ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 7

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ؕ﴿۷﴾
اورجب ان کے سامنے ہماری واضح آیا ت پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا حق کے بارے میں، جب وہ ان کے پاس آیا، کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔ En
اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جب ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے
En
اور انہیں جب ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو منکر لوگ سچی بات کو جب کہ ان کے پاس آچکی، کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) {وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ …:} قرآن پر ایمان نہ لانے کے لیے وہ جو بہانے کرتے تھے ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ اختصار کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا: { وَ إِذَا تُتْلٰي عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ } (جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے) مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ» اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا حق کے بارے میں، جب وہ ان کے پاس آیا، کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اختصار کے بجائے تین باتوں { قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ، لِلْحَقِّ } اور { لَمَّا جَآءَهُمْ } کی صراحت فرمائی۔ { قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا } کا مقصد یہ ہے کہ ان کے جھٹلانے کا اصل باعث ان کا کفر و انکار ہے، جب کوئی طے کر لے کہ ماننا ہی نہیں تو بڑی سے بڑی دلیل بھی اس کے لیے بے کار ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۶] بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان پر برابر ہے، خواہ تو نے انھیں ڈرایا ہو یا انھیں نہ ڈرایا ہو، ایمان نہیں لائیں گے۔ { لِلْحَقِّ } کہہ کر آیات بینات کی عظمت و اہمیت اور کفار کی بدنصیبی نمایاں فرمائی کہ دیکھو وہ اس چیز کو جادو کہہ رہے ہیں جو حق ہے، جب کہ جادو سراسر باطل ہوتا ہے اور { لَمَّا جَآءَهُمْ } کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کے پاس حق نہ آتا تو انھیں معذور سمجھا جاتا، حق آنے کے بعد اسے جادو کہنا بہت بڑی جرأت ہے۔ { وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ } اور { لَمَّا جَآءَهُمْ } سے یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات پر غور و فکر کی زحمت ہی نہیں کرتے، بلکہ سنتے ہی انھیں جھٹلا دیتے ہیں اور جب جھٹلانے کے لیے کوئی معقول وجہ نہیں پاتے تو اس کی شدتِ تاثیر کی وجہ سے اسے جادو کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں، حالانکہ کہاں جادو اور کہاں یہ پاکیزہ اور عظیم الشان کلام، جس کی ایک سورت کی مثال وہ نہ لا سکے نہ لا سکتے ہیں اور کہاں نجس اور پلید جادوگر اور کہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پاک باز اور صادق و امین انسان، جس کی پاک بازی اور صدق و امانت کا انھیں نبوت سے چالیس برس پہلے کا بھی تجربہ تھا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اور ہم جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کافر اس حق کے بارے میں جو ان کے پاس آچکا ہے، کہتے ہیں کہ: ”یہ تو صریح [8] جادو ہے“
[8] کافر قرآن کو جادو کیوں کہتے تھے؟
کفار مکہ کے قرآن کو صریح جادو کہنے کی دو وجوہ تھیں ایک یہ کہ اس کلام میں بلا کی تاثیر تھی جو بھی یہ کلام سنتا اس کے دل میں اتر جاتا تھا۔ کافر خود بھی قرآن کی اس تاثیر کے معترف اور اس سے متاثر ہو جاتے تھے۔ مگر چونکہ وہ خود اس کو نہ ماننے کا تہیہ کر چکے تھے اس لیے قرآن کی اس خوبی کو بھی برے انداز میں پیش کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ صریح جادو یا جادو کا کرشمہ یا جادو کا سا اثر رکھتا ہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ جادوگروں کا عموماً یہ کام ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان پھوٹ ڈال دیں یا رشتہ داروں کو آپس میں لڑا دیں۔ ادھر صورت حال یہ تھی کہ جو شخص اسلام لے آتا تھا۔ وہ اس کے مقابلہ میں اپنے کسی رشتہ دار کی پروا نہیں کرتا تھا۔ اس لحاظ سے بھی کافر قرآن کو جادو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو گر کہہ دیتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔
جیسے اور جگہ ہے «قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ڏ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِسَالَاتِهِ» [72-الجن:23،22]‏‏‏‏، یعنی تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا کہیں اور مجھے پناہ کی جگہ مل سکے گی لیکن میں اللہ کی تبلیغ اور اس کی رسالت کو بجا لاتا ہوں۔
اور جگہ ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ» [69-الحاقة:47-44]‏‏‏‏، یعنی اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا، تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی بھی اسے نہ بچا سکتا۔
پھر کفار کو دھمکایا جا رہا ہے کہ تمہاری گفتگو کا پورا علم اس علیم اللہ کو ہے، وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس کی دھمکی کے بعد انہیں توبہ اور انابت کی رغبت دلائی جا رہی ہے اور فرماتا ہے، وہ غفور و رحیم ہے، اگر تم اس کی طرف رجوع کرو اپنے کرتوت سے باز آؤ تو وہ بھی تمہیں بخش دے گا اور تم پر رحم کرے گا۔ سورۃ الفرقان میں بھی اسی مضمون کی آیت ہے۔
فرمان ہے «وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6،5]‏‏‏‏، یعنی یہ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور صبح شام لکھائی جا رہی ہیں تو کہہ دے کہ اسے اس اللہ نے اتارا ہے جو ہر پوشیدہ کو جانتا ہے خواہ آسمانوں میں ہو، خواہ زمین میں ہو وہ غفور و رحیم ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں دنیا میں کوئی پہلا نبی تو نہیں، مجھ سے پہلے بھی تو دنیا میں لوگوں کی طرف رسول آتے رہے پھر میرے آنے سے تمہیں اس قدر اچنبھا کیوں ہوا؟ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟
بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بعد آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا» [48-الفتح:2]‏‏‏‏، اتری ہے۔ اسی طرح عکرمہ، حسن، قتادہ رحمہم اللہ علیہم بھی اسے منسوخ بتاتے ہیں۔
یہ بھی مروی ہے کہ جب آیت بخشش اتری جس میں فرمایا گیا تاکہ اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ بخشے تو ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو اللہ نے بیان فرما دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے پس وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ اس پر آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5]‏‏‏‏ اتری یعنی تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، صحیح حدیث سے بھی یہ تو ثابت ہے کہ مومنوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، فرمائیے! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری [صحیح مسلم:1786]‏‏‏‏
ضحاک رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا حکم دیا جاؤں اور کس چیز سے روک دیا جاؤں؟ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت کا انجام تو مجھے قطعًا معلوم ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا، ہاں دنیوی حال معلوم نہیں کہ اگلے بعض انبیاء کی طرح قتل کیا جاؤں یا اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ کے ہاں جاؤں؟ اور اسی طرح میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہیں دھنسایا جائے یا تم پر پتھر برسائے جائیں۔[تفسیر ابن جریر الطبری:277/11]‏‏‏‏
امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو معتبر کہتے ہیں اور فی الواقع ہے بھی یہ ٹھیک۔ آپ بالیقین جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو جنت میں ہی جائیں گے اور دنیا کی حالت کے انجام سے آپ بےخبر تھے کہ انجام کار آپ کا اور آپ کے مخالفین قریش کا کیا حال ہو گا؟ آیا وہ ایمان لائیں گے یا کفر پر ہی رہیں گے اور عذاب کئے جائیں گے یا بالکل ہی ہلاک کر دئیے جائیں گے۔
لیکن جو حدیث مسند احمد میں ہے [مسند احمد:436/6:صحیح]‏‏‏‏ { سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس وقت مہاجرین بذریعہ قرعہ اندازی انصاریوں میں تقسیم ہو رہے تھے اس وقت ہمارے حصہ میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، آپ ہمارے ہاں بیمار ہوئے اور فوت بھی ہو گئے جب ہم آپ کو کفن پہنا چکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لا چکے، تو میرے منہ سے نکل گیا، اے ابوالسائب! اللہ تجھ پر رحم کرے میری تو تجھ پر گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تیرا اکرام ہی کرے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کا اکرام ہی کرے گا۔‏‏‏‏ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! پر میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف کا یقین آ پہنچا اور مجھے ان کیلئے بھلائی اور خیر کی امید ہے، قسم ہے اللہ کے باوجود رسول ہونے کے میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم اب اس کے بعد میں کسی کی برات نہیں کروں گی اور مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، لیکن میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ایک نہر بہہ رہی ہے، میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے اعمال ہیں }، یہ حدیث بخاری میں ہے [صحیح بخاری:1243]‏‏‏‏ مسلم میں نہیں اور اس کی ایک سند میں ہے میں نہیں جانتا باوجود یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ دل کو تو کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہی الفاظ موقعہ کے لحاظ سے ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے کہ مجھے اس بات سے بڑا صدمہ ہوا۔
الغرض یہ حدیث اور اسی کی ہم معنی اور حدیثیں دلالت ہیں اس امر پر کہ کسی معین شخص کے جنتی ہونے کا قطعی علم کسی کو نہیں، نہ کسی کو ایسی بات زبان سے کہنی چاہیئے۔ بجز ان بزرگوں کے جن کے نام لے کر شارع علیہ السلام نے انہیں جنتی کہا ہے، جیسے عشرہ مبشرہ اور ابن سلام اور عمیصا اور بلال اور سراقہ اور عبداللہ بن عمرو بن حرام جو جابر کے والد ہیں اور وہ ستر قاری جو بیرمعونہ کی جنگ میں شہید کئے گئے اور زید بن حارثہ اور جعفر اور ابن رواحہ اور ان جیسے اور بزرگ رضی اللہ عنہم اجمعین۔
پھر فرماتا ہے اے نبی! تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس وحی کا مطیع ہوں جو اللہ کی جناب سے میری جانب آئے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں کہ کھول کھول کر ہر شخص کو آگاہ کر رہا ہوں ہر عقلمند میرے منصب سے باخبر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»