اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَتَمَتَّعُوۡنَ وَ یَاۡکُلُوۡنَ کَمَا تَاۡکُلُ الۡاَنۡعَامُ وَ النَّارُ مَثۡوًی لَّہُمۡ ﴿۱۲﴾
یقینا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا فائدہ اٹھاتے اور کھاتے ہیں، جس طرح چوپائے کھاتے ہیں اور آگ ان کے لیے رہنے کی جگہ ہے۔
En
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل فرمائے گا۔ اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے
En
جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک اعمال کیے انہیں اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور جو لوگ کافر ہوئے وه (دنیا ہی کا) فائده اٹھا رہے ہیں اور مثل چوپایوں کے کھا رہے ہیں، ان کا (اصل) ٹھکانہ جہنم ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 12) ➊ { اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} دنیا میں پہلی قوموں پر آنے والے عذابوں کا اور ایمان والوں کی نصرت کا ذکر فرمانے کے بعد آخرت میں دونوں کا انجام ذکر فرمایا۔ چونکہ مومن اپنے ایمان اور عمل صالح کے تقاضوں کے پابند رہے، انھوں نے دنیا کی نعمتوں اور لذتوں سے فائدہ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند رہ کر اٹھایا۔ وہی کھایا اور پہنا جو ان کے رب نے ان کے لیے حلال فرمایا، وہ تمام حرام کردہ اشیاء سے بچے۔ شراب، ریشم اور سونے کے استعمال سے پرہیز کرتے رہے۔ زنا، چوری، دوسرے کا حق کھانے، غرض ہر معصیت سے اجتناب کیا۔ ان کی لذتیں اٹھانے کی بے شمار حسرتیں ان کے دل میں رہ گئیں اور انھوں نے یہاں ایک قیدی کی سی زندگی گزاری، جو صرف انھی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو انھیں قید کرنے والا مہیا کرے۔ اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ انھیں عظیم الشان باغات میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور فرمائے گا کہ یہاں تمھارے دل کی ہر خواہش اور ہر طلب پوری ہو گی، بلکہ وہ کچھ ملے گا جو نہ تمھاری آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اور اکثر جگہ باغات اور نہروں ہی کا ذکر فرمایا ہے، اس لیے کہ دنیا کے مکانوں اور کوٹھیوں کا ایک حصہ گھر کے چمن پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے کہ پودوں، چشموں اور نہروں سے انسان کو فطری طور پر محبت ہے، مگر اصل مکان ان سے کہیں وسیع، خوبصورت اور قیمتی ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان مکانات اور ان میں موجود رہنے سہنے، کھانے پینے، بیوی بچوں اور دوسری بے شمار اشیاء کی عظمت و شوکت کا اندازہ ان باغوں اور نہروں سے لگا لو جو بطورِ چمن ان مکانوں کے ساتھ ہیں۔
➋ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَ يَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ:} ایمان والوں کے برعکس کفار کھانے پینے اور دنیا کی لذتیں اٹھانے میں کسی پابندی کی پروا نہیں کرتے، انھیں حلال و حرام، اپنے یا دوسرے کے حق سے کوئی غرض نہیں، وہ خنزیر، مردار اور ہر حرام چیز کھاتے، شراب پیتے، زنا کرتے غرض دل کا ہر ارمان پورا کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مہیا نہ ہو سکنے کی وجہ سے وہ کسی لذت سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، کیونکہ دنیا میں ہر شخص کو اتنا ہی ملتا ہے جو مالک نے لکھ دیا ہے، مگر اپنی حسرتیں پوری کرنے میں وہ کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیتے۔ دنیا ان کے لیے جنت ہے جہاں وہ ہر قید اور پابندی سے آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کاحال ہو بہو جانوروں جیسا ہے جو کھانے پینے، رہنے سہنے اور اپنی جنسی خواہش کی تکمیل میں کسی قید کے پابند نہیں ہیں، ان میں سے ہر طاقتور کمزور سے اس کا حق بھی چھین لیتا ہے۔ انھیں نہ عاقبت یاد ہے نہ باز پرس کی کوئی فکر ہے۔
➌ {وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ:} چونکہ انھوں نے اپنے رب سے کفر کیا، نہ ایمان لائے نہ عمل صالح کیا، نہ اس کے احکام کی پابندی کی، اس لیے ان کا مستقل ٹھکانا آگ ہے۔
➍ بعض لوگ اس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ جانور کھڑے ہو کر کھاتے پیتے ہیں، اس لیے کھڑے ہو کر کھانا پینا منع ہے، مگر اس مقصد کے لیے اس آیت کے بجائے احادیث سے استدلال کرنا چاہیے اور اس مسئلے میں اتنی ہی سختی کرنی چاہیے جتنی احادیث سے ثابت ہے، کیونکہ ضرورت کے وقت سنت سے اس کی اجازت بھی ثابت ہے۔
➎ چونکہ جانوروں کی ساری جدوجہد ہی کھانے پینے کے لیے ہوتی ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشابہت سے بچنے کے لیے کم کھانے پر زور دیا ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِيْ مِعًی وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِيْ سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ] [بخاري، الأطعمۃ، باب المؤمن یأکل في معی واحد …: ۵۳۹۳] ”مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔“ اور مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلاَتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ] [ترمذي، الزھد، باب ما جاء في کراھیۃ کثرۃ الأکل: ۲۳۸۰، و قال الألباني صحیح] ”کسی آدمی نے پیٹ سے برا برتن نہیں بھرا۔ ابنِ آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں۔ سو اگر کوئی چارہ نہیں تو تیسرا حصہ اس کے کھانے کے لیے، تیسرا اس کے پینے کے لیے اور تیسرا سانس کے لیے ہے۔“ جس طرح شریعت نے ہر بات میں انسانی فطرت کا خیال رکھا ہے اسی طرح یہاں بھی اگر کبھی پیٹ بھر کر کھا لے تو اس کی گنجائش ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بار بار اصرار پر دودھ پینا ہے، حتیٰ کہ انھیں کہنا پڑا کہ اب میرے پیٹ میں اس کی گنجائش نہیں۔ [دیکھیے بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۶۴۵۲]
➋ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَ يَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ:} ایمان والوں کے برعکس کفار کھانے پینے اور دنیا کی لذتیں اٹھانے میں کسی پابندی کی پروا نہیں کرتے، انھیں حلال و حرام، اپنے یا دوسرے کے حق سے کوئی غرض نہیں، وہ خنزیر، مردار اور ہر حرام چیز کھاتے، شراب پیتے، زنا کرتے غرض دل کا ہر ارمان پورا کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مہیا نہ ہو سکنے کی وجہ سے وہ کسی لذت سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، کیونکہ دنیا میں ہر شخص کو اتنا ہی ملتا ہے جو مالک نے لکھ دیا ہے، مگر اپنی حسرتیں پوری کرنے میں وہ کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیتے۔ دنیا ان کے لیے جنت ہے جہاں وہ ہر قید اور پابندی سے آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کاحال ہو بہو جانوروں جیسا ہے جو کھانے پینے، رہنے سہنے اور اپنی جنسی خواہش کی تکمیل میں کسی قید کے پابند نہیں ہیں، ان میں سے ہر طاقتور کمزور سے اس کا حق بھی چھین لیتا ہے۔ انھیں نہ عاقبت یاد ہے نہ باز پرس کی کوئی فکر ہے۔
➌ {وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ:} چونکہ انھوں نے اپنے رب سے کفر کیا، نہ ایمان لائے نہ عمل صالح کیا، نہ اس کے احکام کی پابندی کی، اس لیے ان کا مستقل ٹھکانا آگ ہے۔
➍ بعض لوگ اس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ جانور کھڑے ہو کر کھاتے پیتے ہیں، اس لیے کھڑے ہو کر کھانا پینا منع ہے، مگر اس مقصد کے لیے اس آیت کے بجائے احادیث سے استدلال کرنا چاہیے اور اس مسئلے میں اتنی ہی سختی کرنی چاہیے جتنی احادیث سے ثابت ہے، کیونکہ ضرورت کے وقت سنت سے اس کی اجازت بھی ثابت ہے۔
➎ چونکہ جانوروں کی ساری جدوجہد ہی کھانے پینے کے لیے ہوتی ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشابہت سے بچنے کے لیے کم کھانے پر زور دیا ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِيْ مِعًی وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِيْ سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ] [بخاري، الأطعمۃ، باب المؤمن یأکل في معی واحد …: ۵۳۹۳] ”مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔“ اور مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلاَتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ] [ترمذي، الزھد، باب ما جاء في کراھیۃ کثرۃ الأکل: ۲۳۸۰، و قال الألباني صحیح] ”کسی آدمی نے پیٹ سے برا برتن نہیں بھرا۔ ابنِ آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں۔ سو اگر کوئی چارہ نہیں تو تیسرا حصہ اس کے کھانے کے لیے، تیسرا اس کے پینے کے لیے اور تیسرا سانس کے لیے ہے۔“ جس طرح شریعت نے ہر بات میں انسانی فطرت کا خیال رکھا ہے اسی طرح یہاں بھی اگر کبھی پیٹ بھر کر کھا لے تو اس کی گنجائش ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بار بار اصرار پر دودھ پینا ہے، حتیٰ کہ انھیں کہنا پڑا کہ اب میرے پیٹ میں اس کی گنجائش نہیں۔ [دیکھیے بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۶۴۵۲]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 یعنی جس طرح جانور کو پیٹ اور جنس کے تقاضے پورے کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ یہی حال کافروں کا ہے، ان کا مقصد زندگی بھی کھانے کے علاوہ کچھ نہیں، آخرت سے وہ بالکل غافل ہیں۔ اس ضمن میں کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت کا بھی اثبات ہوتا ہے، جس کا آجکل دعوتوں میں عام رواج ہے کیونکہ اس میں بھی جانوروں سے مشابہت ہے جسے کافروں کا شیوا بتلایا گیا ہے احادیث میں کھڑے کھڑے پانی پینے سے نہایت سختی سے منع فرمایا گیا، جس سے کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت بطریق اولیٰ ثابت ہوتی ہے اس لئے جانوروں کی طرح کھڑے ہو کر کھانے سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ یقیناً انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہ رہی ہیں اور جو کافر ہیں وہ چند روز فائدہ اٹھا لیں، وہ اس طرح کھاتے ہیں جیسے چوپائے [13] کھاتے ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔
[13] کافروں کا کھانا پینا حیوانوں کی طرح ہے :۔
اس جملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح چوپایوں کو یہ تمیز نہیں کہ ان کا کھانا حلال ذرائع سے آیا ہے یا حرام ذرائع سے اسی طرح کافروں کو بھی یہ تمیز گوارا نہیں ہوتی۔ چوپائے جہاں سے بھی ملے کھا لیتے ہیں انہیں اپنے بیگانے کی تمیز نہیں نیز کمزور جانور کو مار دھاڑ کر طاقتور جانور کمزوروں کا کھانا بھی خود کھا جاتے ہیں۔ یہی حال کافروں کا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جانوروں یا چوپایوں کا کھانا کھانے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی بھوک دور کریں اور اپنی زندگی کو باقی رکھیں۔ کافروں کا بھی کھانے سے اتنا ہی مقصد ہوتا ہے۔ اس سے آگے وہ یہ نہیں سوچتے کہ اللہ نے ہمیں جو عقل اور تمیز چوپایوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ دی ہے آخر یہ کیوں دی گئی ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر جناب باری خبر دیتے ہیں کہ ایماندار قیامت کے دن جنت نشین ہوں گے اور کفر کرنے والے دنیا میں تو خواہ کچھ یونہی سا نفع اٹھا لیں لیکن ان کا اصلی ٹھکانا جہنم ہے۔ دنیا میں ان کی زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا اور پیٹ بھرنا ہے اسے یہ لوگ مثل جانوروں کے پورا کر رہے ہیں، جس طرح وہ ادھر ادھر منہ مار کر گیلا سوکھا پیٹ میں بھرنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے اسی طرح یہ ہے کہ حلال حرام کی اسے کچھ تمیز نہیں، پیٹ بھرنا مقصود ہے۔
حدیث شریف میں ہے { مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5396]
جزا والے دن اپنے اس کفر کی پاداش میں ان کے لیے جہنم کی گوناگوں سزائیں ہیں۔ پھر کفار مکہ کو دھمکاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے کہ «يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ» ۱؎ [11-هود:20] دیکھو جن بستیوں والے تم سے بہت زیادہ طاقت قوت والے تھے ان کو ہم نے نبیوں کو جھٹلانے اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے تہس نہس کر دیا، تم جو ان سے کمزور اور کم طاقت ہو اس رسول کو جھٹلاتے اور ایذائیں پہنچاتے ہو جو خاتم الانبیاء اور سید الرسل ہیں، سمجھ لو کہ تمہارا انجام کیا ہو گا؟۔ مانا کہ اس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود کی وجہ سے اگر دنیوی عذاب تم پر بھی نہ آئے تو اخروی زبردست عذاب تو تم سے دور نہیں ہو سکتے؟
جب اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار میں آ کر اپنے آپ کو چھپایا اس وقت مکہ کی طرف توجہ کی اور فرمانے لگے: ”اے مکہ! تو تمام شہروں سے زیادہ اللہ کو پیارا ہے اور اسی طرح مجھے بھی تمام شہروں سے زیادہ پیارا تو ہے اگر مشرکین مجھے تجھ میں سے نہ نکالتے تو میں ہرگز نہ نکلتا۔“
پس تمام حد سے گزر جانے والوں میں سب سے بڑا حد سے گزر جانے والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے نکل جائے یا حرم الٰہی میں کسی قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جاہلیت کے تعصب کی بنا پر قتل کرے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتاری۔
حدیث شریف میں ہے { مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5396]
جزا والے دن اپنے اس کفر کی پاداش میں ان کے لیے جہنم کی گوناگوں سزائیں ہیں۔ پھر کفار مکہ کو دھمکاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے کہ «يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ» ۱؎ [11-هود:20] دیکھو جن بستیوں والے تم سے بہت زیادہ طاقت قوت والے تھے ان کو ہم نے نبیوں کو جھٹلانے اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے تہس نہس کر دیا، تم جو ان سے کمزور اور کم طاقت ہو اس رسول کو جھٹلاتے اور ایذائیں پہنچاتے ہو جو خاتم الانبیاء اور سید الرسل ہیں، سمجھ لو کہ تمہارا انجام کیا ہو گا؟۔ مانا کہ اس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود کی وجہ سے اگر دنیوی عذاب تم پر بھی نہ آئے تو اخروی زبردست عذاب تو تم سے دور نہیں ہو سکتے؟
جب اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار میں آ کر اپنے آپ کو چھپایا اس وقت مکہ کی طرف توجہ کی اور فرمانے لگے: ”اے مکہ! تو تمام شہروں سے زیادہ اللہ کو پیارا ہے اور اسی طرح مجھے بھی تمام شہروں سے زیادہ پیارا تو ہے اگر مشرکین مجھے تجھ میں سے نہ نکالتے تو میں ہرگز نہ نکلتا۔“
پس تمام حد سے گزر جانے والوں میں سب سے بڑا حد سے گزر جانے والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے نکل جائے یا حرم الٰہی میں کسی قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جاہلیت کے تعصب کی بنا پر قتل کرے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتاری۔