ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفتح (48) — آیت 19

وَّ مَغَانِمَ کَثِیۡرَۃً یَّاۡخُذُوۡنَہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۹﴾
اور بہت سی غنیمتیں، جنھیں وہ حاصل کریں گے اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور بہت سی غنیمتیں جو انہوں نے حاصل کیں۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے
En
اور بہت سی غنیمتیں جنہیں وه حاصل کریں گے اور اللہ غالب حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) ➊ {وَ مَغَانِمَ كَثِيْرَةً يَّاْخُذُوْنَهَا:} اس سے مراد خیبر اور یہود کی دوسری بستیاں ہیں جو کسی خاص مزاحمت کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ صفی الرحمن مبارک پوری لکھتے ہیں: خیبر مدینہ سے شمال کی طرف اسّی (۸۰) میل کے فاصلے پر ایک بہت بڑا شہر تھا، جس میں کئی قلعے اور بہت سے باغات تھے۔ ابن اسحاق نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے واپس آ کر مدینہ میں ذوالحجہ اور محرم کا کچھ حصہ ٹھہرے، پھر محرم کے باقی دنوں میں خیبر کی طرف نکلے۔ (الرحیق المختوم) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [اِفْتَتَحْنَا خَيْبَرَ، وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ فِضَّةً، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْبَقَرَ وَالْإِبِلَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ خیبر: ۴۲۳۴] ہم نے خیبر فتح کیا اور ہمیں سونا چاندی غنیمت میں نہیں ملا، ہمیں صرف گائے بیل، اونٹ، سامان اور باغات غنیمت میں ملے۔ خیبر کی فتح کے نتیجے میں مسلمانوں کو حاصل ہونے والی غنیمتوں کا اندازہ ابن عمر رضی اللہ عنھما کی ایک روایت سے ہوتا ہے، انھوں نے فرمایا: [مَا شَبِعْنَا حَتّٰي فَتَحْنَا خَيْبَرَ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ خیبر: ۴۲۴۳] ہم نے سیر ہو کر نہیں کھایا حتیٰ کہ خیبر فتح کیا۔ اور عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ قُلْنَا الْآنَ نَشْبَعُ مِنَ التَّمْرِ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ خیبر: ۴۲۴۲] جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا، اب ہم کھجوریں پیٹ بھر کر کھائیں گے۔ الرحیق المختوم میں ہے: اس فتح کے نتیجے میں مہاجرین کے حصے میں اتنی زمین اور باغات آئے کہ انھوں نے کھجوروں کے وہ درخت انصار کو واپس کر دیے جو انصار نے مدینہ میں انھیں دے رکھے تھے۔
➋ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا:} چونکہ کفار کی تعداد اور سازو سامان کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت کے پیش نظریہ بات ممکن نظر نہیں آتی تھی، اس جملے کے ساتھ اس فتح و غنیمت کا سبب بیان فرمایا۔ بقاعی نے فرمایا: اس واؤ کے ساتھ مقدر جملے پر عطف ہے: {أَيْ بِعِزَّةِ اللّٰهِ وَ حِكْمَتِهِ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا} یعنی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عزت و حکمت کی بدولت ہوا اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ نہ اس پر کوئی غالب آ سکتا ہے، نہ اس کی تدبیر میں کسی خطا کی نشان دہی کر سکتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 یہ وہ غنیمتیں ہیں جو خیبر سے حاصل ہوئیں یہ نہایت زرخیز اور شاداب علاقہ تھا اسی حساب سے یہاں سے مسلمانوں کو بہت بڑی تعداد میں غنیمت کا مال حاصل ہوا جسے صرف اہل حدیبیہ میں تقسیم کیا گیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ اور بہت سے اموال غنیمت بھی جو وہ حاصل کریں گے اور اللہ بڑا غالب ہے، حکمت والا [27] ہے۔
[27] یعنی حدیبیہ کے مقام پر جنگ نہ ہونے میں اور بہرحال صلح ہو جانے میں اللہ کی بے شمار حکمتیں تھیں لہٰذا اس نے وہی کام ہونے دیا جو اسے منظور تھا۔ رہا بیعت کرنے والوں کی جانثاری کا صلہ تو وہ غنائم خیبر کی صورت میں انہیں مل جائے گا۔ اور اللہ کے ہاں ان کے لئے جو صلہ ہے وہ تو بہت زیادہ ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

چودہ سو صحابہ اور بیعت رضوان ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ بیعت کرنے والے چودہ سو کی تعداد میں تھے اور یہ درخت ببول کا تھا جو حدیبیہ کے میدان میں تھا، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ جب حج کو گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جگہ نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت الرضوان ہوئی تھی۔ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر یہ قصہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا: میرے والد صاحب بھی ان بیعت کرنے والوں میں تھے، ان کا بیان ہے کہ بیعت کے دوسرے سال ہم وہاں گئے لیکن ہم سب کو بھلا دیا گیا وہ درخت ہمیں نہ ملا، پھر سعید فرمانے لگے تعجب ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بیعت کرنے والے تو اس جگہ کو نہ پا سکیں انہیں معلوم نہ ہو لیکن تم لوگ جان لو گویا تم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ جاننے والے ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4163]‏‏‏‏
پھر فرمایا ہے ان کی دلی صداقت نیت وفا اور سننے اوج جاننے والی عادت کو اللہ نے معلوم کر لیا پس ان کے دلوں میں اطمینان ڈال دیا اور قریب کی فتح انعام فرمائی۔
یہ فتح وہ صلح ہے جو حدیبیہ کے میدان میں ہوئی جس سے عام بھلائی حاصل ہوئی اور جس کے قریب ہی خیبر فتح ہوا، پھر تھوڑے ہی زمانے کے بعد مکہ بھی فتح ہو گیا، پھر اور قلعے اور علاقے بھی فتح ہوتے چلے گئے۔ اور وہ عزت و نصرت و فتح و ظفر و اقبال اور رفعت حاصل ہوئی کہ دنیا انگشت بدنداں حیران و پریشان رہ گئی۔ اسی لیے فرمایا کہ بہت سی غنیمتیں عطا فرمائے گا۔ سچے غلبہ والا اور کامل حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کی کہ لوگو! بیعت کے لیے آگے بڑھو، روح القدس آ چکے ہیں۔ ہم بھاگے دوڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت ببول کے درخت تلے تھے ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا ذکر آیت «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا» ۱؎ [48-الفتح:18]‏‏‏‏ میں ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر خود ہی بیعت کر لی، تو ہم نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بڑے خوش نصیب رہے کہ ہم تو یہاں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے یہ سن کر جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالکل ناممکن ہے کہ عثمان ہم سے پہلے طواف کر لے، گو کئی سال تک وہاں رہے۔‏‏‏‏ ۱؎ (‏‏‏‏ضعیف: اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں)