(آیت 13) {وَمَنْلَّمْيُؤْمِنْۢبِاللّٰهِوَرَسُوْلِهٖ …:} اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے متعلق برا گمان رکھے، مسلمان ہونے کے باوجود مسلمانوں کے نقصان پر اور اپنی جان بچانے پر خوش ہو وہ مومن نہیں بلکہ کافر ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کلمۂ اسلام کہنے اور مسلمانوں کے ساتھ مسلمان بن کر رہنے کی وجہ سے دنیوی احکام میں انھیں مسلمان ہی سمجھا جائے گا، مگر آخرت میں ان کے لیے کھلے کافروں سے بھی سخت عذاب تیار ہے، فرمایا: «اِنَّالْمُنٰفِقِيْنَفِيالدَّرْكِالْاَسْفَلِمِنَالنَّارِ» [النساء: ۱۴۵]”بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو ایسے کافروں کے لئے [15] ہم نے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔
[15] اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بد ظنی رکھے یا مسلمان ہونے کے باوجود اس کی ہمدردیاں اسلام دشمن گروہ کے ساتھ ہوں وہ ایماندار نہیں رہتا بلکہ غیر مومن ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اسی آیت کا اگلا حصہ یہ وضاحت کر رہا ہے کہ وہ کافر ہو جاتا ہے اور اسے آخرت میں کافروں جیسا ہی عذاب ہو گا۔ اگرچہ اس دنیا میں ایمانداروں میں ہی ملا جلا رہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔