اور جو اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول نہ کرے گا تو نہ وہ زمین میں کسی طرح عاجز کرنے والا ہے اور نہ ہی اس کے سوا اس کے کوئی مدد گار ہوں گے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔
En
اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اس کے سوا اس کے حمایتی ہوں گے۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں
اور جو شخص اللہ کے بلانے والے کا کہا نہ مانے گا پس وه زمین میں کہیں (بھاگ کر اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتا، نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مدد گار ہوں گے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں
En
(آیت 32) ➊ {وَمَنْلَّايُجِبْدَاعِيَاللّٰهِ …:} بشارت کے بعد یہ نذارت ہے، جس میں اس کتاب پر ایمان نہ لانے والوں کو ڈرایا گیا ہے۔ یہ وہی بات ہے جو سورۂ جن میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے: «وَاَنَّاظَنَنَّاۤاَنْلَّنْنُّعْجِزَاللّٰهَفِيالْاَرْضِوَلَنْنُّعْجِزَهٗهَرَبًا» [الجن: ۱۲]”اور یہ کہ ہم نے یقین کر لیا کہ بے شک ہم کبھی اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی بھاگ کر کبھی اسے عاجز کر سکیں گے۔“ ➋ { وَلَيْسَلَهٗمِنْدُوْنِهٖۤاَوْلِيَآءُ:} یعنی اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول نہ کرنے والا نہ خود دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بھاگ کر کہیں جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کے مددگار اس کی مدد کو پہنچ سکتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
32۔ 1 یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ زمین کی وسعتوں میں اس طرح گم ہوجائے کہ اللہ کی گرفت میں نہ آسکے۔۔ 32۔ 1 جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا لیں۔ مطلب یہ ہوا کہ نہ وہ خود اللہ کی گرفت سے بچنے پر قادر ہے اور نہ کسی دوسرے کی مدد سے ایسا ممکن ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
32۔ اور جو اللہ کی طرف بلانے والے کی بات نہ مانے گا تو وہ اسے زمین میں (بھاگ کر) اسے عاجز [45] نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کے بغیر اس کا کوئی حامی ہو گا (جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا لے) یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔
[45] کیونکہ جن اب اوپر آسمان کی طرف تو جا نہیں سکتے اور اگر جائیں تو فرشتے انہیں مار بھگاتے ہیں۔ لہٰذا اب زمین ہی ان کی پناہ گاہ ہے۔ اب زمین سے بھاگ کر جائیں تو کہاں جائیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔