ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفتح (48) — آیت 21

وَّ اُخۡرٰی لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَیۡہَا قَدۡ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرًا ﴿۲۱﴾
اور کئی اور (غنیمتوں کا بھی)، جن پر تم قادر نہیں ہوئے۔ یقینا اللہ نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
اور اَور (غنیمتیں دیں) جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
اور تمہیں اور (غنیمتیں) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے قابو میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) ➊ { وَ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا …: اُخْرٰى مَغَانِمَ} کی صفت ہے جو یہاں محذوف ہے اور اس کا عطف { مَغَانِمَ كَثِيْرَةً } پر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان غنیمتوں کے علاوہ، جن کا اوپر ذکر ہوا، کئی اور غنیمتوں کا بھی وعدہ فرمایا ہے جن پر تم قادر نہیں ہوئے، مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں گھیرے میں لے لیا ہے۔ اس سے مراد سب سے پہلے فتح مکہ ہے جو فتح الفتوح تھی۔ مسلمان حدیبیہ والے سال اور اس سے اگلے سال اسے حاصل نہیں کر سکے مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کا فیصلہ ہو چکا تھا، چنانچہ صلح حدیبیہ ہی اس کا پیش خیمہ بنی۔ اس صلح کی ایک شرط یہ تھی کہ جو قبیلہ چاہے مسلمانوں کا حلیف بن جائے اور جو چاہے قریش مکہ کا حلیف بن جائے اور کوئی کسی کے خلاف یا اس کے حلیف کے خلاف جنگ نہ کرے۔ اس موقع پر بنو خزاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف اور بنو بکر قریش مکہ کے حلیف بن گئے۔ مشرکین صلح کے بعد صرف دو سال تک معاہدہ پر قائم رہے، پھر ان کے حلیف قبیلہ بنو بکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا، جس میں قریش نے اسلحے اور آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی اور کعبہ میں پناہ لینے کے باوجود انھیں قتل کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے معاہدہ توڑنے کی اطلاع ملی تو آپ نے نہایت اخفا کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام کے ساتھ مکہ کی طرف کوچ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے مکہ فتح فرما دیا۔ لفظ عام ہونے کی وجہ سے فتح مکہ کے علاوہ وہ تمام فتوحات { وَ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا } میں داخل ہیں جو اس کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، جن میں ثقیف و ہوازن کی فتح اور تبوک وغیرہ کی فتح بھی شامل ہیں۔ روم و فارس، مصر و شام، ہند و سندھ اور زمین کے مشرق و مغرب کے وہ تمام ممالک بھی جو قیامت تک مسلمانوں کے قبضے میں آنے والے تھے۔
➋ {قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا:} یہ اس سوال کا جواب ہے جو یہاں پیدا ہو سکتا تھا کہ مدینہ کی بستی کے یہ چودہ پندرہ سو آدمی، جن کے پاس اسلحہ اور دوسری ضروریات حتیٰ کہ سامانِ خورد و نوش کی بھی کمی ہے، اتنی کثیر فتوحات اور غنیمتیں کیسے حاصل کر سکتے ہیں، جب کہ پورا عرب ان کے خلاف ہے، جن کے پاس آدمیوں، اسلحے اور ساز و سامان کی فراوانی ہے؟ فرمایا یہ لوگ واقعی وہ فتوحات اور غنیمتیں حاصل نہیں کر سکتے، مگر جب اللہ تعالیٰ نے ان کا گھیرا کر لیا ہو اور انھیں مسلمانوں کو عطا فرمانا چاہتا ہو تو پھر کون ہے جو اسے روک سکے؟ اور اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21۔ 1 یہ بعد میں ہونے والی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والی غنیمت کی طرف اشارہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ اور ایک اور (فتح بھی دے گا) جس پر تم ابھی قادر [32] نہیں ہوئے اور اللہ اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
[32] صلح حدیبیہ کیسے فتح مکہ کا پیش خیمہ بنی؟
اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ جس کا پیش خیمہ یہ صلح حدیبیہ ہی بن گئی تھی۔ اور اللہ کو ٹھیک معلوم تھا کہ یہ صلح کس طرح فتح مکہ کا پیش خیمہ بننے والی ہے۔ صلح نامہ کی دوسری شرط کی رو سے بنو خزاعہ مسلمانوں کے اور بنو بکر قریش کے حلیف بن گئے تھے۔ صلح کے ڈیڑھ سال بعد بنو خزاعہ اور بنو بکر کی آپس میں لڑائی ہو گئی جس میں قریش نے کھلم کھلا بنو بکر کی مدد کی اور جب بنو خزاعہ نے حرم میں پناہ لی تو انہیں وہاں بھی نہ چھوڑا۔ بعد ازاں بنو خزاعہ کے چالیس شتر سوار فریاد کے لئے مدینہ پہنچے۔ آپ کو قریش کی اس بد عہدی پر سخت صدمہ ہوا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لئے تین شرطیں پیش کیں کہ ان میں سے کوئی ایک تسلیم کر لی جائے۔
(1) بنو خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا دیا جائے۔
(2) قریش بنو بکر کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔
(3) اعلان کیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ختم ہو گیا۔ قاصد نے جب یہ شرائط قریش کے سامنے پیش کیں تو ان کا نوجوان طبقہ بھڑک اٹھا۔ ان میں سے ایک شخص فرط بن عمر نے قریش کی طرف سے اعلان کر دیا کہ صرف تیسری شرط منظور ہے۔ قاصد واپس چلا گیا تو ان لوگوں کا جوش ٹھنڈا ہو کر ہوش و حواس درست ہوئے اور انہیں سخت فکر دامن گیر ہوئی۔ چنانچہ ابو سفیان کو تجدید معاہدہ کے لئے بھیجا گیا۔ اس نے مدینہ پہنچ کر رسول اللہ سے تجدید معاہدہ کی درخواست کی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر اس نے علی الترتیب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمرؓ حتیٰ کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تک سے سفارش کی درخواست کی۔ لیکن جب سب نے جواب دے دیا تو اس نے خود ہی مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر یکطرفہ اعلان کر دیا کہ میں نے معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کر دی۔ قریش کی یہ بد عہدی، پھر اس کے بعد صرف تیسری شرط منظور کرنے کا جواب دراصل اعلان جنگ کے مترادف تھا۔ چنانچہ آپ نے فتح مکہ کی مہم کا آغاز کر دیا اور جب ابو سفیان وہاں پہنچا تو اس وقت تجدید معاہدہ کا وقت گزر چکا تھا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کسی قسم کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہ تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے ٭٭
ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:351/11]‏‏‏‏
اس اللہ کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ کفار کے بدارادوں کو اس نے پورا نہ ہونے دیا، نہ مکے کے کافروں کے، نہ ان منافقوں کے جو تمہارے پیچھے مدینے میں رہے تھے، نہ یہ تم پر حملہ آور ہو سکے، نہ وہ تمہارے بال بچوں کو ستا سکے، یہ اس لیے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور جان لیں کہ اصل حافظ و ناصر اللہ ہی ہے، پس دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت سے ہمت نہ ہار دیں اور یہ بھی یقین کر لیں کہ ہر کام کے انجام کا علم اللہ ہی کو ہے بندوں کے حق میں بہتری یہی ہے کہ وہ اس کے فرمان پر عامل رہیں اور اسی میں اپنی خیریت سمجھیں گو وہ فرمان بظاہر خلاف طبع ہو۔
بہت ممکن ہے کہ تم جسے ناپسند رکھتے ہو وہی تمہارے حق میں بہتر ہو وہ تمہیں تمہاری حکم بجا آوری اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سچی جانثاری کی عوض راہ مستقیم دکھائے گا اور دیگر غنیمتیں اور فتح مندیاں بھی عطا فرمائے گا جو تمہارے بس کی نہیں۔
لیکن اللہ خود تمہاری مدد کرے گا اور ان مشکلات کو تم پر آسان کر دے گا سب چیزیں اللہ کے بس میں ہیں، وہ اپنا ڈر رکھنے والے بندوں کو ایسی جگہ سے روزیاں پہنچاتا ہے جو کسی کے خیال میں تو کیا؟ خود ان کے اپنے خیال میں بھی نہ ہوں، اس غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے جس کا وعدہ صلح حدیبیہ میں پنہاں تھا یا مکہ کی فتح تھی یا فارس اور روم کے مال ہیں یا وہ تمام فتوحات ہیں جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی۔