اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ اِنِ افۡتَرَیۡتُہٗ فَلَا تَمۡلِکُوۡنَ لِیۡ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَا تُفِیۡضُوۡنَ فِیۡہِ ؕ کَفٰی بِہٖ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۸﴾
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے، کہہ دے اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے توتم میرے لیے اللہ کے مقابلے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے، وہ ان باتوں کو زیادہ جاننے والا ہے جن میں تم مشغول ہوتے ہو، وہی میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ کے طور پر کافی ہے اور وہی بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
En
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو از خود بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے میرے (بچاؤ کے) لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان ہے
En
کیا وه کہتے ہیں کہ اسے تو اس نے خود گھڑ لیا ہے آپ کہہ دیجئے! کہ اگر میں ہی اسے بنا ﻻیا ہوں تو تم میرے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے، تم اس (قرآن) کے بارے میں جو کچھ کہہ سن رہے ہو اسے اللہ خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے وہی کافی ہے، اور وه بخشنے واﻻ مہربان ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 8) ➊ { اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ:} یہ ایمان نہ لانے کا ایک اور بہانہ ہے۔ ”واؤ“ کے ساتھ عطف کے بجائے حرف {” اَمْ “} لایا گیا ہے، یعنی ان کی یہ بات کہ یہ جادو ہے ایک طرف رہی، اس سے بھی عجیب بات سنو، وہ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن خود تصنیف کیا ہے اور جھوٹ باندھتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ حالانکہ اس میں وہ اپنی ہی بات کی نفی کر رہے ہیں، کیونکہ اگر یہ جادو ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا کلام نہیں اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے تو جادو نہیں۔
➋ {قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِيْ مِنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا: ” اِنِ افْتَرَيْتُهٗ “} کا جواب محذوف ہے جو {” فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِيْ “} سے سمجھ میں آ رہا ہے: {”أَيْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ عَاقَبَنِيَ اللّٰهُ عَلَي الْإِفْتِرَاءِ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِيْ مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا “} ”یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر میں نے جھوٹ گھڑنے کا جرم کیا ہے تو یقینا اللہ تعالیٰ مجھے جھوٹ گھڑنے کی سزا دے گا، پھر تم اللہ تعالیٰ سے چھڑانے کے لیے میرے کسی کام نہ آؤ گے۔“ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ (44) لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ (45) ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ (46) فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ» [الحاقۃ: ۴۴ تا ۴۷] ”اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔ تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی(ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔“
➌ {هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ …:} یعنی جب تم اس حد تک آ گئے کہ اس کلام کو افترا اور انسانی کلام کہنے لگے جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثال لانے سے بھی تم قاصر رہے اور سب کے سامنے واضح ہو گیا کہ وہ انسان کا کلام نہیں اور نہ کوئی انسان ایسا کلام کر سکتا ہے تو اب تم سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ ان باتوں کو خوب جانتا ہے جو تم بناتے رہتے ہو۔ کبھی اسے جادو کہتے ہو، کبھی کہانت، کبھی شعر اور کبھی خود تصنیف کرکے اللہ تعالیٰ پر باندھا ہوا طوفان۔ وہی میرے اور تمھارے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے، کیونکہ وہ ہم دونوں کی ہر بات سے واقف اور ہر موقع کا گواہ ہے۔
➍ { وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ:} اس جملے کی مناسبت اس مقام پر دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ تمھارا قرآن کو افترا اور نبی کو مفتری کہنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ غفور و رحیم نہ ہوتا، بلکہ کوئی بے رحم اور سخت گیر مالک ہوتا تو تمھیں ایک سانس کی مہلت بھی نہ ملتی۔ یہ اس کی مغفرت اور رحمت ہی ہے کہ ایسی گستاخیوں کے باوجود وہ تمھیں فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ مہلت دیتا ہے کہ تم کسی وقت ہی پلٹ آؤ۔ دوسری مناسبت یہ ترغیب ہے کہ اب بھی اس ہٹ دھرمی سے باز آ جاؤ تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت تمھارا انتظار کر رہی ہیں، کیونکہ وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی۔ نہ اس کی مغفرت کی کوئی انتہا ہے نہ رحمت کی، تم نے جو کچھ کیا وہ اب بھی معاف کر دے گا۔ {” الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} ضمیر {” هُوَ “} کی خبر ہے، جس پر الف لام آنے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا ہے، یعنی غفور و رحیم بس وہی ہے اور کوئی ہے ہی نہیں جو تمھارے گناہوں پر پردہ ڈال دے اور تم پر بے حد رحم کرنے والا ہو، پھر اس سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے؟
➋ {قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِيْ مِنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا: ” اِنِ افْتَرَيْتُهٗ “} کا جواب محذوف ہے جو {” فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِيْ “} سے سمجھ میں آ رہا ہے: {”أَيْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ عَاقَبَنِيَ اللّٰهُ عَلَي الْإِفْتِرَاءِ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِيْ مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا “} ”یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر میں نے جھوٹ گھڑنے کا جرم کیا ہے تو یقینا اللہ تعالیٰ مجھے جھوٹ گھڑنے کی سزا دے گا، پھر تم اللہ تعالیٰ سے چھڑانے کے لیے میرے کسی کام نہ آؤ گے۔“ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ (44) لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ (45) ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ (46) فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ» [الحاقۃ: ۴۴ تا ۴۷] ”اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔ تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی(ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔“
➌ {هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ …:} یعنی جب تم اس حد تک آ گئے کہ اس کلام کو افترا اور انسانی کلام کہنے لگے جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثال لانے سے بھی تم قاصر رہے اور سب کے سامنے واضح ہو گیا کہ وہ انسان کا کلام نہیں اور نہ کوئی انسان ایسا کلام کر سکتا ہے تو اب تم سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ ان باتوں کو خوب جانتا ہے جو تم بناتے رہتے ہو۔ کبھی اسے جادو کہتے ہو، کبھی کہانت، کبھی شعر اور کبھی خود تصنیف کرکے اللہ تعالیٰ پر باندھا ہوا طوفان۔ وہی میرے اور تمھارے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے، کیونکہ وہ ہم دونوں کی ہر بات سے واقف اور ہر موقع کا گواہ ہے۔
➍ { وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ:} اس جملے کی مناسبت اس مقام پر دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ تمھارا قرآن کو افترا اور نبی کو مفتری کہنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ غفور و رحیم نہ ہوتا، بلکہ کوئی بے رحم اور سخت گیر مالک ہوتا تو تمھیں ایک سانس کی مہلت بھی نہ ملتی۔ یہ اس کی مغفرت اور رحمت ہی ہے کہ ایسی گستاخیوں کے باوجود وہ تمھیں فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ مہلت دیتا ہے کہ تم کسی وقت ہی پلٹ آؤ۔ دوسری مناسبت یہ ترغیب ہے کہ اب بھی اس ہٹ دھرمی سے باز آ جاؤ تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت تمھارا انتظار کر رہی ہیں، کیونکہ وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی۔ نہ اس کی مغفرت کی کوئی انتہا ہے نہ رحمت کی، تم نے جو کچھ کیا وہ اب بھی معاف کر دے گا۔ {” الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} ضمیر {” هُوَ “} کی خبر ہے، جس پر الف لام آنے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا ہے، یعنی غفور و رحیم بس وہی ہے اور کوئی ہے ہی نہیں جو تمھارے گناہوں پر پردہ ڈال دے اور تم پر بے حد رحم کرنے والا ہو، پھر اس سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 اس حق سے مراد جو ان کے پاس آیا قرآن کریم ہے اس کے اعجاز اور قوت تاثیر کو دیکھ کر وہ اسے جادو سے تعبیر کرتے پھر اس سے بھی انحراف کر کے یا اس سے بھی بات نہ بنتی تو کہتے کہ یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا گھڑا ہوا کلام ہے۔ 8۔ 2 یعنی اگر تماری یہ بات صحیح ہو کہ میں اللہ کا بنایا ہوا رسول نہیں ہوں اور یہ کلام بھی میرا اپنا گھڑا ہوا ہے پھر تو یقینا میں بڑا مجرم ہوں اللہ تعالیٰ اتنے بڑے جھوٹ پر مجھے پکڑے بغیر تو نہیں چھوڑے گا اور اگر ایسی کوئی گرفت ہوئی تو پھر سمجھ لینا کہ میں جھوٹا ہوں اور میری کوئی مدد بھی مت کرتا بلکہ ایسی حالت میں مجھے مواخذہ الہی سے بچانے کا تمہیں کوئی اختیار ہی نہیں ہوگا اسی مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ (وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ 44 ۙ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بالْيَمِيْنِ 45ۙ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ 46ڮ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِـزِيْنَ 47) 69۔ الحاقہ:44) 8۔ 3 یعنی جس جس انداز سے بھی تم قرآن کی تکذیب کرتے ہو، کبھی اسے جادو، کبھی کہانت اور کبھی گھڑا ہوا کہتے ہو۔ اللہ اسے خوب جانتا ہے یعنی وہی تمہاری ان مذموم حرکتوں کا تمہیں بدلہ دے گا۔ 8۔ 4 وہ اس بات کی گواہی کے لئے کافی ہے کہ یہ قرآن اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے اور وہی تمہاری تکذیب و مخالفت کا بھی گواہ ہے۔ اس میں بھی ان کے لئے سخت وعید ہے۔ 8۔ 5 اس کے لیے جو توبہ کرلے ایمان لے آئے اور قرآن کو اللہ تعالیٰ کا سچا کلام مان لے مطلب ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ توبہ کر کے اللہ کی مغفرت و رحمت کے مستحق بن جاؤ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ خود ہی اسے بنا لایا [9] ہے۔ آپ ان سے کہئے: اگر میں نے خود بنا لیا ہے تو تم مجھے اللہ (کی گرفت) سے بچانے کی کچھ بھی [10] طاقت نہیں رکھتے۔ جن باتوں میں تم لگے ہوئے ہو اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بخش دینے والا [11] اور رحم کرنے والا ہے۔
[9] خود ساختہ کلام یا جادو؟
یعنی اپنے سابقہ بیان کی خود ہی تردید کر دیتے تھے۔ کیونکہ یہ دونوں باتیں متضاد ہیں۔ اگر یہ قرآن جادو ہے تو آپ کا کلام نہیں اور آپ کا اپنا بنایا ہوا کلام ہے تو پھر وہ جادو نہیں ہو سکتا۔
[10] یعنی اگر میں نے خود ہی کلام تالیف کر کے اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ تو یقیناً اللہ مجھے اس افتراء کی سزا دے گا۔ تم مجھے اس سے چھڑا تو نہیں لو گے۔ نہ ہی تم میں یہ قدرت ہے۔ البتہ جن کاموں میں تم لگے ہوئے ہو وہ ضرور اس قابل ہیں کہ اللہ تمہیں ان کاموں کی سزا دے اور وہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ بھی رہا ہے۔ لہٰذا تم اپنے کاموں اور ان کے انجام کی فکر کرو۔
[11] یہاں اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ ہم سب کے اعمال دیکھ رہا ہے لیکن سزا نہیں دیتا، ورنہ اگر وہ بے رحم بادشاہوں کی طرح ہوتا تو کب سے لوگوں کا قصہ پاک ہو چکا ہوتا۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ ایسی سب باتوں کو برداشت کر کے درگزر کئے جاتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر اب بھی تم اپنی ہٹ دھرمی سے باز آجاؤ تو اللہ تعالیٰ از راہ کرم تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔
[10] یعنی اگر میں نے خود ہی کلام تالیف کر کے اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ تو یقیناً اللہ مجھے اس افتراء کی سزا دے گا۔ تم مجھے اس سے چھڑا تو نہیں لو گے۔ نہ ہی تم میں یہ قدرت ہے۔ البتہ جن کاموں میں تم لگے ہوئے ہو وہ ضرور اس قابل ہیں کہ اللہ تمہیں ان کاموں کی سزا دے اور وہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ بھی رہا ہے۔ لہٰذا تم اپنے کاموں اور ان کے انجام کی فکر کرو۔
[11] یہاں اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ ہم سب کے اعمال دیکھ رہا ہے لیکن سزا نہیں دیتا، ورنہ اگر وہ بے رحم بادشاہوں کی طرح ہوتا تو کب سے لوگوں کا قصہ پاک ہو چکا ہوتا۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ ایسی سب باتوں کو برداشت کر کے درگزر کئے جاتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر اب بھی تم اپنی ہٹ دھرمی سے باز آجاؤ تو اللہ تعالیٰ از راہ کرم تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔
جیسے اور جگہ ہے «قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ڏ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِسَالَاتِهِ» [72-الجن:23،22]، یعنی تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا کہیں اور مجھے پناہ کی جگہ مل سکے گی لیکن میں اللہ کی تبلیغ اور اس کی رسالت کو بجا لاتا ہوں۔
اور جگہ ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ» [69-الحاقة:47-44]، یعنی اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا، تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی بھی اسے نہ بچا سکتا۔
پھر کفار کو دھمکایا جا رہا ہے کہ تمہاری گفتگو کا پورا علم اس علیم اللہ کو ہے، وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس کی دھمکی کے بعد انہیں توبہ اور انابت کی رغبت دلائی جا رہی ہے اور فرماتا ہے، وہ غفور و رحیم ہے، اگر تم اس کی طرف رجوع کرو اپنے کرتوت سے باز آؤ تو وہ بھی تمہیں بخش دے گا اور تم پر رحم کرے گا۔ سورۃ الفرقان میں بھی اسی مضمون کی آیت ہے۔
فرمان ہے «وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6،5]، یعنی یہ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور صبح شام لکھائی جا رہی ہیں تو کہہ دے کہ اسے اس اللہ نے اتارا ہے جو ہر پوشیدہ کو جانتا ہے خواہ آسمانوں میں ہو، خواہ زمین میں ہو وہ غفور و رحیم ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں دنیا میں کوئی پہلا نبی تو نہیں، مجھ سے پہلے بھی تو دنیا میں لوگوں کی طرف رسول آتے رہے پھر میرے آنے سے تمہیں اس قدر اچنبھا کیوں ہوا؟ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟
بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بعد آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا» [48-الفتح:2]، اتری ہے۔ اسی طرح عکرمہ، حسن، قتادہ رحمہم اللہ علیہم بھی اسے منسوخ بتاتے ہیں۔
یہ بھی مروی ہے کہ جب آیت بخشش اتری جس میں فرمایا گیا تاکہ اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ بخشے تو ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو اللہ نے بیان فرما دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے پس وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ اس پر آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] اتری یعنی تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، صحیح حدیث سے بھی یہ تو ثابت ہے کہ مومنوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، فرمائیے! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری [صحیح مسلم:1786]
ضحاک رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا حکم دیا جاؤں اور کس چیز سے روک دیا جاؤں؟ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت کا انجام تو مجھے قطعًا معلوم ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا، ہاں دنیوی حال معلوم نہیں کہ اگلے بعض انبیاء کی طرح قتل کیا جاؤں یا اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ کے ہاں جاؤں؟ اور اسی طرح میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہیں دھنسایا جائے یا تم پر پتھر برسائے جائیں۔[تفسیر ابن جریر الطبری:277/11]
جیسے اور جگہ ہے «قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ڏ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِسَالَاتِهِ» [72-الجن:23،22]، یعنی تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا کہیں اور مجھے پناہ کی جگہ مل سکے گی لیکن میں اللہ کی تبلیغ اور اس کی رسالت کو بجا لاتا ہوں۔
اور جگہ ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ» [69-الحاقة:47-44]، یعنی اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا، تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی بھی اسے نہ بچا سکتا۔
پھر کفار کو دھمکایا جا رہا ہے کہ تمہاری گفتگو کا پورا علم اس علیم اللہ کو ہے، وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس کی دھمکی کے بعد انہیں توبہ اور انابت کی رغبت دلائی جا رہی ہے اور فرماتا ہے، وہ غفور و رحیم ہے، اگر تم اس کی طرف رجوع کرو اپنے کرتوت سے باز آؤ تو وہ بھی تمہیں بخش دے گا اور تم پر رحم کرے گا۔ سورۃ الفرقان میں بھی اسی مضمون کی آیت ہے۔
فرمان ہے «وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6،5]، یعنی یہ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور صبح شام لکھائی جا رہی ہیں تو کہہ دے کہ اسے اس اللہ نے اتارا ہے جو ہر پوشیدہ کو جانتا ہے خواہ آسمانوں میں ہو، خواہ زمین میں ہو وہ غفور و رحیم ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں دنیا میں کوئی پہلا نبی تو نہیں، مجھ سے پہلے بھی تو دنیا میں لوگوں کی طرف رسول آتے رہے پھر میرے آنے سے تمہیں اس قدر اچنبھا کیوں ہوا؟ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟
بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بعد آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا» [48-الفتح:2]، اتری ہے۔ اسی طرح عکرمہ، حسن، قتادہ رحمہم اللہ علیہم بھی اسے منسوخ بتاتے ہیں۔
یہ بھی مروی ہے کہ جب آیت بخشش اتری جس میں فرمایا گیا تاکہ اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ بخشے تو ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو اللہ نے بیان فرما دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے پس وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ اس پر آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] اتری یعنی تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، صحیح حدیث سے بھی یہ تو ثابت ہے کہ مومنوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، فرمائیے! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری [صحیح مسلم:1786]
ضحاک رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا حکم دیا جاؤں اور کس چیز سے روک دیا جاؤں؟ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت کا انجام تو مجھے قطعًا معلوم ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا، ہاں دنیوی حال معلوم نہیں کہ اگلے بعض انبیاء کی طرح قتل کیا جاؤں یا اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ کے ہاں جاؤں؟ اور اسی طرح میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہیں دھنسایا جائے یا تم پر پتھر برسائے جائیں۔[تفسیر ابن جریر الطبری:277/11]
امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو معتبر کہتے ہیں اور فی الواقع ہے بھی یہ ٹھیک۔ آپ بالیقین جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو جنت میں ہی جائیں گے اور دنیا کی حالت کے انجام سے آپ بےخبر تھے کہ انجام کار آپ کا اور آپ کے مخالفین قریش کا کیا حال ہو گا؟ آیا وہ ایمان لائیں گے یا کفر پر ہی رہیں گے اور عذاب کئے جائیں گے یا بالکل ہی ہلاک کر دئیے جائیں گے۔
لیکن جو حدیث مسند احمد میں ہے [مسند احمد:436/6:صحیح] { سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس وقت مہاجرین بذریعہ قرعہ اندازی انصاریوں میں تقسیم ہو رہے تھے اس وقت ہمارے حصہ میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، آپ ہمارے ہاں بیمار ہوئے اور فوت بھی ہو گئے جب ہم آپ کو کفن پہنا چکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لا چکے، تو میرے منہ سے نکل گیا، اے ابوالسائب! اللہ تجھ پر رحم کرے میری تو تجھ پر گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تیرا اکرام ہی کرے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کا اکرام ہی کرے گا۔“ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! پر میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف کا یقین آ پہنچا اور مجھے ان کیلئے بھلائی اور خیر کی امید ہے، قسم ہے اللہ کے باوجود رسول ہونے کے میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم اب اس کے بعد میں کسی کی برات نہیں کروں گی اور مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، لیکن میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ایک نہر بہہ رہی ہے، میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے اعمال ہیں“ }، یہ حدیث بخاری میں ہے [صحیح بخاری:1243] مسلم میں نہیں اور اس کی ایک سند میں ہے ”میں نہیں جانتا باوجود یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ دل کو تو کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہی الفاظ موقعہ کے لحاظ سے ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے کہ مجھے اس بات سے بڑا صدمہ ہوا۔
الغرض یہ حدیث اور اسی کی ہم معنی اور حدیثیں دلالت ہیں اس امر پر کہ کسی معین شخص کے جنتی ہونے کا قطعی علم کسی کو نہیں، نہ کسی کو ایسی بات زبان سے کہنی چاہیئے۔ بجز ان بزرگوں کے جن کے نام لے کر شارع علیہ السلام نے انہیں جنتی کہا ہے، جیسے عشرہ مبشرہ اور ابن سلام اور عمیصا اور بلال اور سراقہ اور عبداللہ بن عمرو بن حرام جو جابر کے والد ہیں اور وہ ستر قاری جو بیرمعونہ کی جنگ میں شہید کئے گئے اور زید بن حارثہ اور جعفر اور ابن رواحہ اور ان جیسے اور بزرگ رضی اللہ عنہم اجمعین۔
پھر فرماتا ہے اے نبی! تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس وحی کا مطیع ہوں جو اللہ کی جناب سے میری جانب آئے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں کہ کھول کھول کر ہر شخص کو آگاہ کر رہا ہوں ہر عقلمند میرے منصب سے باخبر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
لیکن جو حدیث مسند احمد میں ہے [مسند احمد:436/6:صحیح] { سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس وقت مہاجرین بذریعہ قرعہ اندازی انصاریوں میں تقسیم ہو رہے تھے اس وقت ہمارے حصہ میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، آپ ہمارے ہاں بیمار ہوئے اور فوت بھی ہو گئے جب ہم آپ کو کفن پہنا چکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لا چکے، تو میرے منہ سے نکل گیا، اے ابوالسائب! اللہ تجھ پر رحم کرے میری تو تجھ پر گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تیرا اکرام ہی کرے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کا اکرام ہی کرے گا۔“ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! پر میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف کا یقین آ پہنچا اور مجھے ان کیلئے بھلائی اور خیر کی امید ہے، قسم ہے اللہ کے باوجود رسول ہونے کے میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم اب اس کے بعد میں کسی کی برات نہیں کروں گی اور مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، لیکن میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ایک نہر بہہ رہی ہے، میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے اعمال ہیں“ }، یہ حدیث بخاری میں ہے [صحیح بخاری:1243] مسلم میں نہیں اور اس کی ایک سند میں ہے ”میں نہیں جانتا باوجود یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ دل کو تو کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہی الفاظ موقعہ کے لحاظ سے ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے کہ مجھے اس بات سے بڑا صدمہ ہوا۔
الغرض یہ حدیث اور اسی کی ہم معنی اور حدیثیں دلالت ہیں اس امر پر کہ کسی معین شخص کے جنتی ہونے کا قطعی علم کسی کو نہیں، نہ کسی کو ایسی بات زبان سے کہنی چاہیئے۔ بجز ان بزرگوں کے جن کے نام لے کر شارع علیہ السلام نے انہیں جنتی کہا ہے، جیسے عشرہ مبشرہ اور ابن سلام اور عمیصا اور بلال اور سراقہ اور عبداللہ بن عمرو بن حرام جو جابر کے والد ہیں اور وہ ستر قاری جو بیرمعونہ کی جنگ میں شہید کئے گئے اور زید بن حارثہ اور جعفر اور ابن رواحہ اور ان جیسے اور بزرگ رضی اللہ عنہم اجمعین۔
پھر فرماتا ہے اے نبی! تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس وحی کا مطیع ہوں جو اللہ کی جناب سے میری جانب آئے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں کہ کھول کھول کر ہر شخص کو آگاہ کر رہا ہوں ہر عقلمند میرے منصب سے باخبر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»