ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 102

قَدۡ سَاَلَہَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِکُمۡ ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِہَا کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
بے شک تم سے پہلے ان کے بارے میں کچھ لوگوں نے سوال کیا، پھر وہ ان سے کفر کرنے والے ہوگئے۔ En
اس طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہو گئے
En
ایسی باتیں تم سے پہلے اور لوگوں نے بھی پوچھی تھیں، پھر ان باتوں کے منکر ہوگئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 102) {قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ …:} یہ بنی اسرائیل کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ ان کا حال یہ تھا کہ اپنے انبیاء سے ایک چیز خواہ مخواہ کرید کرید کر دریافت کرتے اور جب وہ حرام قرار دے دی جاتی تو بجا نہ لاتے، اس طرح دونوں حالتوں میں نافرمان ٹھہرتے۔ یہ ساری آفت بلا ضرورت کثرتِ سوال سے پیش آتی۔ ان کی اس روش کی متعدد مثالیں سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، لہٰذا حج کرو۔ تو ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے، یہاں تک کہ اس نے تین بار یہی بات کہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو فرض ہو جاتا اور تم نہ کر سکتے۔ پھر فرمایا: مجھے چھوڑے رکھو جب تک میں تمھیں چھوڑے رکھوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنے سوالوں کی کثرت اور انبیاء سے اختلاف کی وجہ ہی سے ہلاک ہوئے، تو جب میں تمھیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس میں سے جتنا کر سکو کرو اور جب میں تمھیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اسے چھوڑ دو۔ [مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر: ۱۳۳۷]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 کہیں اس کوتاہی کے مرتکب تم بھی ہوجاؤ۔ جس طرح ایک مرتبہ نبی نے فرمایا اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے ایک شخص نے سوال کیا ' کیا ہر سال ـ' آپ خاموش رہے، اس نے تین مرتبہ سوال دہرایا پھر آپ نے فرمایا ' اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہوجاتا اور اگر ایسا ہوجاتا تو ہر سال حج کرنا تمہارے لئے ممکن نہ ہوتا ' تمہیں جن چیزوں کی بابت نہیں بتایا گیا، تم مجھ سے ان کی بابت سوال مت کرو، اس لئے کہ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا کثرت سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف بھی تھا '۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

102۔ تم سے پہلے [150] کچھ لوگوں نے ایسے ہی سوال کئے تھے پھر انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے
[150] شریعت کے اجمالی حکم کی جزئیات کا قیاس نہ کیا جائے :۔
یہ یہود تھے جنہوں نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کر کر کے انہیں پریشان کر رکھا تھا جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 108 سے واضح ہوتا ہے۔ کہ جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے پے در پے سوالات شروع کردیئے کہ ہمیں اللہ سے پوچھ کر بتاؤ کہ اس گائے کی عمر کیا ہو، اس کا رنگ کیسا ہو اس کی کیفیت کیسی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ اگر وہ کوئی بھی سوال نہ کرتے تو کوئی سی گائے ذبح کرنے میں آزاد تھے۔ مگر پے در پے سوال کرنے سے اپنے آپ پر پابندی ہی بڑھاتے گئے اور یہی زیادہ سوال کرنے کا نقصان ہوتا ہے۔ شریعت اگر ایک حکم اجمالاً بیان کرے تو اس کے اجمال سے فائدہ اٹھانے میں بھی مسلمانوں کے لئے آسانی ہے۔ اجتہاد و استنباط کر کے اس کی تفصیلات معین کر کے مسلمانوں کے لئے مشکلات کا یا الجھنوں کا سبب نہ بننا چاہیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔