ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحجرات (49) — آیت 5

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ صَبَرُوۡا حَتّٰی تَخۡرُجَ اِلَیۡہِمۡ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾
اور اگر وہ صبر کرتے، یہاں تک کہ تو ان کی طرف نکلتا تو یقینا ان کے لیے بہتر ہوتا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
En
اگر یہ لوگ یہاں تک صبر کرتے کہ آپ خود سے نکل کر ان کے پاس آجاتے تو یہی ان کے لئے بہتر ہوتا، اور اللہ غفور ورحیم ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) ➊ { وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ …:} یعنی اگر وہ آوازیں دینے کے بجائے صبر کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کا انتظار کرتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا، کیونکہ اس صبر و انتظار میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب ملحوظ رکھنے میں انھیں اجر و ثواب ملتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ خوش دلی کے ساتھ ان سے ملتے اور زیادہ بہتر طریقے سے ان کی ضرورتیں پوری فرماتے۔ ظاہر ہے جس شخص پر پوری امت کی ذمہ داری کا بوجھ ہے اور وہ ہر وقت اسی فکر و عمل میں مصروف ہے، اگر اس وقت جب وہ گھر میں ہے یہ خیال کیے بغیر کہ اس وقت وہ آرام کر رہا ہے یا گھر کے کسی کام میں مصروف ہے، آوازیں دینا شروع کر دیا جائے تو اس خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی جو صبر و انتظار کے ساتھ اس سے حاصل ہونا تھی۔ اس سے اساتذہ کرام، اہلِ علم اور مسلمانوں کے امراء و اکابر کے اکرام کی بھی تعلیم ملتی ہے۔
➋ { وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی حق تو یہ تھا کہ ان لوگوں کو ان کی اس بے ادبی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہ کوئی سزا ملتی، مگر چونکہ ان سے یہ فعل بے عقلی کی وجہ سے سرزد ہوا تھا، بدنیتی کی وجہ سے نہیں، اس لیے آخر میں اپنے غفور و رحیم ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی مغفرت کا اشارہ فرما دیا۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب زندہ تھے اور دیوار کے باہر سے آپ تک آواز بھی پہنچتی تھی اس وقت آپ کو آواز دینے والوں کو اللہ تعالیٰ نے بے عقل قرار دیا تو اب جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے اور یہ ممکن ہی نہ رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بات سنیں یا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ» [المؤمنون: ۱۰۰] اور ان کے پیچھے اس دن تک جب وہ اٹھائے جائیں گے، ایک پردہ ہے۔ تو جو لوگ اب ہزاروں میل دور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آوازیں دیتے ہیں اور آوازیں بھی اس مقصد کے لیے دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پورا نہیں کر سکتا، تو ان کے { لَا يَعْقِلُوْنَ } (بے عقل) ہونے میں کیا شبہ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے کا انتظار کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دینے میں جلدی نہ کرتے تو دین اور دنیا دونوں لحاظ سے بہتر ہوتا۔ 5۔ 2 اس لیے مواخذہ نہیں فرمایا بلکہ آئندہ کے لیے ادب و تعظیم کی تاکید بیان فرما دی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ اگر یہ لوگ صبر کرتے تا آنکہ آپ [5] ان کی طرف نکلتے تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔ اور اللہ تعالیٰ معاف [6] کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
[5] گھر سے بلانے میں ادب کے تقاضے، نبی سے انداز گفتگو شائستہ ہونا چاہئے :۔
بنو تمیم کے کچھ لوگ عین دوپہر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے۔ اور زور سے چلانے لگے: ”یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! باہر ہمارے پاس آئیے۔ ہماری بڑی اچھی شہرت ہے اور ہماری بڑائی بڑی ہے۔“ ان کے پکارنے کے انداز سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ بدو، غیر مہذب اور اجڈ قسم کے جنگلی لوگ تھے۔ جنہیں نہ گھر سے بلانے کا سلیقہ آتا تھا اور نہ گفتگو کرنے کا وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو ہی بہت کچھ سمجھتے تھے۔ غالباً یہ لوگ مسلمان ہو چکے تھے اور اپنے قبیلے کے لئے ایک سردار کی تقرری کی درخواست لے کر آئے تھے۔ جیسا کہ اسی سورۃ کے حاشیہ نمبر 2 میں درج شدہ حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ پھر یہ بات صرف انہی لوگوں پر ہی موقوف نہ تھی۔ اکثر بدو لوگ اسی بھونڈے انداز میں آپ کو گھر سے بلاتے اور گفتگو کرتے تھے اور آپ اپنی طبعی شرم و حیا کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہتے تھے۔ ایسے ناشائستہ، ان گھڑ اور بے وقوف قسم کے انسانوں کو اس آیت کے ذریعہ تنبیہ کی گئی ہے کہ جب وہ رسول سے مخاطب ہوں تو اس بات کو ملحوظ رکھیں کہ جس سے وہ بات کرنا چاہتے ہیں وہ ایک عام آدمی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا رسول اور اس کا نمائندہ ہے۔ جس کی شان دنیا کے افسروں اور بادشاہوں سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ اگر تم اس کی شان میں بے ادبی یا گستاخی کرو تو تمہیں اپنے ایمان ہی کی خیر منانی پڑے۔ لہٰذا تم لوگوں کے لئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے بلانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ حجرہ کے باہر کھڑے ہو کر اندر اطلاع بھجواؤ یا مہذب طریقے سے آواز دو۔ پھر کچھ انتظار کرو۔ ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے کام میں مصروف ہوں۔ پھر جب وہ باہر آئیں تو جو کہنا ہو مہذب طریقہ سے بات کرو۔
[6] یعنی اگر تم آئندہ ان آداب کو ملحوظ رکھو گے تو اللہ تمہاری سابقہ خطائیں معاف فرما دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آداب خطاب ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں۔ جس طرح اعراب میں دستور تھا تو فرمایا کہ ’ ان میں سے اکثر بےعقل ہیں ‘۔
پھر اس کی بابت ادب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ چاہیئے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ مکان سے باہر نکلتے تو آپ سے جو کہنا ہوتا کہتے ‘، نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے۔ دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی۔
پھر حکم دیتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو توبہ استغفار کرنا چاہیئے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے ‘۔ یہ آیت اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا، آپ کا نام لے کر پکارا یا محمد! یا محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تو اس نے کہا: سنئے، یا رسول اللہ! میرا تعریف کرنا بڑائی کا سبب ہے اور میرا مذمت کرنا ذلت کا سبب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی ذات محض اللہ تعالیٰ کی ہی ہے۱؎ [مسند احمد:488/3:صحیح لغیرہ]‏‏‏‏
بشر بن غالب نے حجاج کے سامنے بشر بن عطارد وغیرہ سے کہا کہ تیری قوم بنو تمیم کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ جب سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ عالم ہوتے تو اس کے بعد کی آیت «يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم بَلِ اللَّـهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [49-الحجرات:17]‏‏‏‏ پڑھ دیتے یعنی ’ اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو ‘ اور بنو اسد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کرنے میں کچھ دیر نہیں کی۔
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { کچھ عرب جمع ہوئے اور کہنے لگے ہمیں اس شخص کے پاس لے چلو اگر وہ سچا نبی ہے تو سب سے زیادہ اس سے سعادت حاصل کرنے کے مستحق ہم ہیں اور اگر وہ بادشاہ ہے تو ہم اس کے پروں تلے پل جائیں گے۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا پھر وہ لوگ آئے اور حجرے کے پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر آپ کو پکارنے لگے، اس پر یہ آیت اتری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان پکڑ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/11:حسن]‏‏‏‏