(آیت 31) ➊ { وَلَنَبْلُوَنَّكُمْحَتّٰىنَعْلَمَالْمُجٰهِدِيْنَمِنْكُمْ …:} یہ مسلمانوں سے عام خطاب ہے کہ منافقوں کے ذکر سے یہ خیال نہ کرنا کہ تم امتحان سے مستثنیٰ ہو۔ ہر گز نہیں، بلکہ ہم ہر حال میں مختلف احکام کے ساتھ تمھاری آزمائش کریں گے، حتیٰ کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمھارے حالات کی خوب جانچ پڑتال کر لیں۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ کاموں کا علم ہے وہ ان کاموں کو بھی جانتا ہے جو آئندہ ہونے والے ہیں، پھر اس بات کا کیا مطلب کہ یہاں تک کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں؟ حافظ ابن کثیر نے فرمایا: ”مراد یہ ہے کہ ہم اس بات کا واقع ہونا جان لیں۔ اس لیے ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس جیسے الفاظ کے بارے میں فرمایا کہ{”نَعْلَمَ“} کا معنی {”نَرٰي“} ہے، یعنی حتیٰ کہ ہم دیکھ لیں۔“ (ابن کثیر) یعنی بے شک اللہ تعالیٰ پہلے جانتا ہے کہ آئندہ کیا ہو گا، مگر یہ بات کہ وہ کام واقع ہو چکا ہے اس کے علم میں اسی وقت آتی ہے جب وہ کام واقع ہو اور اس وقت ہی وہ اس کے واقع ہونے کو جانتا اور دیکھتا ہے۔ جو کام واقع ہی نہیں ہوا اس کے متعلق کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ واقع ہو چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۱۴۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
31۔ 1 اللہ تعالیٰ کے علم میں تو پہلے ہی سب کچھ ہے۔ یہاں علم سے مراد اس کا وقوع اور ظہورہے تاکہ دوسرے بھی جان لیں اور دیکھ لیں۔ اسی لئے امام ابن کثیر نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے کہ ہم اس کے وقوع کو جان لیں یا ہم دیکھ لیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
31۔ ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے تا آنکہ یہ معلوم [35] کر لیں کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں اور صابر کون؟ اور تمہارے احوال کی جانچ پڑتال کریں گے
[35] بدا یعنی اللہ کے حدوث علم کا گمراہ کا کن عقیدہ :۔
﴿لِنَعْلَمَ﴾ کے لفظ سے بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حدوث علم کا شبہ ظاہر کیا۔ یعنی اللہ کو بھی کوئی واقعہ ہو چکنے کے بعد علم ہوتا ہے پہلے نہیں ہوتا۔ حالانکہ بے شمار آیات اللہ تعالیٰ کے ازلی اور کلی علم کی صراحت پیش کرتی ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے الفاظ صرف اس وقت استعمال فرماتے ہیں کہ جبکہ اس علم کا تعلق اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے دیکھنے سے ہو۔ یعنی جہاد کے بغیر بھی اللہ تعالیٰ کفر کا سر توڑ کر مسلمانوں کی مدد کر سکتا تھا۔ لیکن اس طرح کسی کے صبر و استقلال اور ایمان کی آزمائش نہیں ہو سکتی تھی۔ اور نہ ہی مختلف لوگوں کی مختلف طرح کی سرگرمیوں کا پتا لگ سکتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔