وَ اِذَا نَادَیۡتُمۡ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوۡہَا ہُزُوًا وَّ لَعِبًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور جب تم نماز کی طرف آواز دیتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔
En
اور جب تم لوگ نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں یہ اس لیے کہ سمجھ نہیں رکھتے
En
اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھرا لیتے ہیں۔ یہ اس واسطے کہ بےعقل ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 58) ➊ {وَ اِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ: ” نَادَيْتُمْ “} کا معنی ہے جب تم آواز دیتے ہو، تو اس سے مراد نماز کے لیے اذان ہے یعنی اس کی نقلیں اتارتے ہیں، تمسخر سے اس کے الفاظ بدلتے ہیں اور اس پر آوازے کستے ہیں، شور و ہنگامہ برپا کرتے ہیں۔ (ابن کثیر، فتح القدیر) شیطان کو بھی اذان کی آواز برداشت نہیں، حدیث میں ہے: ”شیطان جب اذان کی آواز سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے (کہ اذان اس کے کانوں میں نہ پڑے)، پھر واپس آ جاتا ہے، اقامت کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو آ جاتا ہے، یہاں تک کہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان پھرتا ہے، کہتا ہے فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو، جو باتیں اسے یاد نہیں تھیں، یہاں تک کہ آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔“ [بخاری، الأذان، باب فضل التأذین: ۶۰۸]
➋ نماز کے لیے آواز دینے کا ذکر قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے، ایک اس آیت میں دوسرا سورۂ جمعہ میں۔ اسی ندا کو اذان کہتے ہیں، مگر پورے قرآن میں نہ اذان کا طریقہ بیان ہوا، نہ اس کے کلمات اور نہ اس کے اوقات۔ یہ آواز کیسے دی جائے، اس کے لیے حدیث رسول سے رہنمائی لینا ہو گی۔ معلوم ہوا حدیث کے بغیر قرآن پر عمل ممکن ہی نہیں۔ «اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ» [النساء: ۵۹] اور «اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ» [آل عمران: ۳۱] کے تحت قرآن کے ساتھ حدیث پر عمل بھی واجب ہے، اسی لیے اہل علم نے منکرین حدیث پر کفر کا فتویٰ صادر فرمایا ہے۔
➌ {ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ:} یعنی اگر ان میں کچھ بھی عقل ہوتی تو اذان کی آواز سن کر ان کے دل نرم پڑ جاتے، وہ حق کی طرف متوجہ ہوتے، یا کم از کم مسلمانوں سے دینی اختلاف رکھنے کے باوجود اس قسم کی گھٹیا حرکتیں نہ کرتے۔
➋ نماز کے لیے آواز دینے کا ذکر قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے، ایک اس آیت میں دوسرا سورۂ جمعہ میں۔ اسی ندا کو اذان کہتے ہیں، مگر پورے قرآن میں نہ اذان کا طریقہ بیان ہوا، نہ اس کے کلمات اور نہ اس کے اوقات۔ یہ آواز کیسے دی جائے، اس کے لیے حدیث رسول سے رہنمائی لینا ہو گی۔ معلوم ہوا حدیث کے بغیر قرآن پر عمل ممکن ہی نہیں۔ «اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ» [النساء: ۵۹] اور «اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ» [آل عمران: ۳۱] کے تحت قرآن کے ساتھ حدیث پر عمل بھی واجب ہے، اسی لیے اہل علم نے منکرین حدیث پر کفر کا فتویٰ صادر فرمایا ہے۔
➌ {ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ:} یعنی اگر ان میں کچھ بھی عقل ہوتی تو اذان کی آواز سن کر ان کے دل نرم پڑ جاتے، وہ حق کی طرف متوجہ ہوتے، یا کم از کم مسلمانوں سے دینی اختلاف رکھنے کے باوجود اس قسم کی گھٹیا حرکتیں نہ کرتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
58۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو پاد مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے، جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر آجاتا ہے، تکبیر کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو پھر آ کر نمازیوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے، شیطان ہی کی طرح شیطان کے پیروکاروں کو اذان کی آواز اچھی نہیں لگتی، اس لئے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث رسول بھی قرآن کی دین کا ماخذ اور اسی طرح حجت ہے۔ کیونکہ قرآن نے نماز کے لئے ' ندا ' کا تو ذکر کیا ہے لیکن یہ ' ندا ' کس طرح دی جائے گی؟ اس کے الفاظ کیا ہوں گے؟ یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے۔ یہ چیزیں حدیث سے ثابت ہیں، جو اس کی حجیت اور ماخذ دین ہونے پر دلیل ہیں۔ حجت حدیث کا مطلب: حدیث کے ماخذ دین اور حجت شرعیہ ہونے کا مطلب ہے، کہ جس طرح قرآن سے ثابت ہونے والے احکام و فرائض پر عمل کرنا ضروری ہے اور ان کا انکار کفر ہے۔ اس طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے والے احکام کا ماننا بھی فرض ہے، ان پر عمل کرنا ضروری اور ان کا انکار کفر ہے۔ صحیح حدیث چاہے متواتر ہو یا آحاد، قولی ہو، فعلی ہو یا تقریری۔ یہ سب قابل عمل ہیں۔ حدیث کا خبر واحد کی بنیاد پر یا قرآن سے زائد ہونے کی بنیاد پر یا ائمہ کے قیاس واجتہاد کی بنیاد پر یا راوی کی عدم فقاہت کے دعویٰ کی بنیاد پر یا عقلی استحالے کی بنیاد پر یا اسی قسم کے دیگر دعوؤں کی بنیاد پر، رد کرنا صحیح نہیں ہے۔ یہ سب حدیث سے اعراض کی مختلف صورتیں ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
58۔ جب تم نماز کے لیے اذان کہتے ہو تو یہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے [100] اور اسے شغل بناتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ بیوقوف ہیں
[100] اذان کا تمسخر اڑانے والے اور ابو محذورہ:۔
اذان مسلمانوں کے شعائر میں سے ایک شعار ہے جس میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہ اعلان ہی در اصل تمام کافروں، خواہ وہ مشرکین ہوں یا یہود و نصاریٰ ہوں سب کے لیے دکھتی رگ تھا۔ کیونکہ مشرکین تو اللہ کے صرف اکیلے الٰہ ہونے کے ہی قائل نہ تھے دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول ماننے کو تیار نہ تھے۔ اس طرح یہود و نصاریٰ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی سمجھنے کو تیار نہ تھے اور یہی کلمات در اصل ان کے اور مسلمانوں کے درمیان باعث نزاع اور موجب جنگ بنے ہوئے تھے پھر دن میں جب پانچ بار بہ بانگ دہل انہیں کلمات کا اعلان کیا جاتا تو سیخ پا ہو جاتے اور اللہ کا، اس کے رسول کا اور مسلمانوں سب کا مذاق اڑاتے اور پھبتیاں کسنے لگتے تھے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ مدینہ میں ایک عیسائی تھا۔ جب وہ اشھد ان محمد رسول اللہ کے کلمات سنتا تو کہا کرتا۔ «قد حرق الكاذب» (یعنی جھوٹا جل کر تباہ ہوا) بددعا کے یہ کلمات در اصل اس کے دل کی جلن کا مظہر تھے۔ اب اتفاق کی بات ہے کہ ایک رات ایک لڑکی اس کے گھر میں آگ لے کر آئی۔ وہ خود اور اس کے اہل خانہ سو رہے تھے۔ نا دانستہ طور پر وہ آگ کی چنگاری اس کے ہاتھ سے گر گئی جس سے سارا گھر اور گھر والے بھی جل گئے۔ اس طرح اللہ نے اس کی بددعا کو اسی کے حق میں سچ کر دکھایا۔ اس کا قول سچا ہو گیا اور جو جھوٹا تھا واقعی جل گیا۔ نیز ایک اور واقعہ بھی صحیح روایات میں منقول ہے اور وہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس آ رہے تھے تو راستہ میں سیدنا بلالؓ نے اذان کہی۔ چند نوجوانوں نے اذان کے کلمات کی ہنسی اڑائی اور اس کی نقل اتارنے لگے۔ ان نوجوانوں میں ابو محذورہ بھی شامل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پاس بلوایا اور اسلام کی دعوت پیش کی۔ ابو محذورہ کے دل میں اللہ نے اسلام ڈال دیا۔ خوش آواز تھے لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مکہ کا مؤذن مقرر فرما دیا۔ اس طرح اللہ کی قدرت سے نقل اصل بن گئی۔
[مسلم، ترمذی، نسائی، احمد، ابو داؤد بحوالہ سبل السلام۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب الاذان عن ابی محذورۃ]
[مسلم، ترمذی، نسائی، احمد، ابو داؤد بحوالہ سبل السلام۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب الاذان عن ابی محذورۃ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اذان اور دشمنان دین ٭٭
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی محبت سے نفرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ کیا تم ان سے دوستیاں کرو گے جو تمہارے طاہر و مطہر دین کی ہنسی اڑاتے ہیں اور اسے ایک بازیچہ اطفال بنائے ہوئے ہیں ‘۔
«مِّنَ» بیان جنس کیلئے جیسے «مِنَ الْاَوْثَانِ» میں۔ ۱؎ [22-الحج:30] بعض نے «وَالْکُفَّارَ» پڑھا ہے اور عطف ڈالا ہے اور بعض نے «وَالْکُفَّارِ» پڑھا ہے اور «لاَ تَّتخِذُوْا» کا نیا معمول بنایا ہے تو تقدیر عبارت «وَالاَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ» ہو گی، کفار سے مراد مشرکین ہیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:430/10:]
’ اللہ سے ڈرو اور ان سے دوستیاں نہ کرو اگر تم سچے مومن ہو۔ یہ تو تمہارے دین کے، اللہ کی شریعت کے دشمن ہیں ‘۔
جیسے فرمایا آیت «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ» [3۔ آل عمران:28]، ’ مومن مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستیاں نہ کریں اور جو ایسا کرے وہ اللہ کے ہاں کسی بھلائی میں نہیں ‘۔ ہاں ان سے بچاؤ مقصود ہو تو اور بات ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
اسی طرح یہ کفار اہل کتاب اور مشرک اس وقت بھی مذاق اڑاتے ہیں جب تم نمازوں کیلئے لوگوں کو پکارتے ہو حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے پیاری عبادت ہے، لیکن یہ بیوقوف اتنا بھی نہیں جانتے، اس لیے کہ یہ متبع شیطان ہیں، { اس کی یہ حالت ہے کہ اذان سنتے ہی بدبو چھوڑ کر دم دبائے بھاگتا ہے اور وہاں جا کر ٹھہرتا ہے، جہاں اذان کی آواز نہ سن پائے۔ اس کے بعد آ جاتا ہے پھر تکبیر سن کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے ختم ہوتے ہی آ کر اپنے بہکاوے میں لگ جاتا ہے، انسان کو ادھر ادھر کی بھولی بسری باتیں یاد دلاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ نماز کی کتنی رکعت پڑھیں؟ جب ایسا ہو تو وہ سجدہ سہو کر لے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1231]
«مِّنَ» بیان جنس کیلئے جیسے «مِنَ الْاَوْثَانِ» میں۔ ۱؎ [22-الحج:30] بعض نے «وَالْکُفَّارَ» پڑھا ہے اور عطف ڈالا ہے اور بعض نے «وَالْکُفَّارِ» پڑھا ہے اور «لاَ تَّتخِذُوْا» کا نیا معمول بنایا ہے تو تقدیر عبارت «وَالاَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ» ہو گی، کفار سے مراد مشرکین ہیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:430/10:]
’ اللہ سے ڈرو اور ان سے دوستیاں نہ کرو اگر تم سچے مومن ہو۔ یہ تو تمہارے دین کے، اللہ کی شریعت کے دشمن ہیں ‘۔
جیسے فرمایا آیت «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ» [3۔ آل عمران:28]، ’ مومن مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستیاں نہ کریں اور جو ایسا کرے وہ اللہ کے ہاں کسی بھلائی میں نہیں ‘۔ ہاں ان سے بچاؤ مقصود ہو تو اور بات ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
اسی طرح یہ کفار اہل کتاب اور مشرک اس وقت بھی مذاق اڑاتے ہیں جب تم نمازوں کیلئے لوگوں کو پکارتے ہو حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے پیاری عبادت ہے، لیکن یہ بیوقوف اتنا بھی نہیں جانتے، اس لیے کہ یہ متبع شیطان ہیں، { اس کی یہ حالت ہے کہ اذان سنتے ہی بدبو چھوڑ کر دم دبائے بھاگتا ہے اور وہاں جا کر ٹھہرتا ہے، جہاں اذان کی آواز نہ سن پائے۔ اس کے بعد آ جاتا ہے پھر تکبیر سن کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے ختم ہوتے ہی آ کر اپنے بہکاوے میں لگ جاتا ہے، انسان کو ادھر ادھر کی بھولی بسری باتیں یاد دلاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ نماز کی کتنی رکعت پڑھیں؟ جب ایسا ہو تو وہ سجدہ سہو کر لے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1231]
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اذان کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے پھر یہی آیت تلاوت کی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1164/4]
ایک نصرانی مدینے میں تھا، اذان میں جب «اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ» سنتا تو کہتا کذاب جل جائے۔ ایک مرتبہ رات کو اس کی خادمہ گھر میں آگ لائی، کوئی پتنگا اڑا جس سے گھر میں آگ لگ گئی، وہ شخص اس کا گھربار سب جل کر ختم ہو گیا۔
فتح مکہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو کعبے میں اذان کہنے کا حکم دیا، قریب ہی ابوسفیان بن حرب، عتاب بن اسید، حارث بن ہشام بیٹھے ہوئے تھے، عتاب نے تو اذان سن کر کہا میرے باپ پر تو اللہ کا فضل ہوا کہ وہ اس غصہ دلانے والی آواز کے سننے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسا۔ حارث کہنے لگا اگر میں اسے سچا جانتا تو مان ہی نہ لیتا۔ ابوسفیان نے کہا بھئی میں تو کچھ بھی زبان سے نہیں نکالتا، ڈر ہے کہ کہیں یہ کنکریاں اسے خبر نہ کر دیں انہوں نے باتیں ختم کی ہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور فرمانے لگے { اس وقت تم نے یہ یہ باتیں کیں ہیں }، یہ سنتے ہی عتاب اور حارث تو بول پڑے کہ ہماری گواہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہاں تو کوئی چوتھا تھا ہی نہیں، ورنہ گمان کر سکتے تھے کہ اس نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیا ہوگا۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:78/5]
ایک نصرانی مدینے میں تھا، اذان میں جب «اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ» سنتا تو کہتا کذاب جل جائے۔ ایک مرتبہ رات کو اس کی خادمہ گھر میں آگ لائی، کوئی پتنگا اڑا جس سے گھر میں آگ لگ گئی، وہ شخص اس کا گھربار سب جل کر ختم ہو گیا۔
فتح مکہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو کعبے میں اذان کہنے کا حکم دیا، قریب ہی ابوسفیان بن حرب، عتاب بن اسید، حارث بن ہشام بیٹھے ہوئے تھے، عتاب نے تو اذان سن کر کہا میرے باپ پر تو اللہ کا فضل ہوا کہ وہ اس غصہ دلانے والی آواز کے سننے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسا۔ حارث کہنے لگا اگر میں اسے سچا جانتا تو مان ہی نہ لیتا۔ ابوسفیان نے کہا بھئی میں تو کچھ بھی زبان سے نہیں نکالتا، ڈر ہے کہ کہیں یہ کنکریاں اسے خبر نہ کر دیں انہوں نے باتیں ختم کی ہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور فرمانے لگے { اس وقت تم نے یہ یہ باتیں کیں ہیں }، یہ سنتے ہی عتاب اور حارث تو بول پڑے کہ ہماری گواہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہاں تو کوئی چوتھا تھا ہی نہیں، ورنہ گمان کر سکتے تھے کہ اس نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیا ہوگا۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:78/5]
حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ جب شام کے سفر کو جانے لگے تو ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے جن کی گود میں انہوں نے ایام یتیمی بسر کئے تھے، کہا آپ رضی اللہ عنہ کی اذان کے بارے میں مجھ سے وہاں کے لوگ ضرور سوال کریں گے تو آپ رضی اللہ عنہ اپنے واقعات تو مجھے بتا دیجئیے۔ فرمایا ہاں سنو { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس آ رہے تھے، راستے میں ہم لوگ ایک جگہ رکے، تو نماز کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اذان کہی، ہم نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا، کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں بھی آوازیں پڑ گئیں۔ سپاہی آیا اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ { تم سب میں زیادہ اونچی آواز کس کی تھی؟ } سب نے میری طرف اشارہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور فرمایا: { اٹھو اذان کہو }۔ واللہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہ تھی لیکن بے بس تھا، کھڑا ہو گیا، اب خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی اور جو سکھاتے رہے، میں کہتا رہا، پھر اذان پوری بیان کی، جب میں اذان سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی دے، جس میں چاندی تھی، پھر اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور پیٹھ تک لائے، پھر فرمایا: { اللہ تجھ میں اور تجھ پر اپنی برکت نازل کرے }۔
اب تو اللہ کی قسم میرے دل سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت بالکل جاتی رہی، ایسی محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل میں پیدا ہوگئی، میں نے آرزو کی کہ مکے کا مؤذن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو بنادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ درخواست منظور فرمالی اور میں مکے میں چلا گیا اور وہاں کے گورنر عتاب بن اسید سے مل کر اذان پر مامور ہوگیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:389]
ابو مخدورہ کا نام سمرہ بن مغیرہ بن لوذان تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چار مؤذنوں میں سے ایک آپ تھے اور لمبی مدت تک آپ اہل مکہ کے مؤذن رہے۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔
اب تو اللہ کی قسم میرے دل سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت بالکل جاتی رہی، ایسی محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل میں پیدا ہوگئی، میں نے آرزو کی کہ مکے کا مؤذن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو بنادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ درخواست منظور فرمالی اور میں مکے میں چلا گیا اور وہاں کے گورنر عتاب بن اسید سے مل کر اذان پر مامور ہوگیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:389]
ابو مخدورہ کا نام سمرہ بن مغیرہ بن لوذان تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چار مؤذنوں میں سے ایک آپ تھے اور لمبی مدت تک آپ اہل مکہ کے مؤذن رہے۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔