(آیت 98) {اِعْلَمُوْۤااَنَّاللّٰهَشَدِيْدُالْعِقَابِ …:} لہٰذا تم ایک طرف اس کے عذاب سے بھی پناہ مانگتے رہو اور دوسری طرف اس کی رحمت کے بھی امید وار رہو۔ اصل ایمان یہ ہے کہ بندے پر خوف و رجا(ڈر اور امید) کی حالت طاری رہے، فرمایا: «وَادْعُوْهُخَوْفًاوَّطَمَعًا»[الأعراف: ۵۶]”اور اسے خوف اور طمع سے پکارو۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر مومن کو اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ سزا (عذاب) کا علم ہو جائے تو کوئی جنت کی طمع نہ کرے اور اگر کافر کو اللہ تعالیٰ کی رحمت (کی وسعت) کا علم ہو جائے تو کوئی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو۔“[مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ …: ۲۷۵۵]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
98۔ اور خوب جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا بھی ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔