لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحۡتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَثَابَہُمۡ فَتۡحًا قَرِیۡبًا ﴿ۙ۱۸﴾
بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے راضی ہوگیا، جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، تو اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت نازل کر دی اور انھیں بدلے میں ایک قریب فتح عطا فرمائی۔
En
(اے پیغمبر) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا۔ اور جو (صدق وخلوص) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا۔ تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی
En
یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 18) ➊ {لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ …:} اس سے پہلے {” اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ “} میں حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کو اللہ تعالیٰ سے بیعت قرار دینے کے بعد اس سے پیچھے رہنے والوں کا حال بیان فرمایا، اب دوبارہ بیعت کرنے والوں پر اپنی رضا کا اور دوسری بشارتوں کا ذکر فرمایا۔
➋ اس درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ کرام کو بیعت کے وقت ہی کائنات کی سب سے بڑی نعمت مل گئی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی، کیونکہ اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ» [التوبۃ: ۷۲] ”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ» ”بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے اس وقت راضی ہو گیا جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔“ اس رضا ہی کی وجہ سے اس کا نام بیعتِ رضوان ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا داخلہ لازم و ملزوم ہیں۔ (دیکھیے مجادلہ: ۲۲۔ توبہ: ۷۲) جب ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے شہادت دے دی کہ وہ ان پر راضی ہو گیا تو کس قدر بد نصیب ہے وہ گروہ جو ان مقبول بندوں سے ناراض اور ان سے بغض و عداوت رکھے اور کہے کہ وہ بعد میں نعوذ باللہ مرتد ہو گئے۔ کیا اللہ تعالیٰ کو آئندہ کا علم نہیں تھا اور وہ رضا کیسی ہے جس کے باوجود وہ بندے مرتد ہو جائیں جن پر وہ راضی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے علاوہ مزید حاصل ہونے والی نعمتوں کا بیان آگے آ رہا ہے۔
قرآن مجید کے علاوہ صحیح احادیث میں بھی بیعت رضوان میں شریک صحابہ کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں: ”حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: [أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ] ”تم زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔“ اور (اس وقت) ہم چودہ سو تھے اور اگر آج مجھے دکھائی دیتا ہوتا تو میں تمھیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۵۴] ام مبشر رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے حفصہ رضی اللہ عنھا کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: [لَا يَدْخُلُ النَّارَ، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا تَحْتَهَا] [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أصحاب الشجرۃ…: ۲۴۹۶] ”ان شاء اللہ اس درخت والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہو گا جنھوں نے اس کے نیچے بیعت کی۔“ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حاطب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام حاطب رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آیا اور کہنے لگا: ”یا رسول اللہ! حاطب ضرور آگ میں داخل ہو گا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ] [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل حاطب بن أبي بلتعۃ…: ۲۴۹۵] ”تو نے غلط کہا، وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، کیونکہ اس نے تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کی ہے۔“
➌ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَ أَرْبَعَ مِائَةٍ فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ] [مسلم، الإمارۃ، باب استحباب مبایعۃ الإمام الجیش…: ۱۸۵۶] ”ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور عمر رضی اللہ عنہ درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور وہ کیکر کا درخت تھا۔“
➍ طارق بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ میں حج کرنے کے لیے گیا تو میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں، میں نے پوچھا: ”کیا یہ نماز کی جگہ ہے؟“ انھوں نے کہا: ”یہ وہ درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعتِ رضوان لی تھی۔“ میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور انھیں بتایا تو سعید نے فرمایا:” میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنھوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، تو جب ہم اگلے سال آئے تو ہمیں وہ درخت بھلا دیا گیا، ہم اسے پا ہی نہ سکے۔“ سعید نے فرمایا: ”اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تو وہ معلوم نہ ہوا اور تم نے اسے جان لیا، پھر تم زیادہ جاننے والے ہوئے؟“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۶۳] عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [رَجَعْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَمَا اجْتَمَعَ مِنَّا اثْنَانِ عَلَی الشَّجَرَةِ الَّتِيْ بَايَعْنَا تَحْتَهَا، كَانَتْ رَحْمَةً مِّنَ اللّٰهِ] [بخاري، الجھاد والسیر، باب البیعۃ في الحرب أن لا یفروا: ۲۹۵۸] ”ہم آئندہ سال دوبارہ آئے تو ہم میں سے دو شخص بھی اس درخت پر متفق نہ ہو سکے جس کے نیچے ہم نے بیعت کی تھی، یہ اللہ کی طرف سے رحمت تھی۔“ فتح الباری میں اس کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں حکمت یہ تھی کہ اس درخت کے نیچے خیر کے اس کام کی وجہ سے لوگ فتنے میں مبتلا نہ ہو جائیں، کیونکہ اگر اس کی پہچان باقی رہتی تو بعض جاہل لوگوں سے اس کی تعظیم کا خطرہ تھا، حتیٰ کہ ممکن تھا کہ وہ یہ عقیدہ رکھ لیتے کہ اس درخت میں نفع اور نقصان پہنچانے کی طاقت ہے، جیسا کہ اب اس سے بھی معمولی چیزوں میں اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔“ ابن حجر نے اپنے زمانے کی بات کی ہے، ہمارے دور میں تو آثار پرستی کا معاملہ اس سے بھی کہیں دور پہنچ چکا ہے۔ آج کل جو لوگ پیروں فقیروں کے آستانوں کے درختوں، پتھروں اور قبروں کو پوجنے سے نہیں چوکتے اگر انھیں وہ درخت مل جاتا تو وہ کیا کچھ نہ کرتے۔
➎ { فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اس صدق، اخلاص اور سمع و طاعت کو جان لیا جس کی وجہ سے انھوں نے دشمن کے اعتبار سے تعداد میں بہت کم ہونے اور تقریباً نہتے ہونے کے باوجود آخر دم تک میدان میں جمے رہنے کی بیعت کی اور اس سخت اضطراب اور بے قراری کو بھی جو ان کے دل میں صلح کی ناگوار شرطوں پر پیدا ہوئی، جس کا باعث کوئی نافرمانی نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی محبت اور ان کی عزت اور سربلندی کا جذبہ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق و اخلاص کی بدولت ان کے دل پر سکینت نازل فرمائی، جس کی بدولت انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم پر دلی اطمینان اور سکون حاصل ہوگیا اور وہ جس طرح موت تک لڑنے کے لیے تیار تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبول کردہ شرطوں پر صلح کے لیے بھی تیار ہو گئے۔
➏ یہ آیت بیعتِ رضوان والے صحابہ کے مخلص مومن ہونے کی واضح دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کے دلوں کے اخلاص کی شہادت دی ہے۔ نہایت بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ایسے مخلص ایمان والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ منافق تھے۔ [نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ]
➐ { وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا:} عام مفسرین اس ”فتح قریب“ سے مراد فتح خیبر لیتے ہیں اور یہ کچھ بعید بھی نہیں، مگر اہلِ علم کا ایک قول اس کے بارے میں یہ بھی ہے کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے، کیونکہ بیعتِ رضوان کے بعد یہی وہ بنیادی اور اہم فتح تھی جس سے مسلمانوں کے لیے دوسری تمام فتوحات کے راستے کھل گئے اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد خیبر فتح ہوا، پھر مکہ مکرمہ کی فتح ہوئی، حتیٰ کہ پورا جزیرۂ عرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں اسلام کے زیر نگیں آ گیا۔ اس سورت کی ابتدا میں اس صلح ہی کو فتح مبین فرمایا ہے۔
➋ اس درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ کرام کو بیعت کے وقت ہی کائنات کی سب سے بڑی نعمت مل گئی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی، کیونکہ اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ» [التوبۃ: ۷۲] ”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ» ”بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے اس وقت راضی ہو گیا جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔“ اس رضا ہی کی وجہ سے اس کا نام بیعتِ رضوان ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا داخلہ لازم و ملزوم ہیں۔ (دیکھیے مجادلہ: ۲۲۔ توبہ: ۷۲) جب ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے شہادت دے دی کہ وہ ان پر راضی ہو گیا تو کس قدر بد نصیب ہے وہ گروہ جو ان مقبول بندوں سے ناراض اور ان سے بغض و عداوت رکھے اور کہے کہ وہ بعد میں نعوذ باللہ مرتد ہو گئے۔ کیا اللہ تعالیٰ کو آئندہ کا علم نہیں تھا اور وہ رضا کیسی ہے جس کے باوجود وہ بندے مرتد ہو جائیں جن پر وہ راضی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے علاوہ مزید حاصل ہونے والی نعمتوں کا بیان آگے آ رہا ہے۔
قرآن مجید کے علاوہ صحیح احادیث میں بھی بیعت رضوان میں شریک صحابہ کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں: ”حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: [أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ] ”تم زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔“ اور (اس وقت) ہم چودہ سو تھے اور اگر آج مجھے دکھائی دیتا ہوتا تو میں تمھیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۵۴] ام مبشر رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے حفصہ رضی اللہ عنھا کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: [لَا يَدْخُلُ النَّارَ، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا تَحْتَهَا] [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أصحاب الشجرۃ…: ۲۴۹۶] ”ان شاء اللہ اس درخت والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہو گا جنھوں نے اس کے نیچے بیعت کی۔“ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حاطب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام حاطب رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آیا اور کہنے لگا: ”یا رسول اللہ! حاطب ضرور آگ میں داخل ہو گا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ] [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل حاطب بن أبي بلتعۃ…: ۲۴۹۵] ”تو نے غلط کہا، وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، کیونکہ اس نے تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کی ہے۔“
➌ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَ أَرْبَعَ مِائَةٍ فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ] [مسلم، الإمارۃ، باب استحباب مبایعۃ الإمام الجیش…: ۱۸۵۶] ”ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور عمر رضی اللہ عنہ درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور وہ کیکر کا درخت تھا۔“
➍ طارق بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ میں حج کرنے کے لیے گیا تو میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں، میں نے پوچھا: ”کیا یہ نماز کی جگہ ہے؟“ انھوں نے کہا: ”یہ وہ درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعتِ رضوان لی تھی۔“ میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور انھیں بتایا تو سعید نے فرمایا:” میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنھوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، تو جب ہم اگلے سال آئے تو ہمیں وہ درخت بھلا دیا گیا، ہم اسے پا ہی نہ سکے۔“ سعید نے فرمایا: ”اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تو وہ معلوم نہ ہوا اور تم نے اسے جان لیا، پھر تم زیادہ جاننے والے ہوئے؟“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۶۳] عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [رَجَعْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَمَا اجْتَمَعَ مِنَّا اثْنَانِ عَلَی الشَّجَرَةِ الَّتِيْ بَايَعْنَا تَحْتَهَا، كَانَتْ رَحْمَةً مِّنَ اللّٰهِ] [بخاري، الجھاد والسیر، باب البیعۃ في الحرب أن لا یفروا: ۲۹۵۸] ”ہم آئندہ سال دوبارہ آئے تو ہم میں سے دو شخص بھی اس درخت پر متفق نہ ہو سکے جس کے نیچے ہم نے بیعت کی تھی، یہ اللہ کی طرف سے رحمت تھی۔“ فتح الباری میں اس کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں حکمت یہ تھی کہ اس درخت کے نیچے خیر کے اس کام کی وجہ سے لوگ فتنے میں مبتلا نہ ہو جائیں، کیونکہ اگر اس کی پہچان باقی رہتی تو بعض جاہل لوگوں سے اس کی تعظیم کا خطرہ تھا، حتیٰ کہ ممکن تھا کہ وہ یہ عقیدہ رکھ لیتے کہ اس درخت میں نفع اور نقصان پہنچانے کی طاقت ہے، جیسا کہ اب اس سے بھی معمولی چیزوں میں اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔“ ابن حجر نے اپنے زمانے کی بات کی ہے، ہمارے دور میں تو آثار پرستی کا معاملہ اس سے بھی کہیں دور پہنچ چکا ہے۔ آج کل جو لوگ پیروں فقیروں کے آستانوں کے درختوں، پتھروں اور قبروں کو پوجنے سے نہیں چوکتے اگر انھیں وہ درخت مل جاتا تو وہ کیا کچھ نہ کرتے۔
➎ { فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اس صدق، اخلاص اور سمع و طاعت کو جان لیا جس کی وجہ سے انھوں نے دشمن کے اعتبار سے تعداد میں بہت کم ہونے اور تقریباً نہتے ہونے کے باوجود آخر دم تک میدان میں جمے رہنے کی بیعت کی اور اس سخت اضطراب اور بے قراری کو بھی جو ان کے دل میں صلح کی ناگوار شرطوں پر پیدا ہوئی، جس کا باعث کوئی نافرمانی نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی محبت اور ان کی عزت اور سربلندی کا جذبہ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق و اخلاص کی بدولت ان کے دل پر سکینت نازل فرمائی، جس کی بدولت انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم پر دلی اطمینان اور سکون حاصل ہوگیا اور وہ جس طرح موت تک لڑنے کے لیے تیار تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبول کردہ شرطوں پر صلح کے لیے بھی تیار ہو گئے۔
➏ یہ آیت بیعتِ رضوان والے صحابہ کے مخلص مومن ہونے کی واضح دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کے دلوں کے اخلاص کی شہادت دی ہے۔ نہایت بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ایسے مخلص ایمان والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ منافق تھے۔ [نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ]
➐ { وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا:} عام مفسرین اس ”فتح قریب“ سے مراد فتح خیبر لیتے ہیں اور یہ کچھ بعید بھی نہیں، مگر اہلِ علم کا ایک قول اس کے بارے میں یہ بھی ہے کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے، کیونکہ بیعتِ رضوان کے بعد یہی وہ بنیادی اور اہم فتح تھی جس سے مسلمانوں کے لیے دوسری تمام فتوحات کے راستے کھل گئے اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد خیبر فتح ہوا، پھر مکہ مکرمہ کی فتح ہوئی، حتیٰ کہ پورا جزیرۂ عرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں اسلام کے زیر نگیں آ گیا۔ اس سورت کی ابتدا میں اس صلح ہی کو فتح مبین فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18۔ 1 یہ ان اصحاب بیعت رضوان کے لیے رضائے الہی اور ان کے پکے سچے مومن ہونے کا سرٹیفکیٹ ہے جنہوں نے حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی کہ وہ قریش مکہ سے لڑیں گے اور راہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔ 18۔ 2 یعنی ان کے دلوں میں جو صدق و صفا کے جذبات تھے، اللہ ان سے بھی واقف ہے۔ اس سے ان دشمنان صحابہ اکرام کا رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ ان کا ایمان ظاہری تھا، دل سے وہ منافق تھے۔ 18۔ 3 یعنی وہ نہتے تھے جنگ کی نیت سے نہیں گئے تھے اس لیے جنگی ہتھیار مطلوبہ تعداد میں نہیں تھے اس کے باوجود جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ؓ کا بدلہ لینے کے لیے ان سے جہاد کی بیعت لی تو بلا ادنی تامل سب لڑنے کے لیے تیار ہوگئے یعنی ہم نے موت کا خوف ان کے دلوں سے نکال دیا اور اس کی جگہ صبر و سکینت ان پر نازل فرما دی جس کی بنا پر انہیں لڑنے کا حوصلہ ہوا۔ 18۔ 4 اس سے مراد وہی فتح خیبر ہے جو یہودیوں کا گڑھ تھا اور حدیبیہ سے واپسی پر مسلمانوں نے اسے فتح کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ بیشک اللہ مومنوں سے خوش ہو گیا جبکہ وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت [24] کر رہے تھے۔ ان کے دلوں کا حال اسے معلوم ہو گیا لہذا اس نے ان پر اطمینان [25] نازل فرمایا اور انہیں جلد ہی فتح دے [26] دی۔
[24] صحابہ کرام پر طعن کرنے والے؟
اس آیت کا آغاز ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ﴾ سے ہوا ہے۔ اسی وجہ سے اس بیعت کا نام بیعت رضوان پڑ گیا یعنی ایسی مخلصانہ اور سرفروشانہ بیعت جس پر اللہ نے ان لوگوں کو اپنی خوشنودی کا سرٹیفیکیٹ دے دیا۔ اور بعض احادیث میں صراحت سے یہ مذکور ہے کہ اس بیعت میں حصہ لینے والے سب جنتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض لوگ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان میں بھی شک کرتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ بلا شبہ یہ لوگ بیعت رضوان کے وقت تو اسلام کے وفادار اور اس کے لئے مخلص تھے مگر بعد میں بے وفا ثابت ہوئے۔ گویا ان لوگوں نے پہلا الزام تو ان عظیم المرتبت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر لگایا تھا۔ دوسرا اللہ تعالیٰ پر لگایا جسے اپنی رضا مندی کا سرٹیفکیٹ دیتے وقت اتنا بھی پتا نہ چل سکا کہ جن لوگوں کو میں یہ سند دے رہا ہوں وہ تو بعد میں بے وفا نکلیں گے۔ گویا یہ نظریہ ممتاز صحابہ کرام کی توہین ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب پر بھی زبردست چوٹ ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے ایمان کی خیر منانا چاہئے۔
درخت جس کے نیچے بیعت کی گئی تھی :۔
جس درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لی تھی اس کے متعلق دو طرح کی روایات ملتی ہیں۔ طبری کی روایت کے مطابق مسلمان اس درخت کی زیارت کو جانے لگے۔ وہ وہاں جا کر نمازیں اور نوافل وغیرہ ادا کرتے تھے۔ سیدنا عمرؓ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے اپنے دور خلافت میں کٹوا دیا۔ اس کے مقابلہ میں صحیح اور معتبر روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگلے ہی سال خود بیعت رضوان میں شامل ہونے والے بعض صحابہ وہاں گئے تو وہ خود بھی اس درخت کو پہچان نہ سکے جس کے نیچے بیعت لی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاریؓ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو آدمی تھے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
طارق بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں حج کی نیت سے روانہ ہوا۔ راستے میں کچھ لوگوں کو نماز ادا کرتے دیکھا تو پوچھا کہ ”یہ مسجد کیسی ہے؟“ کہنے لگے: یہاں وہ درخت تھا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے بیعت رضوان لی تھی۔ یہ سن کر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا۔ تو انہوں نے کہا کہ میرے والد (مسیب بن حزم) ان لوگوں سے تھے جنہوں نے درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ”جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کو پہچان نہ سکا“ سعید کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے۔ اور تم لوگ ان سے زیادہ علم رکھتے ہو۔ (کہ اسے پہچان کر وہاں مسجد بنا ڈالی) [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الحدیبیۃ]
1۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاریؓ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو آدمی تھے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
طارق بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں حج کی نیت سے روانہ ہوا۔ راستے میں کچھ لوگوں کو نماز ادا کرتے دیکھا تو پوچھا کہ ”یہ مسجد کیسی ہے؟“ کہنے لگے: یہاں وہ درخت تھا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے بیعت رضوان لی تھی۔ یہ سن کر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا۔ تو انہوں نے کہا کہ میرے والد (مسیب بن حزم) ان لوگوں سے تھے جنہوں نے درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ”جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کو پہچان نہ سکا“ سعید کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے۔ اور تم لوگ ان سے زیادہ علم رکھتے ہو۔ (کہ اسے پہچان کر وہاں مسجد بنا ڈالی) [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الحدیبیۃ]
[25] اس دن جنگ کو روکنا اللہ کا احسان تھا :۔
یعنی بیعت کرنے والوں کی نسبت یہ معلوم ہو گیا کہ ان میں اسلام کی خاطر کس قدر جان نثاری اور سرفروشی کا جذبہ موجود ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اس بات پر جما دیا کہ نتائج خواہ کیسے برآمد ہوں ہمیں ضرور جنگ لڑنا چاہئے۔ بظاہر جو نتیجہ نظر آرہا تھا وہ تو یہی تھا ایک طرف صرف چودہ سو نہتے اور پردیسی مسلمان تھے۔ دوسری طرف ان کا طاقتور جانی دشمن تھا جو ساز و سامان کے لحاظ سے، تعداد کے لحاظ سے، رسد کے لحاظ سے غرضیکہ ہر لحاظ سے ان سے بڑھ کر تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اپنے گھر پر تھا اور اس کے حریف اس مسلمان کے گھر آ گئے تھے۔ اس صورت حال میں اللہ کا مسلمانوں کے دلوں کو جنگ پر جما دینا اور اسے اطمینان مہیا کر دینا واقعی اللہ کی بہت بڑی نعمت تھی۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ کی طرف اس قدر پیش رفت کے بعد اللہ نے کافروں سے بہرحال صلح کر لینے کی خاطر ان کے جذبات کو ٹھنڈا کر کے انہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر مطمئن کر دیا۔
[26] قریبی فتح سے مراد فتح خیبر ہے جو صلح نامہ حدیبیہ کے صرف تین ماہ بعد وقوع پذیر ہوئی تھی۔
[26] قریبی فتح سے مراد فتح خیبر ہے جو صلح نامہ حدیبیہ کے صرف تین ماہ بعد وقوع پذیر ہوئی تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چودہ سو صحابہ اور بیعت رضوان ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ بیعت کرنے والے چودہ سو کی تعداد میں تھے اور یہ درخت ببول کا تھا جو حدیبیہ کے میدان میں تھا، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ جب حج کو گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جگہ نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت الرضوان ہوئی تھی۔ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر یہ قصہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا: میرے والد صاحب بھی ان بیعت کرنے والوں میں تھے، ان کا بیان ہے کہ بیعت کے دوسرے سال ہم وہاں گئے لیکن ہم سب کو بھلا دیا گیا وہ درخت ہمیں نہ ملا، پھر سعید فرمانے لگے تعجب ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بیعت کرنے والے تو اس جگہ کو نہ پا سکیں انہیں معلوم نہ ہو لیکن تم لوگ جان لو گویا تم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ جاننے والے ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4163]
پھر فرمایا ہے ان کی دلی صداقت نیت وفا اور سننے اوج جاننے والی عادت کو اللہ نے معلوم کر لیا پس ان کے دلوں میں اطمینان ڈال دیا اور قریب کی فتح انعام فرمائی۔
پھر فرمایا ہے ان کی دلی صداقت نیت وفا اور سننے اوج جاننے والی عادت کو اللہ نے معلوم کر لیا پس ان کے دلوں میں اطمینان ڈال دیا اور قریب کی فتح انعام فرمائی۔
یہ فتح وہ صلح ہے جو حدیبیہ کے میدان میں ہوئی جس سے عام بھلائی حاصل ہوئی اور جس کے قریب ہی خیبر فتح ہوا، پھر تھوڑے ہی زمانے کے بعد مکہ بھی فتح ہو گیا، پھر اور قلعے اور علاقے بھی فتح ہوتے چلے گئے۔ اور وہ عزت و نصرت و فتح و ظفر و اقبال اور رفعت حاصل ہوئی کہ دنیا انگشت بدنداں حیران و پریشان رہ گئی۔ اسی لیے فرمایا کہ بہت سی غنیمتیں عطا فرمائے گا۔ سچے غلبہ والا اور کامل حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کی کہ لوگو! بیعت کے لیے آگے بڑھو، روح القدس آ چکے ہیں۔ ہم بھاگے دوڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت ببول کے درخت تلے تھے ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا ذکر آیت «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا» ۱؎ [48-الفتح:18] میں ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر خود ہی بیعت کر لی، تو ہم نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بڑے خوش نصیب رہے کہ ہم تو یہاں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے یہ سن کر جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل ناممکن ہے کہ عثمان ہم سے پہلے طواف کر لے، گو کئی سال تک وہاں رہے۔“ ۱؎ (ضعیف: اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں)
ابن ابی حاتم میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کی کہ لوگو! بیعت کے لیے آگے بڑھو، روح القدس آ چکے ہیں۔ ہم بھاگے دوڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت ببول کے درخت تلے تھے ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا ذکر آیت «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا» ۱؎ [48-الفتح:18] میں ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر خود ہی بیعت کر لی، تو ہم نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بڑے خوش نصیب رہے کہ ہم تو یہاں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے یہ سن کر جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل ناممکن ہے کہ عثمان ہم سے پہلے طواف کر لے، گو کئی سال تک وہاں رہے۔“ ۱؎ (ضعیف: اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں)