ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 120

لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا فِیۡہِنَّ ؕ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۲۰﴾٪
اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان میںہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
آسمان اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
En
اللہ ہی کی ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی اور ان چیزوں کی جو ان میں موجود ہیں اور وه ہر شے پر پوری قدرت رکھتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 120) سورت کے آخر میں نصاریٰ کی تردید کے سلسلہ میں یہ خاتمہ نہایت مناسب ہے، یعنی اکیلا وہی زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا (جن میں انسان بھی ہیں) بادشاہ ہے اور یہ حق بھی اسی کا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے، عیسیٰ علیہ السلام ہوں یا ان کی والدہ یا روح القدس، سب اس کے بندے ہیں، جو کسی طرح معبود ہونے میں اس کے شریک قرار نہیں دیے جا سکتے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

120۔ آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان میں ہے سب اللہ ہی کی ملکیت ہے [171] اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
[171] اس آیت میں سیدنا عیسیٰ ؑ اور سیدہ مریم دونوں کی الوہیت کی تردید کی دلیل ہے کیونکہ جو چیز کسی کی ملکیت ہو وہ اس کی مملوک یا غلام تو ہو سکتی ہے اس کی شریک نہیں ہو سکتی۔ نہ اسے اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک سمجھا جا سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موحدین کے لیے خوش خبریاں ٭٭
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہو گا، «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ» ۱؎ [9-التوبة:72]‏‏‏‏ فی الواقع رب کی رضا مندی زبردست چیز ہے ‘۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہے گا تم جو چاہو مجھ سے مانگو میں دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اپنی رضا مندی کا اظہار کرے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1256/4:ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے ’ یہ ایسی بے مثل کامیابی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ ‏‏‏‏[37-الصفات:61]‏‏‏‏ ’ اسی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کی کوشش کرنی چاہیئے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ» [83-المطففين:26]‏‏‏‏ ’ رغبت کرنے والے اس کی رغبت کر لیں ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ سب کا خالق، سب کا مالک، سب پر قادر، سب کا متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر چیز اسی کی ملکیت میں اسی کے قبضے میں اسی کی چاہت میں ہے، اس جیسا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا وزیر و مشیر ہے، نہ کوئی نظیر و عدیل ہے نہ اس کی ماں ہے، نہ باپ، نہ اولاد نہ بیوی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ کوئی اس کے سوا رب ہے ‘۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ما فرماتے ہیں۔ سب سے آخری سورت یہی سورۃ المائدہ اتری ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3063،قال الشيخ الألباني:-ضعیف]‏‏‏‏
(‏‏‏‏الحمداللہ سورۃ المائدہ کی تفسیر ختم ہوئی)