ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 6

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمۡ اَعۡدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ ﴿۶﴾
اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔ En
اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی پرستش سے انکار کریں گے
En
اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) {وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً …:} یعنی قیامت کے دن جب انھیں بتایا جائے گا کہ یہ لوگ تمھیں پکارتے رہے اور تم سے فریاد کرتے رہے تو وہ صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں اس بات کی کوئی خبر نہیں کہ یہ ہمیں پکارتے رہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ (28) فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ» [یونس: ۲۸، ۲۹] اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، پھر ہم ان لوگوں سے جنھوں نے شریک بنائے تھے، کہیں گے اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تم اور تمھارے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان علیحدگی کر دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ سو اللہ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کافی گواہ ہے کہ بے شک ہم تمھاری عبادت سے یقینا بے خبر تھے۔ اور دیکھیے سورۂ قصص (۶۳) اور سورۂ نحل (۸۶) مسیح علیہ السلام بھی اپنی عبادت کرنے والوں سے اپنے بے خبر ہونے کی صراحت فرما دیں گے (دیکھیے مائدہ: ۱۱۶، ۱۱۷) اور فرشتے بھی۔ (دیکھیے فرقان: ۱۷، ۸ا۔ سبا: ۴۰، ۴۱) بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی بھی پوجا کی گئی وہ پوجا کرنے اور پکارنے والوں کے شدید مخالف اور دشمن بن جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۸۱، ۸۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6 ۔ 1 یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلا سورة یونس سورة مریم سورة عنکبوت وغیر ھا من الایات دنیا میں ان معبودوں کی دو قسمیں ہیں ایک تو غیر ذی روح جمادات و نباتات اور مظاہر قدرت (سورج آگ) ہیں اللہ تعالیٰ ان کو زندگی اور قوت گویائی عطا فرمائے گا اور یہ چیزیں بول کر بتلائیں گی کہ ہمیں قطعا اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ ہماری عبادت کرتے اور ہمیں تیری خدائی میں شریک گردانتے تھے بعض کہتے ہیں کہ زبان قال سے نہیں ہے زبان حال سے وہ اپنے جذبات کا اظہار کریں گی واللہ اعلم معبودوں کی دوسری قسم وہ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) ملائکہ اور صالحین میں سے ہیں جیسے عیسی، حضرت عزیر (علیہما السلام) اور دیگر عباد اللہ الصالحین ہیں یہ اللہ کی بارگاہ میں اسی طرح کا جواب دیں گے جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کا جواب قرآن کریم میں منقول ہے علاوہ ازیں شیطان بھی انکار کریں گے جیسے قرآن میں ان کا قول نقل کیا گیا ہے۔ تبرأنا الیک ما کانوا ایانا یعبدون۔ القصص۔ ہم تیرے سامنے (اپنے عابدین سے) اظہار براءت کرتے ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اور جب لوگ اکٹھے کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن بن جائیں [7] گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے۔
[7] ﴿من دون الله﴾ سے مراد یہاں بت نہیں بلکہ فوت شدہ بزرگ ہیں :۔
آیت نمبر 5 اور 6 سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بے جان قسم کے معبود مراد نہیں ہیں۔ کیونکہ بے جان معبود ہی ایسے ہو سکتے ہیں جن کا دشمنی اور دوستی سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی وہ عبادت سے انکار کر سکتے ہیں۔ لامحالہ یہاں جاندار معبود ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ پھر جانداروں میں سے بھی فرشتے خارج از بحث ہیں۔ کیونکہ ان کا حشر نہیں ہو گا۔ باقی صرف جن، نبی، پیر، اولیاء وغیرہ ہی رہ جاتے ہیں۔ جن پر حسد، دشمنی اور عبادت سے انکار سب باتیں چسپاں ہو سکتی ہیں۔ پھر ایسے معبودوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک پیغمبر اور صحیح العقیدہ اولیاء کرام یہ اپنے عابدوں سے کہیں گے کہ کم بختو! ہم تو ساری زندگی خود بھی اللہ سے ہی دعا کرتے رہے اور تمہیں بھی یہی تلقین کرتے رہے۔ پھر تم نے کیا الٹی گنگا بہادی کہ ہم کو ہی پکارنا شروع کر دیا۔ ان لوگوں کا اپنے عابدوں کا دشمن ہونا صاف واضح ہے۔ دوسرے ایسے معبود ہیں جو خود بھی یہی چاہتے تھے کہ لوگ ان میں خدائی اختیارات تسلیم کریں اور انہیں پکارا کریں۔ ایسے لوگ جب قیامت کے ہولناک مناظر اور شرک کا انجام دیکھیں گے تو صاف مکر جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے کب کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کرنا۔ اور یہ بات عابدوں کو سخت ناگوار گزرے گی۔ لہٰذا وہ بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔
سماع موتی کی حقیقت :۔
یہاں ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا فوت شدہ حضرات دنیا والوں کی پکار سنتے ہیں یا نہیں؟ جسے عرف عام سماع موتی کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ سو اس آیت میں اس بات کی مکمل نفی ہے۔ کہ وہ قیامت تک بھی دنیاوالوں کی پکار نہیں سن سکتے۔ تاہم بعض آیات سے اتنا اور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جسے چاہے سنا سکتا ہے۔ نیز صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کا سلام فرشتوں کے ذریعہ پہنچایا جاتا ہے۔ اور یہ بھی قرآن میں صراحت سے مذکور ہے۔ کہ مرنے کے بعد نیک لوگوں کی ارواح علیین میں اور بد کاروں کی ارواح سجین میں ہوتی ہیں۔ اور وہاں وہ دنیا والوں کی کوئی آواز براہ راست اور بلا واسطہ سن نہیں سکتے کیونکہ وہ عالم بھی دوسرا ہے۔
اللہ کا فوت شدہ لوگوں کو سنانے کا ضابطہ :۔
اب سنانے کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ کا ضابطہ یہ ہے کہ نیک لوگوں کو صرف وہی خبر پہنچائی جاتی ہے جس سے ان کی راحت میں اضافہ ہو۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کا سلام پہنچایا جاتا ہے۔ یا نیک اولاد کی دعائیں ان کے والدین کو پہنچا دیں جاتی ہیں۔ انہیں کوئی ایسی خبر نہیں پہنچائی جاتی جو ان کے لیے پریشانی کا باعث بنے۔ اور بد کاروں کو کوئی راحت انگیز خبر نہیں سنائی جاتی۔ انہیں صرف ایسی خبریں سنائی جاتی ہیں جو ان کے لیے مزید سوہان روح بن جاتی ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کنوئیں میں پھینکے ہوئے مقتول کافروں سے ان کی سرزنش اور زجر و توبیخ کے طور پر خطاب کیا تھا اور اللہ نے وہ بات ان تک پہنچا دی تھی۔ اور صحابہ کے استفسار پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ جواب دیا تھا کہ وہ تم سے کچھ کم نہیں سن رہے۔ [مزيد تفصيل كے ليے ديكهئے ميري تصنيف روح، عذاب قبر اور سماع موتي]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔