(آیت 99) {مَاعَلَىالرَّسُوْلِاِلَّاالْبَلٰغ:} یعنی جب انھوں نے یہ حکم پہنچا دیا تو اپنا فریضہ ادا کر دیا اور تم پر حجت قائم ہو گئی، اب کسی شخص کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہو گا۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
99۔ رسول کے ذمہ تو صرف پیغام پہنچانا [148] ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو یا چھپاتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے
[148] یعنی رسول کی ذمہ داری صرف اللہ کے احکام پہنچا دینے تک ہے آگے ان احکام کی فرمانبرداری کی ذمہ داری تم پر ہے۔ اگر تم نافرمانی کرو گے تو رسول تمہاری اس نافرمانی سے بری الذمہ ہے اور اللہ تمہارے ظاہری اعمال و اقوال کے علاوہ باطنی خیالات تک سے واقف ہے کہ تم میں اس کی اطاعت کا جذبہ کیسا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔