ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 119

قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ ؕ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۹﴾
اللہ فرمائے گا یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا، ان کے لیے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآباد ان میں بستے رہیں گے خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں یہ بڑی کامیابی ہے
En
اللہ ارشاد فرمائے گا کہ یہ وه دن ہے کہ جو لوگ سچے تھے ان کا سچا ہونا ان کے کام آئے گا ان کو باغ ملیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش اور یہ اللہ سے راضی اور خوش ہیں، یہ بڑی (بھاری) کامیابی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 119) ➊ {قَالَ اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ:} سب سے بڑا ظلم اور جھوٹ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور کفر کرنا ہے اور سب سے بڑا سچ اور انصاف اللہ تعالیٰ کی توحید اور ایمان ہے، یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔ یعنی مشرکین کی معافی اور بخشش کی کوئی صورت نہ ہوگی، البتہ توحید والوں کو ان کی توحید ضرور نفع پہنچائے گی، خواہ کتنے گناہ گار ہوں۔ چنانچہ ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک اس آیت کو نماز میں پڑھتے رہے: «اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ‏‏‏‏ [المائدۃ: ۱۱۸] ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ اس آیت کو ساری رات پڑھتے رہے، یہاں تک کہ اپنے رکوع اور سجدے میں بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت کو بار بار پڑھ کر میں نے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کی التجا کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے میری التجا قبول کر لی ہے، میری امت میں سے جو شخص بغیر شرک کی حالت میں مرے گا اس کو میری شفاعت نصیب ہو گی۔ [أحمد: ۵؍۱۴۹، ح: ۲۱۳۸۶] { الصّٰدِقِيْنَ } کے لیے مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۷)، سورۂ زمر (۳۳) اور سورۂ حجرات(۱۵)۔
➋ {ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ:} اس کے مقابلے میں دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی بھی کوئی وقعت نہیں رکھتی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

119۔ 1 حضرت ابن عباس ؓ نے اس کے معنی یہ بیان فرمائے ہیں، وہ دن ایسا ہوگا کہ صرف توحید ہی موحدین کو نفع پہنچائے گی، یعنی مشرکین کی معافی اور مغفرت کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

119۔ اللہ تعالیٰ (اس دعا کے جواب میں) فرمائے گا: ”یہ وہ دن ہے جس میں سچے لوگوں کو ان کا سچ ہی [170] نفع دے گا۔ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے
[170] سب سے سچی بات کلمہ توحید ہے :۔
اللہ تعالیٰ جواب فرمائیں گے آج عدل و انصاف کا دن ہے آج تو سچ اور سچی بات ہی کچھ فائدہ دے سکتی ہے اور سب سے سچی بات کلمہ توحید ہے یعنی جن لوگوں نے کسی کو اللہ کا شریک نہ سمجھا ہو پھر زندگی بھر راست بازی کے ساتھ اس پر قائم رہے ہوں۔ انہی کی نجات ہو سکتی ہے۔ انہیں ہی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اور طرح طرح کے انعامات سے نوازا جائے گا۔ ایسے لوگوں سے اللہ راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ اور چونکہ مقام رضائے الٰہی جنت ہی ہے۔ یہ انہیں بہرحال حاصل ہو جائے گی اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موحدین کے لیے خوش خبریاں ٭٭
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہو گا، «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ» ۱؎ [9-التوبة:72]‏‏‏‏ فی الواقع رب کی رضا مندی زبردست چیز ہے ‘۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہے گا تم جو چاہو مجھ سے مانگو میں دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اپنی رضا مندی کا اظہار کرے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1256/4:ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے ’ یہ ایسی بے مثل کامیابی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ۱؎ ‏‏‏‏[37-الصفات:61]‏‏‏‏ ’ اسی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کی کوشش کرنی چاہیئے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ» [83-المطففين:26]‏‏‏‏ ’ رغبت کرنے والے اس کی رغبت کر لیں ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ سب کا خالق، سب کا مالک، سب پر قادر، سب کا متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر چیز اسی کی ملکیت میں اسی کے قبضے میں اسی کی چاہت میں ہے، اس جیسا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا وزیر و مشیر ہے، نہ کوئی نظیر و عدیل ہے نہ اس کی ماں ہے، نہ باپ، نہ اولاد نہ بیوی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ کوئی اس کے سوا رب ہے ‘۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ما فرماتے ہیں۔ سب سے آخری سورت یہی سورۃ المائدہ اتری ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3063،قال الشيخ الألباني:-ضعیف]‏‏‏‏
(‏‏‏‏الحمداللہ سورۃ المائدہ کی تفسیر ختم ہوئی)