ترجمہ و تفسیر — سورۃ محمد (47) — آیت 26

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لِلَّذِیۡنَ کَرِہُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ ۚۖ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اِسۡرَارَہُمۡ ﴿۲۶﴾
یہ اس لیے کہ انھوںنے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اس چیز کو نا پسند کیاجو اللہ نے نازل کی، عنقریب ہم بعض کا موں میں تمھارا کہا مانیں گے اور اللہ ان کے چھپانے کو جانتا ہے۔ En
یہ اس لئے کہ جو لوگ خدا کی اُتاری ہوئی (کتاب) سے بیزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے۔ اور خدا ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے
En
یہ اس لئے کہ انہوں نے ان لوگوں سے جنہوں نے اللہ کی نازل کرده وحی کو برا سمجھا یہ کہا کہ ہم بھی عنقریب بعض کاموں میں تمہارا کہا مانیں گے، اور اللہ ان کی پوشیده باتیں خوب جانتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) ➊ {ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ: لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ } سے مراد کفار ہیں، جیسا کہ اسی سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ» ‏‏‏‏ [محمد: ۹] یہ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو نا پسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔
➋ { سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ:} بعض کاموں سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور عداوت ہے اور یہ کہ جب جنگ کا موقع آئے مسلمانوں کو دھوکا دیا جائے اور ہر طریقے سے ان کے دشمنوں کی مدد کی جائے۔ یعنی ان کے ایمان قبول کرنے کے بعد کفر و ارتداد کی طرف پلٹنے، جہاد سے فرار اور منافقت اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ دوسرے مخلص مسلمانوں کی طرح وہ تمام کاموں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والے کفار سے کہا کہ ہم اسلام قبول کرنے اور مسلمانوں میں رہنے کی وجہ سے تمھاری ہر بات نہیں مان سکتے، نہ کھلم کھلا اپنے کفر کا اظہار کر سکتے ہیں، مگر ہم کچھ کاموں میں تمھاری اطاعت ضرور کریں گے۔ وہ اس طرح کہ جنگ کے موقع پر تمھاری مدد کریں گے، جیسا کہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی اُحد کے موقع پر عین میدانِ جنگ سے تین سو آدمیوں کو واپس لے گیا اور جس طرح منافقین نے بنو نضیر کے یہودیوں کو ہلاشیری دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ڈٹے رہو، اگر تمھیں نکالا گیا تو ہم تمھارے ساتھ نکلیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمھارے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ دیکھیے سورۂ حشر (۱۱)۔
➌ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ:} اور اللہ تعالیٰ ان کی سرگوشیوں اور سازشوں کو جو وہ چھپ کر کرتے ہیں خوب جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ انھیں اس کی سزا ضرور دے گا۔ اس آیت کا مضمون سورۂ نساء کی آیت (۸۱) میں بھی بیان ہوا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26۔ 1 ' یہ ' سے مراد ان کا مرتد ہونا ہے۔ 26۔ 2 یعنی منافقین نے مشرکین سے یا یہود سے کہا۔ 26۔ 3 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی مخالفت میں۔ 2 6 ۔ 4 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ (ۭ وَاللّٰهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ) 4۔ النساء:81)۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ یہ اس لئے کہ ان (منافقین) نے ان لوگوں (یہود) سے کہا، جو اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرتے تھے، کہ ہم تمہاری کچھ باتیں [30] مان لیں گے اور اللہ ان کے راز کی باتوں کو خوب جانتا ہے
[30] منافقین کا یہود سے درپردہ معاہدہ :۔
شیطان کی انہیں ایسی پٹی پڑھانے کی ایک وجہ یہ بھی بن گئی کہ ان بد بخت منافقوں نے اندر ہی اندر یہود سے ساز باز کر رکھی تھی اور ان منافقوں نے یہود سے ان کے مطالبہ پر کچھ ایسے دعوے بھی کر رکھے تھے کہ وہ انہیں مسلمانوں کی نقل و حرکت اور ان کی جنگی سرگرمیوں سے مطلع کرتے رہیں گے۔ اور اگر جنگ ہوئی تو ہم تم سے لڑیں گے نہیں بلکہ مسلمانوں کو چکمہ ہی دیتے رہیں گے۔ اور جنگ کے دوران منافقوں نے ایسا ہی کردار ادا کیا تھا اور اس کے عوض یہود نے بھی ان سے کچھ وعدے کر رکھے تھے۔ گویا منافق یہودیوں کے لیے تو گھر کا بھیدی اور مسلمانوں کے حق میں مار آستین بنے ہوئے تھے۔ مگر اللہ تو ہر شخص کے دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو ان منافقوں کی کرتوتوں سے وقتاً فوقتاً مطلع کر دیتا تھا تو یہ ذلیل اور ننگے ہو جاتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔