اس آیت کی تفسیر آیت 13 میں تا آیت 15 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 اَصْحَابالاءَیْکَۃِ کے لئے دیکھئے سورة الشعراء (وَمَآاَنْتَاِلَّابَشَرٌمِّثْلُنَاوَاِنْنَّظُنُّكَلَمِنَالْكٰذِبِيْنَ 186ۚ) 26۔ الشعراء:186) کا حاشیہ۔ 14۔ 2 قَوْمُتُبَعِ کے لئے دیکھئے سورة الدخان، (اَهُمْخَيْرٌاَمْقَوْمُتُبَّــعٍ ۙ وَّالَّذِيْنَمِنْقَبْلِهِمْ ۭ اَهْلَكْنٰهُمْ ۡ اِنَّهُمْكَانُوْامُجْرِمِيْنَ 37) 44۔ الدخان:37) کا حاشیہ۔ 14۔ 3 یعنی ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا جا رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی طرف سے تکذیب پر غمگین نہ، اس لیے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے یہی معاملہ کیا دوسرے اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ پچھلی قوموں نے انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی تو دیکھ لو ان کا انجام کیا ہوا؟ کیا تم بھی اپنے لیے یہی انجام چاہتے ہو اگر یہ انجام پسند نہیں کرتے تو تکذیب کا راستہ چھوڑو اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ اور بن کے رہنے والوں اور تبع [14] کی قوم نے بھی۔ ہر ایک نے رسولوں [15] کو جھٹلایا تو ان پر میرا وعدہ عذاب [16] پورا ہو کر رہا
[14] ان سب اقوام کے قصے پہلے سورۃ اعراف، یونس، ہود، حجر، فرقان اور دخان میں گزر چکے ہیں اور حواشی میں تفصیلات آچکی ہیں۔ وہاں ملاحظہ کر لئے جائیں۔ [15] اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ان اقوام میں سے ہر قوم نے اپنے اپنے رسول کو جھٹلایا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر قوم نے سارے رسولوں کو جھٹلایا اس لئے کہ وہ نفس رسالت کے ہی منکر تھے۔ یعنی ان کے خیال کے مطابق کوئی انسان رسول بن کر آہی نہیں سکتا تھا۔ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے رسول کو جھٹلانے کو تمام رسولوں کی تکذیب کے مترادف قرار دیا گیا ہو۔ کیونکہ سب رسولوں کی بنیادی تعلیم ایک جیسی ہے۔ اور رسولوں کو جھٹلانے سے مراد رسول کی تعلیم کو جھٹلانا ہے۔
[16] آخرت کی منکر اقوام کا انجام :۔
تمام رسولوں کی بنیادی تعلیم کا ایک اہم جز عقیدہ آخرت پر ایمان رہا ہے۔ اور جن اقوام کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ یہ سب عقیدہ آخرت یا مر کر دوبارہ جی اٹھنے اور اللہ کے حضور پیش ہونے اور اپنے جواب ہی کے عقیدہ کی منکر تھیں۔ عقیدہ آخرت سے انکار کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ افراد اور اقوام دونوں کی زندگی کو فتنہ و فساد کی راہوں پر ڈال دیتا ہے۔ اس لئے کہ ایسے انسانوں کو اپنے محاسبہ کا کچھ خوف نہیں رہتا۔ پھر رسول آکر انہیں ان کے برے انجام سے متنبہ کرتے ہیں تو وہ اس قدر سرکش اور گناہوں پر دلیر ہو چکے ہوتے ہیں کہ وہاں سے راہ راست پر واپس آنا کسی صورت گوارا نہیں کرتے۔ الٹا رسولوں کی تکذیب اور انہیں دکھ دینا شروع کر دیتے ہیں اور سرکشی اور معصیت میں آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں تاآنکہ انہیں ان کے کرتوتوں کی پاداش میں دھر لیا جاتا ہے اور صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان تک ختم کر دیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔