مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا ۫ سِیۡمَاہُمۡ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ ۚۖۛ وَ مَثَلُہُمۡ فِی الۡاِنۡجِیۡلِ ۚ۟ۛ کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿٪۲۹﴾
محمد اللہ کا رسول ہے اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں، تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے، سجدے کرنے کے اثر سے۔ یہ ان کا وصف تورات میں ہے اور انجیل میں ان کا وصف اس کھیتی کی طرح ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے بڑی بخشش اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔
En
محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے
En
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اﺛر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے، مثل اسی کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وه موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ﺛواب کا وعده کیا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 29) ➊ {مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ” لفظ {” مُحَمَّدٌ “} مبتدا اور {” رَسُوْلُ اللّٰهِ “} خبر ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ”رسول اللہ“ کہنے کے بعد اور کسی تعریف کی ضرورت نہیں سمجھی، کیونکہ اس میں تمام انسانی کمال اور خوبیاں آ جاتی ہیں۔ اس لیے آگے {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ “} کی صفت بیان فرمائی ہے۔“ اس مقام پر اس جملے سے کئی باتیں واضح ہو رہی ہیں، ایک یہ کہ قرآن مجید میں عموماً آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب یا آپ کا ذکرِ خیر آپ کے نام کے بجائے آپ کے القاب کے ساتھ ہوا ہے، مثلاً {” يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ “، ” يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ “، ” شَاهِدًا “، ” مُبَشِّرًا “، ” نَذِيْرًا “،” دَاعِيًا اِلَي اللّٰهِ “} اور{” سِرَاجًا مُّنِيْرًا “} وغیرہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ”محمد“ صرف چار جگہ آیا ہے، دیکھیے سورئہ آل عمران (۱۴۴)، احزاب (۴۰)، سورۂ محمد(۲) اور زیر تفسیر آیت۔ ان چاروں مقامات میں آپ کا نام لانے میں کوئی نہ کوئی حکمت ہے۔ یہاں حکمت یہ ہے کہ اس بات کا اعلان کر دیا جائے کہ اگر کفارِ مکہ نے حمیتِ جاہلیت میں آ کر اصرار کیا ہے کہ معاہدے میں ”محمد رسول اللہ“ نہ لکھو اوران کے اصرار پر صلح کی خاطر ”محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب“ لکھ دیا گیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، کفار کے نہ ماننے سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ دوسرا مقصد اس سوال کا جواب دینا ہے کہ تمام ادیان پر یہ دین کیسے غالب ہو گا؟ فرمایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام دینوں پر غلبہ اپنے ذاتی کمال یا ذاتی جد و جہد کی وجہ سے نہیں ہو گا بلکہ اس لیے ہو گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ”رسول اللہ“ ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں، جنھیں اس نے بھیجا ہی اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرنے کے لیے ہے، پھر اللہ کے بھیجے ہوئے کو غالب آنے سے کون روک سکتا ہے؟
➋ { وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ:} اس میں ان پاکباز ہستیوں کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس ہدایت اور دین حق کو روئے زمین پر غالب کرنے والا تھا۔ {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ “} (وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں) اس لفظ میں تمام صحابہ کرام شامل ہیں، خواہ انھیں آپ کے ساتھ رہنے کی لمبی مدت ملی ہو یا تھوڑی۔ حدیبیہ میں جو لوگ آپ کے ساتھ تھے وہ اس لفظ کا اوّلین مصداق ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ایسی اکسیر تھی کہ جس مومن کو حاصل ہو گئی اس کی طبیعت کا رنگ ہی بدل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں شہادت اور جنت کا ایسا شوق عطا فرمایا، انھیں ایسی شجاعت بخشی اور ان میں ایسی برکت رکھی کہ جب وہ حملہ آور ہوتے تو دشمن چند لمحوں میں بھاگ کھڑا ہوتا، کسی لشکر میں ایک صحابی کی موجودگی اس کی فتح کی ضمانت سمجھی جاتی۔ ان سے ملنے والوں میں بھی یہی برکت تھی۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَأْتِيْ زَمَانٌ يَغْزُوْ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ] [بخاري، الجھاد والسیر، باب من استعان بالضعفاء والصالحین في الحرب: ۲۸۹۷] ”لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا: ”کیا تم میں کوئی شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں!“ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا: ”کیا تم میں کوئی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے ساتھ رہا ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں!“ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا: ”کیا تم میں کوئی ہے جو اس کے ساتھ رہا ہو جو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں!“ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔“
➌ { وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ:} جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا کہ {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ “} (وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں) سے مراد سب سے پہلے وہ صحابہ ہیں جنھوں نے بیعتِ رضوان کی، پھر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں خواہ انھیں ایک لمحہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہوا ہو۔ مفسر بقاعی نے فرمایا: {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ “} میں وہ تمام مسلمان بھی شامل ہیں جنھیں احسان اور نیکی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے کی وجہ سے آپ کے ساتھ ہونے کا شرف حاصل ہے۔“ پچھلے فائدے میں مذکور حدیث سے مفسر بقاعی کی اس بات کی تائید ہوتی ہے اور قرآن مجید میں صاف الفاظ میں احسان اور نیکی کے ساتھ اتباع کرنے والوں کو سابقون اوّلون کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت میں داخلے کی بشارت دی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے سورۂ توبہ کی آیت (۱۰۰): «وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ» کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔ زیر تفسیر آیت میں کھیتی کی مثال صحابہ کے ساتھ قیامت تک ان کے پیروکاروں کو بھی ملانے سے پوری طرح مکمل ہوتی ہے۔
➍ { اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ:} ان الفاظ میں صحابہ کرام اور امتِ مسلمہ کی تعریف فرمائی ہے کہ ان کا اللہ اور اس کے رسول پر ایسا ایمان ہے کہ ان کی دوستی اور دشمنی کے جذبات بھی ان کے ایمان کے تابع ہو گئے ہیں۔ کوئی کافر ہے تو وہ اس کے دشمن اور اس کے مقابلے میں نہایت سخت ہیں اور اگر کوئی مومن ہے تو وہ اس کے دلی دوست اور اس پر بے حد مہربان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار پر سختی کرنے اور ان کے ساتھ جہاد کا حکم دیا، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ» [التوبۃ: ۷۳] ”اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کر اور ان پر سختی کر اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔“ اور مسلمانوں کو بھی یہی حکم دیا، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً» [التوبۃ: ۱۲۳] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں سے تمھارے قریب ہیں اور لازم ہے کہ وہ تم میں کچھ سختی پائیں۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ایمان والوں کا کفار کے ساتھ تعلق ان کے ایمان لانے تک ابدی عداوت و بغض کا ہے، خواہ وہ کفار ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا قریبی رشتہ دار ہوں۔ دیکھیے سورۂ ممتحنہ کی پہلی چار آیات اور سورۂ مجادلہ کی آخری آیت۔
اس کے مقابلے میں ایمان والوں پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے حد مہربان اور شفیق تھے، جیسا کہ فرمایا: «لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [التوبۃ: ۱۲۸]”بلاشبہ یقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ اور ایمان والوں کی صفت بھی یہی ہے، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّوْنَهٗۤ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىِٕمٍ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» [المائدۃ: ۵۴] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ عنقریب ایسے لوگ لائے گا کہ وہ ان سے محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے، مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت، اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَرَی الْمُؤْمِنِيْنَ فِيْ تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكٰی عُضْوًا تَدَاعٰی لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمّٰی] [بخاري، الأدب، باب رحمۃ الناس والبہائم: ۶۰۱۱] ”تو ایمان والوں کو ان کے ایک دوسرے پر رحم، ایک دوسرے سے دوستی اور ایک دوسرے پر شفقت میں ایک جسم کی طرح دیکھے گا، جب اس کا کوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم اس کی وجہ سے بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا] [بخاري، المظالم، باب نصر المظلوم: ۲۴۴۶] ”مومن مومن کے لیے ایک دیوار کی طرح ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔“
➎ واضح رہے کہ کافروں پر سخت ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کبھی کسی کافر پر رحم نہیں کرتے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس موقع پر اللہ اور اس کے رسول کا حکم کفار پر سختی کرنے کا ہوتا ہے وہاں ان کو رشتے ناتے یا دوستی وغیرہ کے علاقے اس کام میں مانع نہیں ہوتے اور جہاں تک ان کے ساتھ رحم و کرم کے معاملے کا تعلق ہے تو خود قرآن نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے، فرمایا: «لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ لَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَيْهِمْ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ (8) اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» [الممتحنۃ: 9،8] ”اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تو تمھیں انھی لوگوں سے منع کرتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا اور تمھارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم ان سے دوستی کرو۔ اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔“ یعنی جو کفار مسلمانوں کے لیے باعث آزار اور ان کے ساتھ برسر جنگ نہیں ان کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کرنے سے اللہ تعالیٰ منع نہیں کرتا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے بے شمار واقعات ہیں جن میں ضعیف و مجبور یا ضرورت مند کفار کے ساتھ احسان و کرم کے معاملات کیے گئے ہیں۔ ان کے معاملہ میں عدل و انصاف کو برقرار رکھنا تو اسلام کا عام حکم ہے، عین میدان کار زار میں بھی عدل و انصاف کے خلاف کوئی کار روائی جائز نہیں۔
➏ {تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا:} پچھلے جملے {” اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ “} میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا لوگوں کے ساتھ معاملہ ذکر فرمایا اور اس جملے میں ان کا اللہ کے ساتھ تعلق بیان فرمایا کہ تو انھیں رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھے گا۔ ان کے اکثر اوقات نماز کے مبارک عمل میں گزرتے ہیں جو آدمی کو اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب کرنے والا عمل ہے، کیونکہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: [أَقْرَبُ مَا يَكُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ] [مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟: ۴۸۲] ”بندہ اپنے رب کے سب سے قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے۔ تو بہت زیادہ دعا کیا کرو۔“ ان کے دل مسجد کے ساتھ ہی معلق ہوتے ہیں، روزانہ پانچ مرتبہ اللہ کے گھر میں آ کر یہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور وہاں سے نکلتے ہیں تو دھیان ادھر ہی رہتا ہے، پھر رات کو بھی قیام کرتے ہیں۔
➐ { يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا:} چونکہ رکوع و سجود ریا کے لیے بھی ہو سکتے ہیں اس لیے اس جملے میں صحابہ کرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ساتھیوں کے اخلاص کی شہادت دی ہے کہ ان کے رکوع و سجود ریا یا دکھلاوے کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتوں اور اس کی رضا کی طلب کے لیے ہوتے ہیں۔ اس میں ان کی ہمت کی بلندی کا بھی بیان ہے کہ وہ اعلیٰ چیز کے طلب گار ہیں جس سے بڑی کوئی چیز نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ» [التوبۃ: ۷۲]”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی و رضا سب سے بڑی چیز ہے۔“ دنیائے دنی یا دوسری ادنیٰ چیزیں ان کی بلند نگاہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔
➑ { سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ:} بعض لوگوں نے سجدے کے اثر سے مراد پیشانی پر پڑنے والا گٹا لیا ہے، جسے عام طور پر محراب کہا جاتا ہے۔ کسی مخلص مسلمان کے ماتھے پر سجدے کی رگڑ سے پڑنے والا نشان بھی یقینا اس شناخت میں شامل ہے، مگر یہاں اس سے مراد وہ رونق اور حسن و شرافت کے آثار ہیں جو اخلاص، حسن نیت، خشیت و خشوع اور نماز کی کثرت سے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اگر دو آدمی رات بھر بیدار رہیں، ایک شراب نوشی اور گناہ کے کاموں میں مصروف رہے، دوسرا نماز یا قرآن کی تلاوت اور ذکر میں مصروف رہے تو صبح دونوں کے چہروں میں صاف فرق نظر آئے گا۔ یہی فرق سچے و جھوٹے، دغا باز و باوفا، ظالم و عادل، بدکار و پاک دامن اور متکبر و متواضع کے چہروں پر نمایاں ہوتا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے: [{” سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ “} يَعْنِي السَّمْتَ الْحَسَنَ] [طبری: ۳۱۸۹۱] ”یعنی اس سے مراد خوب صورت انداز اور ہیئت ہے۔“ ابن کثیر میں ہے، منصور نے مجاہد سے سنا کہ اس سے مراد خشوع ہے۔ منصور کہتے ہیں، میں نے کہا، میں تو اس سے مراد وہی نشان سمجھتا تھا جو چہرے پر پڑ جاتا ہے، تو انھوں نے فرمایا: ”وہ نشان تو بعض اوقات ایسے لوگوں کے ماتھے پر بھی ہوتا ہے جو فرعون سے بھی زیادہ سنگ دل ہوتے ہیں۔“ خلاصہ یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے چہروں پر، صحابہ ہوں یا ان کے متبعین، خاص قسم کا نور اور رونق ہوتی ہے جس سے وہ دوسرے تمام لوگوں سے الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہاں بعض مفسرین نے ایک روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کی ہے: [مَنْ كَثُرَ صَلَاتُهُ بِاللَّيْلِ حَسُنَ وَجْهُهُ بِالنَّهَارِ] ”جو شخص رات کو کثرت سے نماز پڑھے دن کو اس کا چہرہ خوبصورت ہو گا۔“ مگر اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، بلکہ یہ ایک راوی شریک کا قول ہے۔
➒ { ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ: ”مَثَلٌ“} کا معنی مثال بھی ہوتا ہے اور وصف بھی، یہاں مراد وصف ہے، یعنی ان کا یہ وصف کہ سجدے اور عبادت کی تاثیر سے ان کی شناخت ان کے چہروں سے ظاہر ہوتی ہے، یہ تورات میں بیان ہوا ہے۔ اس وقت یہود و نصاریٰ کے ہاتھ میں جو تورات ہے اگرچہ انھوں نے اس میں کئی طرح کی تحریف کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی صفات اکثر حذف کر دی ہیں اور بعض میں تبدیلی کر دی ہے، اس کے باوجود اس کی پانچویں کتاب ”استثنا“ کے باب (۳۳) اور فقرہ (۲) میں ہے: ”خداوند سینا سے آیا اور سعیر سے ان پر طلوع ہوا، فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا، دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشیں شریعت ان کے لیے تھی۔“ اس پیش گوئی کا مصداق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ اس میں جبل فاران سے جلوہ گر ہونے اور دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آنے کا صاف حوالہ موجود ہے اور یہ مسلّم بات ہے کہ فاران حجاز کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار صحابہ کے ساتھ آئے تھے۔ ظاہر ہے قدوسیوں سے مراد اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ صفات اور عبادت گزار بندے ہیں، قرآن مجید میں اس کی جگہ {” تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ “} کے الفاظ ہیں۔ اور آتشیں شریعت کے بجائے {” اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ“} کہہ کر جہادی شریعت کا ذکر فرمایا ہے۔
تنبیہ: ”دس ہزار“ کے الفاظ بائبل کے سابقہ ایڈیشنوں میں موجود ہیں، حالیہ ایڈیشنوں میں تحریف کر کے بعض سے یہ عدد نکال دیا گیا ہے اور بعض میں اسے ”لاکھوں“ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
➓ { وَ مَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ …:} تورات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے تقویٰ و تقدس، جہادی شریعت اور ان کے غلبہ و اقتدار کی صفت بیان ہوئی ہے اور انجیل میں امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتدریج قلت سے کثرت کی طرف اور کمزوری سے قوت کی طرف بڑھنے کو مثال کے ساتھ واضح فرمایا ہے کہ ان کی ابتدا اگرچہ کمزور ہو گی لیکن آخر کار وہ ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کر جائیں گے جس کے سائے میں بڑی بڑی قومیں پناہ لیں گی۔ چنانچہ انجیل متی، باب (۱۳)، فقرہ (۳ تا ۹) میں یہ مثال اس طرح بیان ہوئی ہے: ”اس (مسیح) نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کرکے کہا کہ آسمان کی بادشاہت اس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا، وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے لیکن جب بڑھ جاتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا ہوتا ہے اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔“ یہی مثال الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ انجیل مرقس، باب (۴)، فقرہ (۳۔۹) اور انجیل لوقا، باب (۱۳)، فقرہ (۱۸۔ ۲۱) میں بھی آئی ہے۔ (منقول از تفسیر ثنائی)
قرآن مجید میں کھیتی کی مثال دینے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حدیبیہ والے سال تم مکہ میں داخل نہیں ہو سکے تو اس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں اور تمھیں یہ سبق سکھانا بھی مقصود ہے کہ اسلام کا عروج و کمال یک لخت نہیں بلکہ تدریج کے ساتھ ہو گا، جیسا کہ کھیتی بتدریج کمال کو پہنچتی ہے۔ پہلے وہ بیج سے نازک سی کونپل یا سوئی نکالتی ہے، پھر اسے مضبوط کرتی ہے، پھر خوب موٹی ہو جاتی ہے، پھر اس کا پودا اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے، پھر اس کے ساتھ اور پودے اگتے چلے جاتے ہیں اور کھیت بھر جاتا ہے جس سے کاشت کرنے والوں کا دل خوش ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک دن آنے والا ہے کہ ہدایت اور دین حق کی یہ کھیتی جو اوّل اوّل سر زمین عرب میں کاشت کی گئی، اپنے کمال کو پہنچے گی، مشرق و مغرب اس سے بھر جائیں گے، اپنی آبیاری اور دیکھ بھال کرنے والوں کے دلوں کو خوش کرے گی اور ان لوگوں کے دلوں کو غم و غصہ سے جلائے گی جنھوں نے اس کی نشوونما کو روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔
⓫ { لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ: ” لِيَغِيْظَ “} کا لام فعل مقدر کے متعلق ہے جو گزشتہ عبارت سے خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے: {” أَيْ جَعَلَهُمُ اللّٰهُ كَذٰلِكَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ“} یعنی اللہ تعالیٰ صحابہ کرام اور ان کے متبعین کو اس طرح بتدریج کمال و عروج تک پہنچائے گا، تاکہ ان کے ساتھ کفار کو غصہ دلائے اور ان کے دلوں کو جلائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو دعوتِ حق لے کر آئے اسے قبول کرنے والے اور اسے پوری دنیا پر غالب کرنے کے لیے اپنی جان، اپنا مال اور سب کچھ قربان کرنے والے صحابہ کرام تھے اور ان کے بعد ان سے محبت رکھنے والے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تابعین اور بعد کے لوگ تھے جن کے ذریعے سے یہ دین حق ساری دنیا میں پھیلا اور غالب ہوا۔ ایمان والوں کے دل صحابہ کرام اور ان کے متبعین کے حالات دیکھ کر اور سن کر خوش ہوتے ہیں اور کفار کے دل انھیں دیکھ کر اور ان کے حالات سن کر غصے سے بھر جاتے ہیں اور جل اٹھتے ہیں۔ تفسیر التحریر والتنویر (۲۶؍۱۷۷) میں ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: [مَنْ أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ فِيْ قَلْبِهِ غَيْظٌ عَلٰی أَحَدٍ مِّنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ أَصَابَتْهُ هٰذِهِ الْآيَةُ] ”لوگوں میں سے جس شخص کے دل میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی ایک پر بھی غصہ اور جلن ہو، یہ آیت اس پر یقینا لاگو ہوتی ہے۔“ ابنِ عاشور نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ امام مالک پر رحم کرے، ان کا استنباط کس قدر باریک ہے۔ “
⓬ {وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ …:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اور کھیتی کی کہاوت یہ کہ اوّل ایک آدمی تھا اس دین پر، پھر دو ہوئے پھر قوت بڑھتی گئی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اور خلیفوں کے اور یہ وعدہ دیا ان کو جو ایمان لائے اور بھلے کام کرتے ہیں۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب اصحاب ایسے ہی تھے، مگر خاتمہ کا اندیشہ رکھا۔ حق تعالیٰ بندوں کو ایسی خوش خبری نہیں دیتا کہ نڈر ہو جائیں، مالک سے اتنی شاباش بھی غنیمت ہے۔“
➋ { وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ:} اس میں ان پاکباز ہستیوں کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس ہدایت اور دین حق کو روئے زمین پر غالب کرنے والا تھا۔ {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ “} (وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں) اس لفظ میں تمام صحابہ کرام شامل ہیں، خواہ انھیں آپ کے ساتھ رہنے کی لمبی مدت ملی ہو یا تھوڑی۔ حدیبیہ میں جو لوگ آپ کے ساتھ تھے وہ اس لفظ کا اوّلین مصداق ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ایسی اکسیر تھی کہ جس مومن کو حاصل ہو گئی اس کی طبیعت کا رنگ ہی بدل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں شہادت اور جنت کا ایسا شوق عطا فرمایا، انھیں ایسی شجاعت بخشی اور ان میں ایسی برکت رکھی کہ جب وہ حملہ آور ہوتے تو دشمن چند لمحوں میں بھاگ کھڑا ہوتا، کسی لشکر میں ایک صحابی کی موجودگی اس کی فتح کی ضمانت سمجھی جاتی۔ ان سے ملنے والوں میں بھی یہی برکت تھی۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَأْتِيْ زَمَانٌ يَغْزُوْ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ] [بخاري، الجھاد والسیر، باب من استعان بالضعفاء والصالحین في الحرب: ۲۸۹۷] ”لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا: ”کیا تم میں کوئی شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں!“ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا: ”کیا تم میں کوئی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے ساتھ رہا ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں!“ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا: ”کیا تم میں کوئی ہے جو اس کے ساتھ رہا ہو جو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں!“ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔“
➌ { وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ:} جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا کہ {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ “} (وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں) سے مراد سب سے پہلے وہ صحابہ ہیں جنھوں نے بیعتِ رضوان کی، پھر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں خواہ انھیں ایک لمحہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہوا ہو۔ مفسر بقاعی نے فرمایا: {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ “} میں وہ تمام مسلمان بھی شامل ہیں جنھیں احسان اور نیکی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے کی وجہ سے آپ کے ساتھ ہونے کا شرف حاصل ہے۔“ پچھلے فائدے میں مذکور حدیث سے مفسر بقاعی کی اس بات کی تائید ہوتی ہے اور قرآن مجید میں صاف الفاظ میں احسان اور نیکی کے ساتھ اتباع کرنے والوں کو سابقون اوّلون کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت میں داخلے کی بشارت دی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے سورۂ توبہ کی آیت (۱۰۰): «وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ» کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔ زیر تفسیر آیت میں کھیتی کی مثال صحابہ کے ساتھ قیامت تک ان کے پیروکاروں کو بھی ملانے سے پوری طرح مکمل ہوتی ہے۔
➍ { اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ:} ان الفاظ میں صحابہ کرام اور امتِ مسلمہ کی تعریف فرمائی ہے کہ ان کا اللہ اور اس کے رسول پر ایسا ایمان ہے کہ ان کی دوستی اور دشمنی کے جذبات بھی ان کے ایمان کے تابع ہو گئے ہیں۔ کوئی کافر ہے تو وہ اس کے دشمن اور اس کے مقابلے میں نہایت سخت ہیں اور اگر کوئی مومن ہے تو وہ اس کے دلی دوست اور اس پر بے حد مہربان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار پر سختی کرنے اور ان کے ساتھ جہاد کا حکم دیا، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ» [التوبۃ: ۷۳] ”اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کر اور ان پر سختی کر اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔“ اور مسلمانوں کو بھی یہی حکم دیا، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً» [التوبۃ: ۱۲۳] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں سے تمھارے قریب ہیں اور لازم ہے کہ وہ تم میں کچھ سختی پائیں۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ایمان والوں کا کفار کے ساتھ تعلق ان کے ایمان لانے تک ابدی عداوت و بغض کا ہے، خواہ وہ کفار ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا قریبی رشتہ دار ہوں۔ دیکھیے سورۂ ممتحنہ کی پہلی چار آیات اور سورۂ مجادلہ کی آخری آیت۔
اس کے مقابلے میں ایمان والوں پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے حد مہربان اور شفیق تھے، جیسا کہ فرمایا: «لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [التوبۃ: ۱۲۸]”بلاشبہ یقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ اور ایمان والوں کی صفت بھی یہی ہے، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّوْنَهٗۤ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىِٕمٍ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» [المائدۃ: ۵۴] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ عنقریب ایسے لوگ لائے گا کہ وہ ان سے محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے، مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت، اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَرَی الْمُؤْمِنِيْنَ فِيْ تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكٰی عُضْوًا تَدَاعٰی لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمّٰی] [بخاري، الأدب، باب رحمۃ الناس والبہائم: ۶۰۱۱] ”تو ایمان والوں کو ان کے ایک دوسرے پر رحم، ایک دوسرے سے دوستی اور ایک دوسرے پر شفقت میں ایک جسم کی طرح دیکھے گا، جب اس کا کوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم اس کی وجہ سے بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا] [بخاري، المظالم، باب نصر المظلوم: ۲۴۴۶] ”مومن مومن کے لیے ایک دیوار کی طرح ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔“
➎ واضح رہے کہ کافروں پر سخت ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کبھی کسی کافر پر رحم نہیں کرتے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس موقع پر اللہ اور اس کے رسول کا حکم کفار پر سختی کرنے کا ہوتا ہے وہاں ان کو رشتے ناتے یا دوستی وغیرہ کے علاقے اس کام میں مانع نہیں ہوتے اور جہاں تک ان کے ساتھ رحم و کرم کے معاملے کا تعلق ہے تو خود قرآن نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے، فرمایا: «لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ لَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَيْهِمْ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ (8) اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» [الممتحنۃ: 9،8] ”اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تو تمھیں انھی لوگوں سے منع کرتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا اور تمھارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم ان سے دوستی کرو۔ اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔“ یعنی جو کفار مسلمانوں کے لیے باعث آزار اور ان کے ساتھ برسر جنگ نہیں ان کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کرنے سے اللہ تعالیٰ منع نہیں کرتا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے بے شمار واقعات ہیں جن میں ضعیف و مجبور یا ضرورت مند کفار کے ساتھ احسان و کرم کے معاملات کیے گئے ہیں۔ ان کے معاملہ میں عدل و انصاف کو برقرار رکھنا تو اسلام کا عام حکم ہے، عین میدان کار زار میں بھی عدل و انصاف کے خلاف کوئی کار روائی جائز نہیں۔
➏ {تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا:} پچھلے جملے {” اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ “} میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا لوگوں کے ساتھ معاملہ ذکر فرمایا اور اس جملے میں ان کا اللہ کے ساتھ تعلق بیان فرمایا کہ تو انھیں رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھے گا۔ ان کے اکثر اوقات نماز کے مبارک عمل میں گزرتے ہیں جو آدمی کو اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب کرنے والا عمل ہے، کیونکہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: [أَقْرَبُ مَا يَكُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ] [مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟: ۴۸۲] ”بندہ اپنے رب کے سب سے قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے۔ تو بہت زیادہ دعا کیا کرو۔“ ان کے دل مسجد کے ساتھ ہی معلق ہوتے ہیں، روزانہ پانچ مرتبہ اللہ کے گھر میں آ کر یہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور وہاں سے نکلتے ہیں تو دھیان ادھر ہی رہتا ہے، پھر رات کو بھی قیام کرتے ہیں۔
➐ { يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا:} چونکہ رکوع و سجود ریا کے لیے بھی ہو سکتے ہیں اس لیے اس جملے میں صحابہ کرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ساتھیوں کے اخلاص کی شہادت دی ہے کہ ان کے رکوع و سجود ریا یا دکھلاوے کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتوں اور اس کی رضا کی طلب کے لیے ہوتے ہیں۔ اس میں ان کی ہمت کی بلندی کا بھی بیان ہے کہ وہ اعلیٰ چیز کے طلب گار ہیں جس سے بڑی کوئی چیز نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ» [التوبۃ: ۷۲]”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی و رضا سب سے بڑی چیز ہے۔“ دنیائے دنی یا دوسری ادنیٰ چیزیں ان کی بلند نگاہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔
➑ { سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ:} بعض لوگوں نے سجدے کے اثر سے مراد پیشانی پر پڑنے والا گٹا لیا ہے، جسے عام طور پر محراب کہا جاتا ہے۔ کسی مخلص مسلمان کے ماتھے پر سجدے کی رگڑ سے پڑنے والا نشان بھی یقینا اس شناخت میں شامل ہے، مگر یہاں اس سے مراد وہ رونق اور حسن و شرافت کے آثار ہیں جو اخلاص، حسن نیت، خشیت و خشوع اور نماز کی کثرت سے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اگر دو آدمی رات بھر بیدار رہیں، ایک شراب نوشی اور گناہ کے کاموں میں مصروف رہے، دوسرا نماز یا قرآن کی تلاوت اور ذکر میں مصروف رہے تو صبح دونوں کے چہروں میں صاف فرق نظر آئے گا۔ یہی فرق سچے و جھوٹے، دغا باز و باوفا، ظالم و عادل، بدکار و پاک دامن اور متکبر و متواضع کے چہروں پر نمایاں ہوتا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے: [{” سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ “} يَعْنِي السَّمْتَ الْحَسَنَ] [طبری: ۳۱۸۹۱] ”یعنی اس سے مراد خوب صورت انداز اور ہیئت ہے۔“ ابن کثیر میں ہے، منصور نے مجاہد سے سنا کہ اس سے مراد خشوع ہے۔ منصور کہتے ہیں، میں نے کہا، میں تو اس سے مراد وہی نشان سمجھتا تھا جو چہرے پر پڑ جاتا ہے، تو انھوں نے فرمایا: ”وہ نشان تو بعض اوقات ایسے لوگوں کے ماتھے پر بھی ہوتا ہے جو فرعون سے بھی زیادہ سنگ دل ہوتے ہیں۔“ خلاصہ یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے چہروں پر، صحابہ ہوں یا ان کے متبعین، خاص قسم کا نور اور رونق ہوتی ہے جس سے وہ دوسرے تمام لوگوں سے الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہاں بعض مفسرین نے ایک روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کی ہے: [مَنْ كَثُرَ صَلَاتُهُ بِاللَّيْلِ حَسُنَ وَجْهُهُ بِالنَّهَارِ] ”جو شخص رات کو کثرت سے نماز پڑھے دن کو اس کا چہرہ خوبصورت ہو گا۔“ مگر اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، بلکہ یہ ایک راوی شریک کا قول ہے۔
➒ { ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ: ”مَثَلٌ“} کا معنی مثال بھی ہوتا ہے اور وصف بھی، یہاں مراد وصف ہے، یعنی ان کا یہ وصف کہ سجدے اور عبادت کی تاثیر سے ان کی شناخت ان کے چہروں سے ظاہر ہوتی ہے، یہ تورات میں بیان ہوا ہے۔ اس وقت یہود و نصاریٰ کے ہاتھ میں جو تورات ہے اگرچہ انھوں نے اس میں کئی طرح کی تحریف کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی صفات اکثر حذف کر دی ہیں اور بعض میں تبدیلی کر دی ہے، اس کے باوجود اس کی پانچویں کتاب ”استثنا“ کے باب (۳۳) اور فقرہ (۲) میں ہے: ”خداوند سینا سے آیا اور سعیر سے ان پر طلوع ہوا، فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا، دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشیں شریعت ان کے لیے تھی۔“ اس پیش گوئی کا مصداق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ اس میں جبل فاران سے جلوہ گر ہونے اور دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آنے کا صاف حوالہ موجود ہے اور یہ مسلّم بات ہے کہ فاران حجاز کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار صحابہ کے ساتھ آئے تھے۔ ظاہر ہے قدوسیوں سے مراد اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ صفات اور عبادت گزار بندے ہیں، قرآن مجید میں اس کی جگہ {” تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ “} کے الفاظ ہیں۔ اور آتشیں شریعت کے بجائے {” اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ“} کہہ کر جہادی شریعت کا ذکر فرمایا ہے۔
تنبیہ: ”دس ہزار“ کے الفاظ بائبل کے سابقہ ایڈیشنوں میں موجود ہیں، حالیہ ایڈیشنوں میں تحریف کر کے بعض سے یہ عدد نکال دیا گیا ہے اور بعض میں اسے ”لاکھوں“ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
➓ { وَ مَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ …:} تورات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے تقویٰ و تقدس، جہادی شریعت اور ان کے غلبہ و اقتدار کی صفت بیان ہوئی ہے اور انجیل میں امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتدریج قلت سے کثرت کی طرف اور کمزوری سے قوت کی طرف بڑھنے کو مثال کے ساتھ واضح فرمایا ہے کہ ان کی ابتدا اگرچہ کمزور ہو گی لیکن آخر کار وہ ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کر جائیں گے جس کے سائے میں بڑی بڑی قومیں پناہ لیں گی۔ چنانچہ انجیل متی، باب (۱۳)، فقرہ (۳ تا ۹) میں یہ مثال اس طرح بیان ہوئی ہے: ”اس (مسیح) نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کرکے کہا کہ آسمان کی بادشاہت اس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا، وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے لیکن جب بڑھ جاتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا ہوتا ہے اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔“ یہی مثال الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ انجیل مرقس، باب (۴)، فقرہ (۳۔۹) اور انجیل لوقا، باب (۱۳)، فقرہ (۱۸۔ ۲۱) میں بھی آئی ہے۔ (منقول از تفسیر ثنائی)
قرآن مجید میں کھیتی کی مثال دینے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حدیبیہ والے سال تم مکہ میں داخل نہیں ہو سکے تو اس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں اور تمھیں یہ سبق سکھانا بھی مقصود ہے کہ اسلام کا عروج و کمال یک لخت نہیں بلکہ تدریج کے ساتھ ہو گا، جیسا کہ کھیتی بتدریج کمال کو پہنچتی ہے۔ پہلے وہ بیج سے نازک سی کونپل یا سوئی نکالتی ہے، پھر اسے مضبوط کرتی ہے، پھر خوب موٹی ہو جاتی ہے، پھر اس کا پودا اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے، پھر اس کے ساتھ اور پودے اگتے چلے جاتے ہیں اور کھیت بھر جاتا ہے جس سے کاشت کرنے والوں کا دل خوش ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک دن آنے والا ہے کہ ہدایت اور دین حق کی یہ کھیتی جو اوّل اوّل سر زمین عرب میں کاشت کی گئی، اپنے کمال کو پہنچے گی، مشرق و مغرب اس سے بھر جائیں گے، اپنی آبیاری اور دیکھ بھال کرنے والوں کے دلوں کو خوش کرے گی اور ان لوگوں کے دلوں کو غم و غصہ سے جلائے گی جنھوں نے اس کی نشوونما کو روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔
⓫ { لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ: ” لِيَغِيْظَ “} کا لام فعل مقدر کے متعلق ہے جو گزشتہ عبارت سے خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے: {” أَيْ جَعَلَهُمُ اللّٰهُ كَذٰلِكَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ“} یعنی اللہ تعالیٰ صحابہ کرام اور ان کے متبعین کو اس طرح بتدریج کمال و عروج تک پہنچائے گا، تاکہ ان کے ساتھ کفار کو غصہ دلائے اور ان کے دلوں کو جلائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو دعوتِ حق لے کر آئے اسے قبول کرنے والے اور اسے پوری دنیا پر غالب کرنے کے لیے اپنی جان، اپنا مال اور سب کچھ قربان کرنے والے صحابہ کرام تھے اور ان کے بعد ان سے محبت رکھنے والے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تابعین اور بعد کے لوگ تھے جن کے ذریعے سے یہ دین حق ساری دنیا میں پھیلا اور غالب ہوا۔ ایمان والوں کے دل صحابہ کرام اور ان کے متبعین کے حالات دیکھ کر اور سن کر خوش ہوتے ہیں اور کفار کے دل انھیں دیکھ کر اور ان کے حالات سن کر غصے سے بھر جاتے ہیں اور جل اٹھتے ہیں۔ تفسیر التحریر والتنویر (۲۶؍۱۷۷) میں ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: [مَنْ أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ فِيْ قَلْبِهِ غَيْظٌ عَلٰی أَحَدٍ مِّنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ أَصَابَتْهُ هٰذِهِ الْآيَةُ] ”لوگوں میں سے جس شخص کے دل میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی ایک پر بھی غصہ اور جلن ہو، یہ آیت اس پر یقینا لاگو ہوتی ہے۔“ ابنِ عاشور نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ امام مالک پر رحم کرے، ان کا استنباط کس قدر باریک ہے۔ “
⓬ {وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ …:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اور کھیتی کی کہاوت یہ کہ اوّل ایک آدمی تھا اس دین پر، پھر دو ہوئے پھر قوت بڑھتی گئی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اور خلیفوں کے اور یہ وعدہ دیا ان کو جو ایمان لائے اور بھلے کام کرتے ہیں۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب اصحاب ایسے ہی تھے، مگر خاتمہ کا اندیشہ رکھا۔ حق تعالیٰ بندوں کو ایسی خوش خبری نہیں دیتا کہ نڈر ہو جائیں، مالک سے اتنی شاباش بھی غنیمت ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
29۔ 1 انجیل پر وقف کی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ان کی یہ خوبیاں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں ان کی یہی خوبیاں تورات و انجیل میں مذکور ہیں اور آگے کزرع میں اس سے پہلے ھم محذوف ہوگا اور بعض فی التوراۃ پر وقف کرتے ہیں یعنی ان کی مذکرورہ صفت تورات میں ہے اور مثلھم فی الانجیل کو کزرع کے ساتھ ملاتے ہیں یعنی انجیل میں ان کی مثال مانند اس کھیتی کے ہے۔ فتح القدیر۔ 29۔ 2 شَطْاَءُ سے پودے کا پہلا ظہور ہے جو دانہ پھاڑ کر اللہ کی قدرت سے باہر نکلتا ہے۔ 29۔ 3 یہ صحابہ کرام کی مثال بیان فرمائی گئی ہے۔ ابتدا میں وہ قلیل تھے، پھر زیادہ اور مضبوط ہوگئے، جیسے کھیتی ابتدا میں کمزور ہوتی ہے، پھر دن بدن قوی ہوتی جاتی ہے حتٰی کہ مضبوط تنے پر وہ قائم ہوجاتی ہے۔ 29۔ 4 یا کافر غیظ وغضب کا باعث تھی اس لیے کہ اس سے اسلام کا دائرہ پھیل رہا اور کفر کا دائرہ سمٹ رہا تھا اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے بعض ائمہ نے صحابہ کرام ؓ سے بغض وعناد رکھنے والوں کو کافر قرار دیا ہے علاوہ ازیں اس فرقہ ضالہ کے دیگر عقائد بھی ان کے کفر پر ہی دال ہیں۔ 29۔ 5 اس پوری آیت کا ایک ایک جز صحابہ کرام کی عظمت و فضیلت، اخروی مغفرت اور اجر عظیم کو واضح کر رہا ہے، اس کے بعد بھی صحابہ کرام کے ایمان میں شک کرنے والا مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے تو اسے کیوں کر دعوائے مسلمانی میں سچا سمجھا جاسکتا ہے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم [45] اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں [46] پر تو سخت (مگر) آپس [47] میں رحم دل ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود کرتے ہوئے اور اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی تلاش کرتے ہوئے دیکھو گے (کثرت) سجدہ کی وجہ سے ان کی پیشانیوں پر [48] امتیازی نشان موجود ہیں۔ ان کی یہی صفت تورات میں بیان ہوئی ہے اور یہی انجیل میں ہے جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی اور اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی (اس وقت وہ) کسانوں کو خوش کرتی ہے۔ تاکہ کافروں کو ان کی وجہ سے [49] غصہ دلائے۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔
[45] تحریر صلح پر اعتراضات :۔
جب صلح نامہ حدیبیہ لکھا جا رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں لکھوانا شروع کیا: ”محمد اللہ کے رسول کی جانب سے“ تو اس پر کفار کے سفیر سہیل بن عمرو نے یہ اعتراض جڑ دیا کہ یہی بات تو سارے تنازعہ کی بنیاد ہے۔ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیم کر لیں تو باقی جھگڑا ہی کیا رہ جاتا ہے؟ اس کے بجائے، محمد بن عبد اللہ لکھو۔ اور آپ چونکہ ہر صورت صلح کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے آپ نے محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھنے کو کہا۔ اس آیت میں ان کافروں سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اللہ ہی نے آپ کو رسول بنا کر اور ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے۔ اگر تم تسلیم نہیں کرتے تو نہ کرو۔ کسی وقت تمہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اس رسول کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے۔ اور یہ کام ہو کر رہے گا۔ لہٰذا اس کے اللہ کا رسول ہونے پر اللہ کی گواہی ہی کافی ہے۔
[46] صحابہ کے خصائل، کافروں کے سامنے شان و شوکت کا مظاہرہ درست ہے :۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمان کافروں سے تند مزاجی اور سخت کلامی سے پیش آتے ہیں۔ یا انہیں پیش آنا چاہئے۔ بلکہ یہ ہے کہ وہ کافروں سے کسی صورت دب کر نہیں رہتے، اصول دین کے معاملہ میں نہ وہ ان سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں، نہ بک سکتے ہیں، نہ نرم رویہ اختیار کرتے ہیں نہ ان کی دھمکیوں اور سازشوں سے مرعوب ہوتے ہیں بلکہ اس کے بجائے خود انہیں مرعوب رکھتے ہیں اور دور نبوی میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں۔
جنگ احد میں ابو دجانہ کا کردار :۔
جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا: آج میری تلوار کا حق کون ادا کرے گا؟ سیدنا ابو دجانہ جو پہلوان تھے آگے بڑھ کر کہنے لگے: ”میں کروں گا“ چنانچہ آپ نے انہیں اپنی تلوار دے دی۔ انہوں نے ایک سرخ پٹی اپنے سر پر باندھ رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ تلوار لے کر بڑی شان اور فخر کے ساتھ کافروں کی طرف بڑھے اور بہت سے کافروں کو موت کے گھاٹ اتارتے جا رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ کو یہ چال ہرگز پسند نہیں، مگر آج ابو دجانہ کی یہ چال اللہ کو بہت پسند ہے“ جب آپ خود چودہ سو صحابہ کے ہمراہ عمرہ قضا کے لئے آئے۔ تو صحابہ کو طواف میں رمل کا حکم دیا۔ کیونکہ کافروں میں یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ مدینہ کی آب و ہوا نے مسلمانوں کو کمزور بنا دیا ہے۔ اس لئے آپ نے طواف میں نوجوانوں کی طرح اکڑ کر آدھی دوڑ کی چال یعنی رمل کا حکم دیا۔ نیز آپ نے فتح مکہ کے موقعہ پر اپنی فوجی قوت اور شان و شوکت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ جس سے کفار مکہ اس قدر مرعوب ہوئے کہ مقابلہ کی ہمت ہی نہ کر سکے۔
[47] صحابہ کی دوسری صفت :۔
صحابہ کرام کی اللہ تعالیٰ نے دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ آپس میں رحم دل اور نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ان کی آپس میں ہمدردی اور غمگساری، تواضع اور خاطر و مدارت سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ آپس میں حقیقی بھائی ہیں۔ بھلا جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی مہربانی سے آپس میں بھائی بنا دیا ہو ان کی اخوت اور ایثار و مروت میں کیا شک ہو سکتا ہے؟ وہی قتل و غارت اور لوٹ مار کے رسیا لوگ جب اسلام لائے تو اسلام نے ان کی ایسی اخلاقی تربیت کی کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں جہاں گرم ہونے کی ضرورت ہوتی فوراً گرم ہو جاتے اور جہاں نرم ہونے کی ضرورت ہوتی نرم پڑ جاتے تھے۔ ان کی باہمی محبت اور ایثار کے واقعات اتنے زیادہ ہیں کہ یہاں یہ بحث چھیڑنا ممکن نہیں۔
[48] تیسری صفت شب بیداری اور عبادت گزاری :۔
اس سے مراد یہ گٹہ کا نشان نہیں جو بعض نمازیوں کی پیشانیوں پر پڑ جاتا ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ ان کے چہرے کو دیکھ کر ایک عام انسان بھی یہ سمجھ جاتا ہے کہ کس قدر اللہ سے ڈرنے والے کریم النفس اور راست باز انسان ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو عبد اللہ بن سلام نے جو اس وقت یہود کے بہت بڑے عالم تھے، آپ کا چہرہ دیکھ کر یہ کہہ دیا تھا کہ ”ایسا چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔“ غرضیکہ چہرہ دراصل انسان کا آئینہ ہوتا ہے اور تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ اکثر عقل مند اور جہاں دیدہ لوگ کسی کا چہرہ دیکھ کر ہی یہ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ فلاں آدمی کس قبیل کا آدمی ہو سکتا ہے۔ صحابہ کے چہروں کو دیکھ کر ہی یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ یہ لوگ شب بیدار، عبادت گزار اور اللہ سے ڈرنے والے لوگ ہیں اور تورات اور انجیل میں رسول اللہ اور آپ کے ساتھیوں کی جو صفات مذکور ہیں، وہ بھی ایسی ہی ہیں۔
[49] چوتھی صفت ناگوار حالات میں اسلام کے پودے کو پروان چڑھانے والی جماعت :۔
یعنی مسلمان پہلے صرف ایک تھا اور وہ تھی رسول اللہ کی ذات اقدس جو اپنی نبوت پر سب سے پہلے خود ایمان لائے۔ پھر ایک سے دو ہوئے، دو سے تین، تین سے سات۔ اسی طرح رفتہ رفتہ اسلام کا پودا زمین سے باہر نکل آیا۔ باہر نکل آنے کے بعد اس پر باد مخالف کی ہوائیں چلنا شروع ہو گئیں۔ جو آہستہ آہستہ مظالم کی تیز آندھیوں میں تبدیل ہو گئیں۔ مگر یہ پودا مخالف ہواؤں کے باوجود اپنی جگہ پر بر قرار رہا۔ پھلتا پھولتا اور بڑھتا رہا۔ مخالف ہوائیں جتنی تند و تیز ہوتیں اتنا ہی یہ پودا مضبوط جڑیں پکڑتا اور بلند ہوتا گیا حتیٰ کہ فتح مکہ کے دن یہ پودا ایک مضبوط اور تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا۔ جوں جوں یہ پودا بڑھ رہا تھا۔ مخالف قوتیں اسے دیکھ کر جل بھن جاتی تھیں۔ مگر اس پودے کو لگانے والے، اس کی آبیاری اور نگہداشت کرنے والے اسے دیکھ کر اتنا ہی خوش ہو جاتے تھے اور پھولے نہ سماتے تھے اور جب یہ مضبوط درخت بن کر اپنی جڑوں پر استوار ہو گیا۔ اس وقت مخالف طاقتوں کو پوری طرح معلوم ہو گیا کہ اب وہ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔ بلکہ اس کے سایہ تلے پناہ لینے کے بغیر اور کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا۔ اس درخت کی آبیاری اور نگہداشت کرنے والی صحابہ کرام کی وہ مقدس جماعت تھی جو نبی اخر الزمان پر ایمان لائے تھے پھر عمر بھر دل و جان سے اس کی اطاعت کرتے اور اس کے اشاروں پر چلتے رہے۔ ایسے لوگوں کا اللہ کے ہاں اجر بھی بہت زیادہ ہے جو ان کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں کو معاف کر کے انہیں جنت کے بلند درجات عطا فرمائے گا۔ اس آیت سے بعض علماء نے یہ استنباط کیا ہے کہ صحابہ کرامؓ سے جلنے والا اور ان کے متعلق بغض اور کینہ رکھنے والا شخص کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تصدیق رسالت بزبان الہ ٭٭
ان آیتوں میں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و ثنا بیان ہوئی کہ آپ اللہ کے برحق رسول ہیں پھر آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی صفت و ثنا بیان ہو رہی ہے کہ وہ مخالفین پر سختی کرنے والے اور مسلمانوں پر نرمی کرنے والے ہیں جیسے اور آیت میں ہے «أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ» ۱؎ [5-المائدة:54] مومنوں کے سامنے نرم کفار کے مقابلہ میں گرم، ہر مومن کی یہی شان ہونی چاہیئے کہ وہ مومنوں سے خوش خلقی اور متواضع رہے اور کفار پر سختی کرنے والا اور کفر سے ناخوش رہے۔
قرآن حکیم فرماتا ہے «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» ۱؎ [9-التوبة:123] ’ ایمان والو! اپنے پاس کے کافروں سے جہاد کرو، وہ تم میں سختی محسوس کریں ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”آپس کی محبت اور نرم دلی میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ اگر کسی ایک عضو میں درد ہو تو سارا جسم بےقرار ہو جاتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی نیند اچاٹ ہو جاتی ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6011]
قرآن حکیم فرماتا ہے «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» ۱؎ [9-التوبة:123] ’ ایمان والو! اپنے پاس کے کافروں سے جہاد کرو، وہ تم میں سختی محسوس کریں ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”آپس کی محبت اور نرم دلی میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ اگر کسی ایک عضو میں درد ہو تو سارا جسم بےقرار ہو جاتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی نیند اچاٹ ہو جاتی ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6011]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو تقویت پہنچاتا ہے اور مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ملا کر بتائیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2446]
پھر ان کا اور وصف بیان فرمایا کہ نیکیاں بکثرت کرتے ہیں خصوصاً نماز جو تمام نیکیوں سے افضل و اعلیٰ ہے، پھر ان کی نیکیوں میں چار چاند لگانے والی چیز کا بیان یعنی ان کے خلوص اور رضائے اللہ طلبی کا کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں۔ یہ اپنے اعمال کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں جو جنت ہے اور اللہ کے فضل سے انہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی بھی انہیں عطا فرمائے گا جو بہت بڑی چیز ہے۔
جیسے فرمایا «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ۱؎ [9-التوبة:72] ’ اللہ تعالیٰ کی ذرا سی رضا بھی سب سے بڑی چیز ہے۔ ‘
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چہروں پر سجدوں کے اثر سے علامت ہونے سے مراد اچھے اخلاق ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:370/11] مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں خشوع اور تواضع ہے۔
پھر ان کا اور وصف بیان فرمایا کہ نیکیاں بکثرت کرتے ہیں خصوصاً نماز جو تمام نیکیوں سے افضل و اعلیٰ ہے، پھر ان کی نیکیوں میں چار چاند لگانے والی چیز کا بیان یعنی ان کے خلوص اور رضائے اللہ طلبی کا کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں۔ یہ اپنے اعمال کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں جو جنت ہے اور اللہ کے فضل سے انہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی بھی انہیں عطا فرمائے گا جو بہت بڑی چیز ہے۔
جیسے فرمایا «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ۱؎ [9-التوبة:72] ’ اللہ تعالیٰ کی ذرا سی رضا بھی سب سے بڑی چیز ہے۔ ‘
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چہروں پر سجدوں کے اثر سے علامت ہونے سے مراد اچھے اخلاق ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:370/11] مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں خشوع اور تواضع ہے۔
منصور رحمہ اللہ مجاہد رحمہ اللہ سے کہتے ہیں میرا تو یہ خیال تھا کہ اس سے مراد نماز کا نشان ہے جو ماتھے پر پڑ جاتا ہے، آپ نے فرمایا یہ تو ان کی پیشانیوں پر بھی ہوتا ہے جن کے دل فرعون سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز ان کے چہرے اچھے کر دیتی ہے۔
بعض سلف سے منقول ہے جو رات کو بکثرت نماز پڑھے گا اس کا چہرہ دن کو خوبصورت ہو گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ابن ماجہ کی ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی مضمون ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1333،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے بعض بزرگوں کا قول ہے کہ نیکی کی وجہ سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے چہرے پر روشنی آتی ہے، روزی میں کشادگی ہوتی ہے، لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔
امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ جو شخص اپنے اندرونی پوشیدہ حالات کی اصلاح کرے اور بھلائیاں پوشیدگی سے کرے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کی سلوٹوں پر اور اس کی زبان کے کناروں پر ان نیکیوں کو ظاہر کر دیتا ہے الغرض دل کا آئینہ چہرہ ہے، جو اس میں ہوتا ہے اس کا اثر چہرہ پر ہوتا ہے۔ پس مومن جب اپنے دل کو درست کر لیتا ہے، اپنا باطن سنوار لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی لوگوں کی نگاہوں میں سنوار دیتا ہے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص اپنے باطن کی اصلاح کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی آراستہ و پیراستہ کر دیتا ہے۔
بعض سلف سے منقول ہے جو رات کو بکثرت نماز پڑھے گا اس کا چہرہ دن کو خوبصورت ہو گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ابن ماجہ کی ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی مضمون ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1333،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے بعض بزرگوں کا قول ہے کہ نیکی کی وجہ سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے چہرے پر روشنی آتی ہے، روزی میں کشادگی ہوتی ہے، لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔
امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ جو شخص اپنے اندرونی پوشیدہ حالات کی اصلاح کرے اور بھلائیاں پوشیدگی سے کرے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کی سلوٹوں پر اور اس کی زبان کے کناروں پر ان نیکیوں کو ظاہر کر دیتا ہے الغرض دل کا آئینہ چہرہ ہے، جو اس میں ہوتا ہے اس کا اثر چہرہ پر ہوتا ہے۔ پس مومن جب اپنے دل کو درست کر لیتا ہے، اپنا باطن سنوار لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی لوگوں کی نگاہوں میں سنوار دیتا ہے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص اپنے باطن کی اصلاح کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی آراستہ و پیراستہ کر دیتا ہے۔
طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص جیسی بات کو پوشیدہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اڑھا دیتا ہے اگر وہ پوشیدگی بھلی ہے تو بھلائی کی اور اگر بری ہے تو برائی کی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ موضوع] لیکن اس کا ایک راوی عراقی متروک ہے۔
مسند احمد میں آپ کا فرمان ہے کہ { اگر تم میں سے کوئی شخص کسی ٹھوس چٹان میں گھس کر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو، نہ اس میں کوئی سوراخ ہو کوئی عمل کرے گا، اللہ اسے بھی لوگوں کے سامنے رکھ دے گا برائی ہو تو یا بھلائی ہو تو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:28/3:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے { نیک طریقہ، اچھا خلق، میانہ روی نبوت کے پچیسویں حصہ میں سے ایک حصہ ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2010،قال الشيخ الألباني:حسن]
مسند احمد میں آپ کا فرمان ہے کہ { اگر تم میں سے کوئی شخص کسی ٹھوس چٹان میں گھس کر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو، نہ اس میں کوئی سوراخ ہو کوئی عمل کرے گا، اللہ اسے بھی لوگوں کے سامنے رکھ دے گا برائی ہو تو یا بھلائی ہو تو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:28/3:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے { نیک طریقہ، اچھا خلق، میانہ روی نبوت کے پچیسویں حصہ میں سے ایک حصہ ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2010،قال الشيخ الألباني:حسن]
الغرض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نیتیں خالص تھیں اعمال اچھے تھے پس جس کی نگاہ ان کے پاک چہروں پر پڑتی تھی اسے ان کی پاکبازی جچ جاتی تھی اور وہ ان کے چال چلن اور ان کے اخلاق اور ان کے طریقہ کار پر خوش ہوتا تھا۔
امام مالک رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم نے شام کا ملک فتح کیا جب وہاں کے نصرانی ان کے چہرے دیکھتے تو بےساختہ پکار اٹھتے، اللہ کی قسم یہ عیسیٰ کے حواریوں سے بہت ہی بہتر و افضل ہیں۔ فی الواقع ان کا یہ قول سچا ہے، اگلی کتابوں میں اس امت کی فضیلت و عظمت موجود ہے اور اس امت کی صف اول ان کے بہتر بزرگ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور خود ان کا ذکر بھی اگلی اللہ کی کتابوں میں اور پہلے کے واقعات میں موجود ہے۔ پس فرمایا یہی مثال ان کی توراۃ میں ہے۔
پھر فرماتا ہے اور ان کی مثال انجیل کی مانند کھیتی کے بیان کی گئی ہے جو اپنا سبزہ نکالتی ہے پھر اسے مضبوط اور قوی کرتی ہے پھر وہ طاقتور اور موٹا ہو جاتا ہے اور اپنی بال پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اب کھیتی والے کی خوشی کا کیا پوچھنا ہے؟
اسی طرح اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ انہوں نے آپ کی تائید و نصرت کی پس وہ آپ کے ساتھ وہی تعلق رکھتے ہیں جو پٹھے اور سبزے کو کھیتی سے تھا یہ اس لیے کہ کفار شرمسار ہوں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے رافضیوں کے کفر پر استدلال کیا ہے کیونکہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے چڑتے اور ان سے بغض رکھنے والا کافر ہے۔
علماء کی ایک جماعت بھی اس مسئلہ میں امام صاحب کے ساتھ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل میں اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی کرنے میں بہت سی احادیث آئی ہیں خود اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریفیں بیان کیں اور ان سے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا ہے کیا ان کی بزرگی میں یہ کافی نہیں؟
پھر فرماتا ہے ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے گناہ معاف اور انکا اجر عظیم اور رزق کریم ثواب جزیل اور بدلہ کبیر ثابت یاد رہے کہ «منھم» میں جو «من» ہے وہ یہاں بیان جنس کے لیے ہے، اللہ کا یہ سچا اور اٹل وعدہ ہے جو نہ بدلے، نہ خلاف ہو ان کے قدم بقدم چلنے والوں، ان کی روش پر کاربند ہونے والوں سے بھی اللہ کا یہ وعدہ ثابت ہے لیکن فضیلت اور سبقت کمال اور بزرگی جو انہیں ہے امت میں سے کسی کو حاصل نہیں، اللہ ان سے خوش، اللہ ان سے راضی، یہ جنتی ہو چکے اور بدلے پالئے۔
امام مالک رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم نے شام کا ملک فتح کیا جب وہاں کے نصرانی ان کے چہرے دیکھتے تو بےساختہ پکار اٹھتے، اللہ کی قسم یہ عیسیٰ کے حواریوں سے بہت ہی بہتر و افضل ہیں۔ فی الواقع ان کا یہ قول سچا ہے، اگلی کتابوں میں اس امت کی فضیلت و عظمت موجود ہے اور اس امت کی صف اول ان کے بہتر بزرگ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور خود ان کا ذکر بھی اگلی اللہ کی کتابوں میں اور پہلے کے واقعات میں موجود ہے۔ پس فرمایا یہی مثال ان کی توراۃ میں ہے۔
پھر فرماتا ہے اور ان کی مثال انجیل کی مانند کھیتی کے بیان کی گئی ہے جو اپنا سبزہ نکالتی ہے پھر اسے مضبوط اور قوی کرتی ہے پھر وہ طاقتور اور موٹا ہو جاتا ہے اور اپنی بال پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اب کھیتی والے کی خوشی کا کیا پوچھنا ہے؟
اسی طرح اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ انہوں نے آپ کی تائید و نصرت کی پس وہ آپ کے ساتھ وہی تعلق رکھتے ہیں جو پٹھے اور سبزے کو کھیتی سے تھا یہ اس لیے کہ کفار شرمسار ہوں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے رافضیوں کے کفر پر استدلال کیا ہے کیونکہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے چڑتے اور ان سے بغض رکھنے والا کافر ہے۔
علماء کی ایک جماعت بھی اس مسئلہ میں امام صاحب کے ساتھ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل میں اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی کرنے میں بہت سی احادیث آئی ہیں خود اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریفیں بیان کیں اور ان سے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا ہے کیا ان کی بزرگی میں یہ کافی نہیں؟
پھر فرماتا ہے ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے گناہ معاف اور انکا اجر عظیم اور رزق کریم ثواب جزیل اور بدلہ کبیر ثابت یاد رہے کہ «منھم» میں جو «من» ہے وہ یہاں بیان جنس کے لیے ہے، اللہ کا یہ سچا اور اٹل وعدہ ہے جو نہ بدلے، نہ خلاف ہو ان کے قدم بقدم چلنے والوں، ان کی روش پر کاربند ہونے والوں سے بھی اللہ کا یہ وعدہ ثابت ہے لیکن فضیلت اور سبقت کمال اور بزرگی جو انہیں ہے امت میں سے کسی کو حاصل نہیں، اللہ ان سے خوش، اللہ ان سے راضی، یہ جنتی ہو چکے اور بدلے پالئے۔
صحیح مسلم شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”کو برا نہ کہو ان کی بےادبی اور گستاخی نہ کرو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو ان کے تین پاؤ اناج بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کے اجر کو بھی نہیں پا سکتا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2540]
«الحمداللہ» سورۃ الفتح کی تفسیر ختم ہوئی۔
«الحمداللہ» سورۃ الفتح کی تفسیر ختم ہوئی۔