جَعَلَ اللّٰہُ الۡکَعۡبَۃَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ الۡہَدۡیَ وَ الۡقَلَآئِدَ ؕ ذٰلِکَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۹۷﴾
اللہ نے کعبہ کو، جو حرمت والا گھر ہے، لوگوں کے قیام کا باعث بنایا ہے اور حرمت والے مہینے کو اور قربانی کے جانوروں کو اور پٹوں (والے جانوروں) کو۔یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور یہ کہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
En
خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لیے موجب امن مقرر فرمایا ہے اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے
En
اللہ نے کعبہ کو جو ادب کا مکان ہے لوگوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دے دیا اور عزت والے مہینہ کو بھی اور حرم میں قربانی ہونے والے جانور کو بھی اور ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں پٹے ہوں یہ اس لئے تاکہ تم اس بات کا یقین کر لو کہ بےشک اللہ تمام آسمانوں اور زمین کے اندر کی چیزوں کا علم رکھتا ہے اور بےشک اللہ سب چیزوں کو خوب جانتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 97) ➊ {جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ …:} اوپر کی آیت میں محرم کے لیے شکار کو حرام قرار دیا، اب اس آیت میں بتایا کہ جس طرح حرم کو اللہ تعالیٰ نے وحشی جانوروں اور پرندوں کے لیے سبب امن قرار دیا ہے اسی طرح اسے لوگوں کے لیے بھی جائے امن بنا دیا ہے اور دنیوی اور اخروی سعادتیں حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ (کبیر) دیکھیے سورۂ آل عمران (۹۷)، سورۂ قصص (۵۷) اور سورۂ بقرہ (۱۲۵) یعنی اہل مکہ کی معاش (روزی) کا مدار اسی پر ہے کہ لوگ دور دراز سے حج اور تجارت کے ارادے سے یہاں پہنچتے ہیں اور ہر قسم کی ضروریات ساتھ لاتے ہیں، جس سے اہل مکہ رزق حاصل کرتے ہیں اور لوگ یہاں پہنچ کر امن و امان پاتے ہیں، حتیٰ کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی حرم کے اندر کوئی شخص اپنے باپ یا بیٹے کے قاتل تک کو کچھ نہیں کہتا تھا اور عبادت و ثواب کے اعتبار سے یہ بہترین جگہ ہے۔ الغرض! یہ تمام چیزیں لوگوں کے قیام کا باعث ہیں۔ (کبیر، فتح القدیر) کعبۃ اللہ لوگوں کے قائم رہنے کا ایک ذریعہ ہے، کیونکہ قیامت کے قریب جب ایک حبشی کعبۃ اللہ کو گرا دے گا تو اس کے بعد بہت جلد قیامت آ جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی گرائے گا۔“ [بخاری، الحج، باب ہدم الکعبۃ: ۱۵۹۶۔ مسلم: ۲۹۰۹]
➋ {وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ:} حرمت والے مہینے چار ہیں، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ ان چار مہینوں میں لوگ امن سے سفر اور تجارت کرتے اور سال بھر کی ضروریات جمع کر لیتے تھے، اس اعتبار سے یہ مہینے بھی گویا لوگوں کی زندگی قائم رہنے کا ذریعہ ہیں۔
➌ {وَ الْهَدْيَ وَ الْقَلَآىِٕدَ:} ان کا لوگوں کے لیے قیام کا سبب ہونا اس اعتبار سے ہے کہ ہدی (قربانی) کا گوشت مکہ کے فقراء میں تقسیم ہوتا اور ہدی اور قلادہ والے جانور کوئی شخص لے کر چلتا تو اس کا تمام عرب احترام کرتے۔ مقصد کعبہ کی عظمت کو بیان کرنا تھا، اس کے ساتھ ان چیزوں کا بھی ذکر کر دیا، کیونکہ ان کا تعلق بھی بیت اللہ سے ہے۔ (کبیر)
➍ {ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ …:} {” ذٰلِكَ “} (یہ) یعنی اللہ تعالیٰ کا ان چیزوں کو لوگوں کے قیام کا باعث بنانا اس لیے ہے کہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات کی تفصیل جانتا ہے اور اس نے اپنے علم کے مطابق لوگوں کے قیام اور فائدے کے لیے یہ احکام جاری فرمائے ہیں۔ «وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی تمام تفصیلات جانتا ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ تمھاری دینی اور معاشی بہتری کس چیز میں ہے اور کس چیز میں نہیں۔
➋ {وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ:} حرمت والے مہینے چار ہیں، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ ان چار مہینوں میں لوگ امن سے سفر اور تجارت کرتے اور سال بھر کی ضروریات جمع کر لیتے تھے، اس اعتبار سے یہ مہینے بھی گویا لوگوں کی زندگی قائم رہنے کا ذریعہ ہیں۔
➌ {وَ الْهَدْيَ وَ الْقَلَآىِٕدَ:} ان کا لوگوں کے لیے قیام کا سبب ہونا اس اعتبار سے ہے کہ ہدی (قربانی) کا گوشت مکہ کے فقراء میں تقسیم ہوتا اور ہدی اور قلادہ والے جانور کوئی شخص لے کر چلتا تو اس کا تمام عرب احترام کرتے۔ مقصد کعبہ کی عظمت کو بیان کرنا تھا، اس کے ساتھ ان چیزوں کا بھی ذکر کر دیا، کیونکہ ان کا تعلق بھی بیت اللہ سے ہے۔ (کبیر)
➍ {ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ …:} {” ذٰلِكَ “} (یہ) یعنی اللہ تعالیٰ کا ان چیزوں کو لوگوں کے قیام کا باعث بنانا اس لیے ہے کہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات کی تفصیل جانتا ہے اور اس نے اپنے علم کے مطابق لوگوں کے قیام اور فائدے کے لیے یہ احکام جاری فرمائے ہیں۔ «وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی تمام تفصیلات جانتا ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ تمھاری دینی اور معاشی بہتری کس چیز میں ہے اور کس چیز میں نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
97۔ 1 کعبہ کو البیت الحرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی حدود میں شکار کرنا، درخت کاٹنا وغیرہ حرام ہیں۔ اسی طرح اس میں اگر باپ کے قاتل سے بھی سامنا ہوجاتا تو اس سے بھی تعرض نہیں کیا جاتا تھا۔ اسے قیاما للناس (لوگوں کے قیام اور گزران کا باعث) قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کے ذریعے سے اہل مکہ کا نظم و انصرام بھی صحیح ہے اور ان کی ضروریات کی فراہمی کا ذریعہ بھی۔ اسی طرح حرمت والے مہینے (رجب، ذوالحجہ اور محرم) اور حرم میں جانے والے جانور ہیں کہ تمام چیزوں سے بھی اہل مکہ مزکورہ فوائد حاصل ہوتے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
97۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو قابل احترام [145] گھر ہے لوگوں کے (لیے امن و جمعیت) کے قیام کا ذریعہ بنادیا ہے اور حرمت والے مہینے کو اور قربانی کو اور پٹے والے جانوروں [146] کو بھی، تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین میں موجود تمام چیزوں کے حالات خوب جانتا ہے، نیز یہ کہ اللہ کو ہر چیز [147] کا علم ہے
[145] اس آیت میں ﴿قِيَاماً للنَّاسِ﴾ کے تین الگ الگ مطلب لیے جاسکتے ہیں اور وہ تینوں ہی درست ہیں۔ (1) ﴿الناس﴾ سے مراد اس دور کے اور اس سے پہلے اور پچھلے قیامت تک کے سب لوگ مراد لیے جائیں۔ اس صورت میں معنیٰ یہ ہوگا کہ کعبہ کا وجود کل عالم کے قیام اور بقا کا باعث ہے اور دنیا کا وجود اسی وقت تک ہے جب تک خانہ کعبہ اور اس کا احترام کرنے والی مخلوق موجود ہے۔ جب اللہ کو یہ منظور ہوگا کہ یہ کارخانہ عالم ختم کردیا جائے تو اس وقت بیت اللہ کو اٹھا لیا جائے گا جیسا کہ سب سے پہلے اس زمین پر یہ مکان بنایا گیا تھا امام بخاری نے اس معنیٰ کو ترجیح دی ہے اور اسی آیت کے تحت درج ذیل حدیث لائے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ (قیامت کے قریب) ایک چھوٹی پنڈلیوں والا (حقیر) حبشی کعبہ کو ویران کرے گا [بخاري۔ كتاب المناسك۔ باب قول الله تعالىٰ: ﴿جعل اللّٰه الكعبة البيت الحرام قياماً للناس﴾]
اس حدیث سے ضمناً دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس سے پہلے کوئی مضبوط سے مضبوط اور طاقتور دشمن کعبہ کو منہدم کرنے کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح اصحاب الفیل (ابرہہ) کو ذلیل اور ناکام بنادیا تھا ایسے ہی ہر اس شخص کو یا قوم یا حکومت کو ہلاک کر دے گا جو کعبہ کی تخریب کی مذموم حرکت کرے گی۔
(2) ﴿الناس﴾ سے مراد صرف عرب کے لوگ لیے جائیں۔ جو حرمت والے مہینوں میں بڑی آزادی سے سفر کرتے تھے بالخصوص جب وہ قربانی کے پٹہ والے جانور بھی بغرض قربانی ساتھ جا رہے ہوں۔ کیونکہ سب قبائل عرب ایسے جانوروں کا احترام کرتے تھے اور یہ سب کچھ کعبہ کے تقدس کی بنا پر ہوتا تھا۔ حج وعمرہ کرنے والے اور تجارتی قافلے تہائی سال نہایت اطمینان سے سفر کرتے۔ اس طرح کعبہ پورے ملک کی تمدنی اور معاشی زندگی کا سہارا بنا ہوا تھا۔
(3) ﴿الناس﴾ سے مراد مکہ اور اس کے ارد گرد کے لوگ لیے جائیں۔ اس صورت میں معنیٰ یہ ہوگا کہ بےآب وگیاہ وادی میں کعبہ کا وجود مکہ اور آس پاس کے تمام لوگوں کی معاش کا ذریعہ ہے۔ اقصائے عالم سے حج وعمرہ کے لیے آنے والے لوگوں کو قیام و طعام اور نقل و حرکت کی خدمات مہیا کرنے کے عوض ان لوگون کو اتنی آمدنی حاصل ہوجاتی ہے جس سے وہ سال بھر گزارہ کرسکیں بلکہ اس سے بہت زیادہ بھی۔ نیز انہیں دوسرے بھی بہت سے معاشرتی اور سیاسی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔
[146] قربانی اور پٹے والے جانوروں کے لیے دیکھئے سورة مائدہ کی آیت نمبر 2 کا حاشیہ نمبر 7
[147] شرعی احکام لوگوں کے مصالح پر مبنی ہیں :۔
یعنی اس بےآب وگیاہ وادی میں بسنے والی مخلوق کی ضروریات سے اور مصالح سے وہ خوب واقف ہے اس نے اپنے گھر کو قابل احترام خطہ قرار دے کر اور اسے تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک مرکز قرار دے کر ان کی جملہ ضروریات کا سامان بہم پہنچا دیا ہے کہ انہیں کھانے کے لیے رزق کی جملہ انواع کھچ کھچ کر وہاں پہنچ جاتی ہیں۔ صرف ایک اسی بات میں غور کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کا ایک ایک حکم انسان ہی کے مصالح پر مبنی ہے خواہ وہ مصالح دینی ہوں یا دنیوی ہوں۔ پھر یہ بات صرف اسی خطہ تک محدود نہیں بلکہ وہ سب لوگوں کے حالات، ضروریات اور مصالح سے پوری طرح واقف ہے اور اسی کے مطابق حکم دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔“ [ابن ابی حاتم وغیرہ]
آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔“ [ابن جریر] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم]
ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:96] پڑھ کر فرمایا: { اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔“ [ابن جریر] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم]
ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:96] پڑھ کر فرمایا: { اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے ‘، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔
اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2483] یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔
اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2483] یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1935]
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ { اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے } اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ { اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے } اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ { دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں } } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ { دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں } } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن ماجہ میں ہے کہ { جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ { اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے }، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے } }، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور فرمایا ہے کہ { اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف]
بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور فرمایا ہے کہ { اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف]
بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔
ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ { جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ } ۱؎ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔
مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے ‘۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔
عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ { خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ،
اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔
عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ { خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ،
اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔
چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔
تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ { انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے } } ۱؎ [صحیح بخاری:1825] یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔
تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ { انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ } سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا } }۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے ۱؎ [صحیح بخاری:1824]
تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ { انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے } } ۱؎ [صحیح بخاری:1825] یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔
تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ { انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ } سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا } }۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے ۱؎ [صحیح بخاری:1824]
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔
ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔“ ۱؎ [موطا:354/1:حسن]
ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔“ ۱؎ [موطا:354/1:حسن]