ترجمہ و تفسیر — سورۃ محمد (47) — آیت 11

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوۡلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اَنَّ الۡکٰفِرِیۡنَ لَا مَوۡلٰی لَہُمۡ ﴿٪۱۱﴾
یہ اس لیے کہ اللہ ان لوگوں کا مدد گار ہے جو ایمان لائے اور اس لیے کہ جو کافر ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں۔ En
یہ اس لئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں
En
وه اس لئے کہ ایمان والوں کا کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اور اس لئے کہ کافروں کا کوئی کارساز نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) {ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} یعنی کافروں پر ہلاکت نازل کرنے کا باعث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مدد گار ہے اور کافروں کا کوئی مددگار نہیں جو انھیں ہلاکت سے بچا سکے۔ جب جنگِ اُحد میں ابوسفیان نے اپنی عارضی فتح پر مغرور ہو کر نعرہ لگایا: { إِنَّ لَنَا الْعُزَّي وَلاَ عُزَّي لَكُمْ } (ہماری مددگار عزیٰ ہے اور تمھارا کوئی بھی مدد گار نہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں یہ کہنے کا حکم دیا: [اَللّٰهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَكُمْ] [بخاري، الجہاد، باب ما یکرہ من التنازع …: ۳۰۳۹] اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمھارا کوئی مدد گار نہیں۔ یہ جواب اسی آیت سے ماخوذ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 چناچہ جنگ احد میں کافروں کے نعروں کے جواب میں مسلمانوں نے جو نعرے بلند کیے مثلا اعل ھبل اعل ھبل (ھبل بت کا نام ہے) کے جواب میں اللہ اعلی واجل کافروں کے انہی نعروں میں سے ایک نعرے لنا العزی ولا عزی لکم کے جواب مسلمانوں کا نعرہ تھا اللہ مولانا ولا مولی لکم۔ صحیح بخاری۔ اللہ ہمارا مددگار ہے تمہارا کوئی مددگار نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ یہ اس لئے کہ ایمان لانے والوں کا تو اللہ حامی ہے اور کافروں [12] کا کوئی بھی حامی نہیں۔
[12] غزوہ احد کے اختتام پر ابو سفیان کی نعرہ بازی اور اس کا جواب :۔
یعنی کافر یہ سمجھتے ضرور ہیں کہ ان کی دیویاں اور دیوتا ان کی مدد کو پہنچتے ہیں حالانکہ یہ محض ان کا وہم ہوتا ہے۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق و باطل کے معرکوں میں صرف غزوہ احد ہی وہ جنگ ہے جس میں ابتداء ً مسلمانوں کو ان کی اپنی ہی غلطی سے عارضی طور پر شکست سے دو چار ہونا پڑا اور آخر میں میدان برابر رہا۔ ابو سفیان نے اپنی اتنی سی کامیابی کو بھی غنیمت سمجھ کر اپنے سب سے بڑے دیوتا اور بت ہبل کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ ﴿اَعْلَي الهُبَل (ہبل سربلند ہوا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا اسے یہ جواب دو! ﴿اَللّٰهُ اَعْلٰي وَاَجَلّ (سر بلند تو صرف اللہ ہے اور وہی بزرگ و برتر ہے) پھر ابو سفیان نے کہا: ﴿لنا عُزّٰي ولا عُزّٰي لكم﴾ (ہمارے لیے تو عزت دینے والی دیوی عزیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی عزیٰ نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: ﴿اَللُّهُ مولٰنَا وَلَا مَولٰي لَكُم (ہمارا تو اللہ حامی و ناصر ہے لیکن تمہارا کوئی حامی و ناصر نہیں) آپ کا جواب اسی آیت کی تفسیر تھا۔ چنانچہ ہوا بھی ایسا ہی۔ ابو سفیان جب احد کے میدان کو چھوڑ کر کئی میل مکہ کی طرف جا چکا تو اسے خیال آیا کہ اس جنگ کا فیصلہ تو کچھ بھی نہ ہوا لہٰذا واپس جا کر مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کر کے اسے نتیجہ خیز بنانا چاہئے۔ لیکن اللہ نے مسلمانوں کی نصرت کا یہ سبب پیدا کر دیا کہ مسلمان خود اس سے پہلے ہی ابو سفیان کے لشکر کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔ جب ابو سفیان کو یہ صورت حال معلوم ہوئی تو اللہ نے کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور انہوں نے مکہ کی راہ لی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تمام شہروں سے پیارا شہر ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسول کو جھٹلا رہے ہیں زمین کی سیر نہیں کی؟ جو یہ معلوم کر لیتے ہیں اور اپنی آنکھوں دیکھ لیتے ہیں کہ ان سے اگلے جو ان جیسے تھے ان کے انجام کیا ہوئے؟ کس طرح وہ تخت و تاراج کر دئیے گئے اور ان میں سے صرف اسلام و ایمان والے ہی نجات پا سکے کافروں کے لیے اسی طرح کے عذاب آیا کرتے ہیں۔
پھر بیان فرماتا ہے مسلمانوں کا خود اللہ ولی ہے اور کفار بے ولی ہیں۔ { اسی لیے احد والے دن مشرکین کے سردار ابوسفیان (‏‏‏‏صخر)‏‏‏‏‏‏‏‏ بن حرب نے فخر کے ساتھ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں خلفاء کی نسبت سوال کیا اور کوئی جواب نہ پایا تو کہنے لگا کہ یہ سب ہلاک ہو گئے پھر اسے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور فرمایا جن کی زندگی تجھے خار کی طرح کھٹکتی ہے اللہ نے ان سب کو اپنے فضل سے زندہ ہی رکھا ہے۔‏‏‏‏ ابوسفیان کہنے لگا سنو یہ دن بدر کے بدلے کا دن ہے اور لڑائی تو مثل ڈولوں کے ہے کبھی کوئی اوپر کبھی کوئی اوپر۔ تم اپنے مقتولین میں بعض ایسے بھی پاؤ گے جن کے ناک کان وغیرہ ان کے مرنے کے بعد کاٹ لیے گئے ہیں میں نے ایسا حکم نہیں دیا لیکن مجھے کچھ برا بھی نہیں لگا پھر اس نے رجز کے اشعار فخریہ پڑھنے شروع کئے کہنے لگا «اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبَل» ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا جواب دیں؟ فرمایا: { کہو «اَللهُ اَعْلَی وَاَجَلُّ» } یعنی وہ کہتا تھا ہبل بت کا بول بالا ہو، جس کے جواب میں کہا گیا سب سے زیادہ بلندی والا اور سب سے زیادہ عزت و کرم والا اللہ ہی ہے۔‏‏‏‏ ابوسفیان نے پھر کہا «لَنَا الْعُزَّی وَلَا عُزَّی لَکُمْ» ‏‏‏‏ ہمارا عزیٰ (‏‏‏‏بت)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہے اور تمہارا نہیں۔‏‏‏‏ اس کے جواب میں بفرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا { «اَللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰى لَکُمْ» اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہار مولا کوئی نہیں} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4043]‏‏‏‏