف البنیان ہی ایسی مخلوق ہے جسے پہلی دفعہ پیدا کرکے ہم تھک گئے ہیں اور اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتے، حالانکہ ہمارا تخلیق کا عمل مسلسل جاری ہے اور دوبارہ زندگی تو پہلی دفعہ کے مقابلے میں معمولی بات ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے مختلف انداز سے کئی جگہ بیان فرمائی ہے، دیکھیے سورۂ روم (۲۷)، یٰس (۷۸، ۷۹)، نازعات (۲۷) اور سورۂ ق (۳۸)۔ ➋ {بَلْهُمْفِيْلَبْسٍمِّنْخَلْقٍجَدِيْدٍ:} یعنی یہ اس چیز کے منکر نہیں ہیں کہ ان کو پہلی بار ہم نے ہی پیدا کیا اور یہ کہ پہلی بار پیدا کرکے ہم تھک کر نہیں رہ گئے، لیکن اس کے باوجود انھیں شک ہے کہ ہم دوبارہ بھی پیدا کر سکیں گے یا نہیں، حالانکہ معمولی غور و فکر سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ اگر ہمیں دشواری پیش آتی تو پہلی دفعہ آتی، دوسری بار پیدا کرنے کا کام تو پہلی بار کی بہ نسبت کہیں آسان ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 کہ قیامت والے دن دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں تھا تو دوبارہ زندہ کرنا تو پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَهُوَالَّذِيْيَبْدَؤُاالْخَــلْقَثُمَّيُعِيْدُهٗوَهُوَاَهْوَنُعَلَيْهِ) 30۔ الروم:27) (وَضَرَبَلَنَامَثَلًاوَّنَسِيَخَلْقَهٗ ۭ قَالَمَنْيُّـحْيِالْعِظَامَوَهِىَرَمِيْمٌ 78 قُلْيُحْيِيْهَاالَّذِيْٓاَنْشَاَهَآاَوَّلَمَرَّةٍ ۭ وَهُوَبِكُلِّخَلْقٍعَلِـيْمُۨ 79ۙ) 36۔ یس:79-78) میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اور حدیث قدسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " ابن آدم مجھے یہ کہہ کر ایذا پہنچاتا ہے کہ اللہ مجھے ہرگز دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے جس طرح اس نے پہلی مرتبہ مجھے پیدا کیا۔ حالانکہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے " یعنی اگر مشکل ہے پہلی مرتبہ پیدا کرنا نہ کہ دوسری (صحیح البخاری) 15۔ 2 یعنی یہ اللہ کی قدرت ہے کہ منکر نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں قیامت کے وقوع اور اس میں دوبارہ زندگی کے بارے میں ہی شک ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گئے ہیں؟ بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) یہ لوگ از سر نو پیدائش کے متعلق شک [17] میں پڑے ہوئے ہیں
[17] اللہ تعالیٰ کو کسی انسان یا کسی جاندار مخلوق کی مثل قرار دینا ہی بنیادی غلطی ہے جس سے کئی طرح کی گمراہیوں کی راہیں کھلتی ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہم کام کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی اتنی بڑی کائنات پیدا کرنے کے بعد تھک چکا ہے۔ لہٰذا وہ آئندہ دوسری بار کیسے اس کائنات کو پیدا کرے گا۔ اس کا ایک جواب تو قرآن میں مختلف مقامات پر یہ دیا گیا ہے کہ تمہارے نزدیک بھی ایک چیز کو دوسری بار بنانا پہلی بار سے آسان تر ہوتا ہے تو پھر اللہ کے لئے دوسری بار پیدا کرنا کیسے مشکل ہو گا؟ اور یہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اصل بات یہ نہیں۔ وہ ہمیں تھکا ماندہ اور عاجز نہیں سمجھتے بلکہ ان کی عقل یہ بات قبول نہیں کرتی کہ انہیں دوبارہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ وہ اس سلسلہ میں مشکوک ہی رہتے ہیں۔ ان کے ذہن میں دونوں احتمال موجود رہتے ہیں۔ مگر چونکہ ان کی نفسانی خواہش یہی تقاضا کرتی ہے کہ محاسبہ نہ ہونا چاہئے لہٰذا وہ اس پر جم جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔