اس آیت کی تفسیر آیت 27 میں تا آیت 29 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ یہ اس لئے کہ وہ ایسی بات کے پیچھے لگ گئے جس نے اللہ کو ناراض کر دیا اور اس کی رضا (کی راہ اختیار کرنا) پسند نہ [32] کیا تو اللہ نے ان کے سب اعمال ضائع کر دیئے۔
[32] حق و باطل کی جنگ میں جس شخص کی ہمدردیاں کافروں سے ہوں وہ مسلمان نہیں رہتا :۔
اللہ کی رضا یہ تھی کہ مسلمانوں کا ساتھ دیتے، یہودیوں کا نہ دیتے۔ لیکن انہوں نے اللہ کی رضا کے بجائے نفاق کی راہ اختیار کی اور یہودیوں کی رضا کو پسند کیا۔ لہٰذا جو نیک اعمال انہوں نے زبانی طور پر اسلام لانے کے بعد کئے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں ادا کی ہیں، روزے رکھے ہیں یا اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا ہے۔ اللہ ان کے ایسے سب اعمال ضائع کر دے گا اس سے ایک نہایت اہم بات معلوم ہوئی ہے جو یہ ہے کہ اگر مسلمانوں اور کافروں کی جنگ میں کسی مسلمان کی ہمدردیاں کافروں کے ساتھ ہوں تو وہ مسلمان نہیں رہتا اور اس کے نیک اعمال اگر کچھ ہوں تو وہ بھی اکارت جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر فرماتا ہے ان کا کیا حال ہو گا؟ جبکہ فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کو آئیں گے اور ان کی روحیں جسموں میں چھپتی پھریں گی اور ملائکہ جبرا، قہرا، ڈانٹ، جھڑک اور مار پیٹ سے انہیں باہر نکالیں گے۔ جیسے ارشاد باری ہے «وَلَوْتَرَىٰإِذْيَتَوَفَّىالَّذِينَكَفَرُوا الْمَلَائِكَةُيَضْرِبُونَوُجُوهَهُمْوَأَدْبَارَهُمْوَذُوقُواعَذَابَالْحَرِيقِ»۱؎[8-الأنفال:50]، یعنی ’ کاش کہ تو دیکھتا جبکہ ان کافروں کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہوئے ان کے منہ پر طمانچے اور ان کی پیٹھ پر مکے مارتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْتَرَىٰإِذِالظَّالِمُونَفِيغَمَرَاتِالْمَوْتِوَالْمَلَائِكَةُبَاسِطُوأَيْدِيهِمْأَخْرِجُواأَنفُسَكُمُالْيَوْمَتُجْزَوْنَعَذَابَالْهُونِبِمَاكُنتُمْتَقُولُونَعَلَىاللَّـهِغَيْرَالْحَقِّوَكُنتُمْعَنْآيَاتِهِتَسْتَكْبِرُونَ»۱؎[6-الأنعام:93]، یعنی ’ کاش کہ تو دیکھتا جبکہ یہ ظالم سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ ان کی طرف مارنے کے لیے پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو آج تمہیں ذلت کے عذاب کئے جائیں گے اس لیے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیتوں میں تکبر کرتے تھے ‘۔ یہاں ان کا گناہ بیان کیا گیا کہ ان کاموں اور باتوں کے پیچھے لگے ہوئے تھے جن سے اللہ ناخوش ہو اور اللہ کی رضا سے کراہت کرتے تھے۔ پس ان کے اعمال اکارت ہو گئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔