ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفتح (48) — آیت 8

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ۙ﴿۸﴾
بے شک ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اورڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ En
اور ہم نے (اے محمدﷺ) تم کو حق ظاہر کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خوف دلانے والا (بنا کر) بھیجا ہے
En
یقیناً ہم نے تجھے گواہی دینے واﻻ اور خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8) {اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا:} سورت کے شروع سے یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے لیے فتح و نصرت، مغفرت، تکفیر سیئات اور جنت میں داخلے کی بشارت اور وعدے کا بیان ہے، جس کے ساتھ منافقین و کفار کے لیے عذاب، غضب، لعنت اور جہنم میں داخلے کی وعید کا بیان ہے۔ اب یہاں سے اس فتح مبین کے مختلف پہلوؤں کی تفصیل کا آغاز ہوتا ہے جس کی تمہید کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و منصب بیان فرمایا، تاکہ مسلمان اسے پہچانیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور جاں نثاری میں کوئی دریغ نہ کریں۔ چنانچہ فرمایا کہ ہم نے آپ کو دنیا میں لوگوں کے سامنے حق کی شہادت دینے والا، اسے تمام لوگوں تک پہنچا دینے والا، آخرت میں ان پر پیغام حق پہنچا دینے کی شہادت دینے والا، فرماں برداروں کو بشارت دینے والا اور نافرمانوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اس مقام پر اصل مقصود فتح کی بشارت اور اس سے متعلقہ معاملات ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں صرف تین الفاظ { شَاهِدًا ، مُبَشِّرًا } اور { نَذِيْرًا } بیان فرمائے، جبکہ سورۂ احزاب میں مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے متبنیّٰ زید رضی اللہ عنہ کی مطلقہ زینب رضی اللہ عنھا سے نکاح اور دوسرے معاملات پر منافقین کی اڑائی ہوئی گرد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پاک کرنا ہے، اس لیے وہاں سورۂ احزاب (۴۶) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ تعریف فرمائی اور ان تینوں اوصاف کے ساتھ { وَ دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا } (اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے اذن سے اور روشنی کرنے والا چراغ) بھی فرمایا۔ (ابن عاشور) { شَاهِدًا } کی تفسیر کے لیے مزید دیکھیے سورۂ احزاب (۴۵)، بقرہ (۱۴۳) اور سورۂ نساء (۴۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ (اے نبی!) ہم نے آپ کو شہادت دینے والا، بشارت [8] دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
[8] اس آیت کی تشریح کے لئے سورۃ احزاب کی آیت نمبر 45 کے حواشی ملاحظہ فرما لیجئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آنکھوں دیکھا گواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو فرماتا ہے ہم نے تمہیں مخلوق پر شاہد بنا کر، مومنوں کو خوشخبریاں سنانے والا، کافروں کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اس آیت کی پوری تفسیر سورۃ الاحزاب میں گزر چکی ہے۔ تاکہ اے لوگو! اللہ پر اور اس کے نبی پر ایمان لاؤ اور اس کی عظمت و احترام کرو، بزرگی اور پاکیزگی کو تسلیم کرو اور اس لیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی صبح شام تسبیح کرو۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تعظیم و تکریم بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل خود اللہ تعالیٰ سے ہی بیعت کرتے ہیں۔
جیسے ارشاد ہے «مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ وَمَن تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا» [4-النساء:80]‏‏‏‏ یعنی ’ جس نے رسول (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کی اس نے اللہ کا کہا مانا ‘۔
’ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے ‘ یعنی وہ ان کے ساتھ ہے، ان کی باتیں سنتا ہے، ان کا مکان دیکھتا ہے ان کے ظاہر باطن کو جانتا ہے۔ پس دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ان سے بیعت لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
جیسے فرمایا «اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ» ۱؎ [9-التوبة:111]‏‏‏‏ ’ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اور ان کے بدلے میں جنت انہیں دے دی ہے۔ ‘
وہ راہ اللہ میں جہاد کرتے ہیں، مرتے ہیں اور مارتے ہیں اللہ کا یہ سچا وعدہ تورات و انجیل میں بھی موجود ہے اور اس قرآن میں بھی، سمجھ لو کہ اللہ سے زیادہ سچے وعدے والا کون ہو گا؟ پس تمہیں اس خرید فروخت پر خوش ہو جانا چاہیئے دراصل سچی کامیابی یہی ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے راہ اللہ میں تلوار اٹھا لی اس نے اللہ سے بیعت کر لی۱؎
اور حدیث میں ہے { حجر اسود کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کھڑا کرے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھے گا اور زبان ہو گی جس سے بولے گا اور جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہے اس کی گواہی دے گا اسے بوسہ دینے والا دراصل اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنے والا ہے۱؎ [کنز العمال:10485،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔