قَالُوۡا یٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا کِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ یَہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ وَ اِلٰی طَرِیۡقٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۳۰﴾
انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے، وہ حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
En
کہنے لگے کہ اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق کرتی ہے (اور) سچا (دین) اور سیدھا رستہ بتاتی ہے
En
کہنے لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقیناً وه کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین کی اور راه راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 30) ➊ {قَالُوْا يٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى:} جنوں نے نازل کردہ کتابوں میں سے آخری کتاب انجیل کا نام لینے کے بجائے تورات کا نام لیا۔ بعض مفسرین کے مطابق اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ یہود کے دین پر تھے، یا انھیں انجیل کے نزول کا علم نہیں تھا، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن سے پہلے آخری کتاب جو شریعت کے احکام پر مشتمل تھی وہ تورات تھی۔ داؤد علیہ السلام کی زبور اور عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل اس کی تکمیل یا تفسیر و تبیین کرنے والی کتابیں تھیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے تمام انبیاء حتیٰ کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی تورات ہی پر عمل کے پابند تھے۔ (دیکھیے مائدہ: ۴۴) اسی سورۂ احقاف میں بھی قرآن سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا ذکر ہے، فرمایا: «وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً» [الأحقاف: ۱۲] ”اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں پہلی وحی کے نزول پر جب ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا معاملہ سن کر کہا تھا: [هٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی] [بخاري، التعبیر، باب أوّل ما بدء بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم …: ۶۹۸۲] ”یہ وہی صاحب راز فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا گیا۔“ حالانکہ ورقہ بن نوفل اس سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا دین قبول کر چکے تھے اور انجیل کے عالم تھے۔
➋ { مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ:} یعنی یہ کتاب اس سے پہلی تمام آسمانی کتابوں کو سچا ثابت کرنے والی ہے کہ اس کتاب کے ذریعے سے وہ تمام باتیں اور پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں جو ان کتابوں میں کی گئی ہیں، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی پیش گوئی بھی شامل ہے۔
➌ { يَهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یعنی عقائد و اخبار میں حق اور اعمال میں سیدھے راستے کی طرف راہ نمائی کرتی ہے، کیونکہ قرآن خبر اور طلب دو چیزوں پر مشتمل ہے۔ اس کی خبر صدق اور طلب عدل ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا» [الأنعام: ۱۱۵] ”اور تیرے رب کی کتاب صدق اور عدل کے اعتبار سے پوری ہو گئی۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ» [التوبۃ: ۳۳] ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا۔“ چنانچہ ہدایت علم نافع ہے اور دینِ حق عمل صالح ہے اور جنوں نے بھی یہی بات کہی کہ {” يَهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ “} (اعتقادات میں حق کی راہنمائی کرتی ہے) {” وَ اِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ “} (اور عملیات میں سیدھے راستے کی)۔“
➋ { مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ:} یعنی یہ کتاب اس سے پہلی تمام آسمانی کتابوں کو سچا ثابت کرنے والی ہے کہ اس کتاب کے ذریعے سے وہ تمام باتیں اور پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں جو ان کتابوں میں کی گئی ہیں، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی پیش گوئی بھی شامل ہے۔
➌ { يَهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یعنی عقائد و اخبار میں حق اور اعمال میں سیدھے راستے کی طرف راہ نمائی کرتی ہے، کیونکہ قرآن خبر اور طلب دو چیزوں پر مشتمل ہے۔ اس کی خبر صدق اور طلب عدل ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا» [الأنعام: ۱۱۵] ”اور تیرے رب کی کتاب صدق اور عدل کے اعتبار سے پوری ہو گئی۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ» [التوبۃ: ۳۳] ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا۔“ چنانچہ ہدایت علم نافع ہے اور دینِ حق عمل صالح ہے اور جنوں نے بھی یہی بات کہی کہ {” يَهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ “} (اعتقادات میں حق کی راہنمائی کرتی ہے) {” وَ اِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ “} (اور عملیات میں سیدھے راستے کی)۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ کہنے لگے: ”اے ہماری قوم! ہم نے ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل [44] ہوئی ہے، وہ اپنے سے پہلے کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، حق کی طرف اور سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
[44] یہ جن پہلے تورات پر ایمان لا چکے تھے :۔
جنوں نے سیدنا موسیٰؑ پر نازل شدہ کتاب تورات کا نام لیا انجیل کا نام نہیں لیا۔ اس لیے سابقہ آسمانی کتابوں میں سے کوئی کتاب احکام و شرائع کے لحاظ سے تورات جیسی جامع اور اس کے ہم پلہ نہیں تھی۔ اسی پر علمائے بنی اسرائیل کا عمل رہا۔ خود سیدنا عیسیٰؑ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ میں تورات کو بدلنے نہیں آیا بلکہ اس کی تکمیل کرنے آیا ہوں۔ اور سیدنا سلیمان کے وقت سے جنوں میں تورات ہی مشہور چلی آتی تھی۔ نیز خود تورات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے متعلق جو پیشین گوئی مذکور ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ (اے موسیٰ) میں تیری مانند ایک نبی بھیجوں گا اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ جن پہلے تورات اور کتب سماویہ پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ جب قرآن سنا تو انہیں فوراً معلوم ہو گیا کہ یہ وہی تعلیم ہے جو سابقہ انبیاء دیتے چلے آرہے ہیں۔ لہٰذا وہ فوراً ایمان لے آئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایمان دار جنوں کی آخری منزل ٭٭
اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے، عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لیے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے، حرام حلال کے مسائل بہت کم تھے، پس اصل چیز توراۃ ہی رہی، اسی لیے ان مسلم جنات نے اسی کا ذکر کیا اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر ورقہ بن نوفل نے جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جبرائیل علیہ السلام کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہی تو وہ مبارک وجود اللہ کے بھیدی کا ہے جو موسیٰ کے پاس آیا کرتے تھے، کاش کہ میں اور کچھ زمانہ زندہ رہتا، الخ۔
پھر قرآن کی اور صف بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے تمام آسمانی کتابوں کو سچا بتلاتا ہے، وہ اعتقادی مسائل اور اخباری مسائل میں حق کی جانب رہبری کرتا ہے اور اعمال میں راہ راست دکھاتا ہے۔ قرآن میں دو چیزیں ہیں یا خبر یا طلب، پس اس کی خبر سچی اور اس کی طلب عدل والی۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [6-الانعام:115] یعنی ’ تیرے رب کا کلمہ سچائی اور عدل کے لحاظ سے بالکل پورا ہی ہے ‘۔
اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ» [9-التوبة:33] الخ یعنی ’ وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا ہے ‘،پس ہدایت نفع دینے والا علم ہے اور دین حق نیک عمل ہے یہی مقصد جنات کا تھا۔
پھر کہتے ہیں، اے ہماری قوم! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو۔ اس میں دلالت ہے اس امر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس کی دونوں جماعتوں کی طرف اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے کہ آپ نے جنات کو اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ سورت پڑھی جس میں ان دونوں جماعتوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کے نام احکام جاری فرمائے ہیں اور وعدہ وعید بیان کیا ہے یعنی سورۃ الرحمن۔
پھر فرماتے ہیں ایسا کرنے سے وہ تمہارے بعض گناہ بخش دے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب لفظ «من» کو زائدہ نہ مانیں، چنانچہ ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے اور قاعدے کے مطابق اثبات کے موقعہ پر لفظ «من» بہت ہی کم زائد آتا ہے اور اگر زائد مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں اپنے المناک عذابوں سے رہائی دے گا۔
اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ ایماندار جنوں کو بھی جنت نہیں ملے گی، ہاں عذاب سے وہ چھٹکارا پا لیں گے، یہی ان کی نیک اعمالیوں کا بدلہ ہے اور اگر اس سے زیادہ مرتبہ بھی انہیں ملنے والا ہوتا تو اس مقام پر یہ مومن جن اسے ضرور بیان کر دیتے۔
پھر قرآن کی اور صف بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے تمام آسمانی کتابوں کو سچا بتلاتا ہے، وہ اعتقادی مسائل اور اخباری مسائل میں حق کی جانب رہبری کرتا ہے اور اعمال میں راہ راست دکھاتا ہے۔ قرآن میں دو چیزیں ہیں یا خبر یا طلب، پس اس کی خبر سچی اور اس کی طلب عدل والی۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [6-الانعام:115] یعنی ’ تیرے رب کا کلمہ سچائی اور عدل کے لحاظ سے بالکل پورا ہی ہے ‘۔
اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ» [9-التوبة:33] الخ یعنی ’ وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا ہے ‘،پس ہدایت نفع دینے والا علم ہے اور دین حق نیک عمل ہے یہی مقصد جنات کا تھا۔
پھر کہتے ہیں، اے ہماری قوم! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو۔ اس میں دلالت ہے اس امر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس کی دونوں جماعتوں کی طرف اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے کہ آپ نے جنات کو اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ سورت پڑھی جس میں ان دونوں جماعتوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کے نام احکام جاری فرمائے ہیں اور وعدہ وعید بیان کیا ہے یعنی سورۃ الرحمن۔
پھر فرماتے ہیں ایسا کرنے سے وہ تمہارے بعض گناہ بخش دے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب لفظ «من» کو زائدہ نہ مانیں، چنانچہ ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے اور قاعدے کے مطابق اثبات کے موقعہ پر لفظ «من» بہت ہی کم زائد آتا ہے اور اگر زائد مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں اپنے المناک عذابوں سے رہائی دے گا۔
اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ ایماندار جنوں کو بھی جنت نہیں ملے گی، ہاں عذاب سے وہ چھٹکارا پا لیں گے، یہی ان کی نیک اعمالیوں کا بدلہ ہے اور اگر اس سے زیادہ مرتبہ بھی انہیں ملنے والا ہوتا تو اس مقام پر یہ مومن جن اسے ضرور بیان کر دیتے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مومن جن جنت میں نہیں جائیں گے اس لیے کہ وہ ابلیس کی اولاد سے ہیں اور اولاد ابلیس جنت میں نہیں جائے گی۔ لیکن حق یہ ہے کہ مومن جن مثل ایماندار انسانوں کے ہیں اور وہ جنت میں جگہ پائیں گے جیسا کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے بعض لوگوں نے اس پر اس آیت سے استدلال کیا ہے «فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ» [55- الرحمن: 56] یعنی ’ حوران بہشتی کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان کا ہاتھ لگا نہ کسی جن کا ‘۔ لیکن اس استدلال میں نظر ہے اس سے بہت بہتر استدلال تو اللہ عزوجل کے اس فرمان سے ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» * «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:47،46] یعنی ’ جو کوئی اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو دو جنتیں ہیں، پھر اے جنو اور انسانو! تم اپنے پروردگار کی کون سی نعمت کو جھٹلاتے ہو؟ ‘۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسانوں اور جنوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ان کے نیک کار کا بدلہ جنت ہے اور اس آیت کو سن کر مسلمان انسانوں سے بہت زیادہ شکر یہ مسلمان جنوں نے کیا اور اسے سنتے ہی کہا کہ اللہ ہم تیری نعمتوں میں سے کسی کے انکاری نہیں، ہم تیرے بہت بہت شکر گزار ہیں، ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ان کے سامنے ان پر وہ احسان جتایا جائے جو اصل انہیں ملنے کا نہیں۔
اور بھی ہماری ایک دلیل سنئے جب کافر جنات کو جہنم میں ڈالا جائے گا جو مقام عدل ہے تو مومن جنات کو جنت میں کیوں نہ لے جایا جائے جو مقام فضل ہے بلکہ یہ بہت زیادہ لائق اور بطور اولیٰ ہونے کے قابل ہے اور اس پر وہ آیتیں بھی دلیل ہیں جن میں عام طور پر ایمانداروں کو جنت کو خوشخبری دی گئی ہے مثلا «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا» [18-الكهف:107] وغیرہ وغیرہ یعنی ایمان داروں کا مہمان خانہ یقینًا جنت فردوس ہے۔
«الحمداللہ» میں نے اس مسئلہ کو بہت کچھ وضاحت کے ساتھ اپنی ایک مستقل تصنیف میں بیان کر دیا ہے اور سنئے جنت کا تو یہ حال ہے کہ ایمانداروں کے کل کے داخل ہو جانے کے بعد بھی اس میں بےحد و حساب جگہ بچ رہے گی۔ اور پھر ایک نئی مخلوق پیدا کر کے انہیں اس میں آباد کیا جائے گا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایماندار اور نیک عمل والے جنات جنت میں نہ بھیجے جائیں اور سنئے یہاں دو باتیں بیان کی گئی ہیں گناہوں کی بخشش اور عذابوں سے رہائی اور جب یہ دونوں چیزیں ہیں تو یقیناً یہ مستلزم ہیں دخول جنت کو۔ اس لیے کہ آخرت میں یا جنت ہے یا جہنم، پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا وہ قطعًا جنت میں جانا چاہیئے اور کوئی نص صریح یا ظاہر اس بات کے بیان میں وارد نہیں ہوئی کہ مومن جن باوجود دوزخ سے بچ جانے کے جنت میں نہیں جائیں گے اگر کوئی اس قسم کی صاف دلیل ہو تو بیشک ہم اس کے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسانوں اور جنوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ان کے نیک کار کا بدلہ جنت ہے اور اس آیت کو سن کر مسلمان انسانوں سے بہت زیادہ شکر یہ مسلمان جنوں نے کیا اور اسے سنتے ہی کہا کہ اللہ ہم تیری نعمتوں میں سے کسی کے انکاری نہیں، ہم تیرے بہت بہت شکر گزار ہیں، ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ان کے سامنے ان پر وہ احسان جتایا جائے جو اصل انہیں ملنے کا نہیں۔
اور بھی ہماری ایک دلیل سنئے جب کافر جنات کو جہنم میں ڈالا جائے گا جو مقام عدل ہے تو مومن جنات کو جنت میں کیوں نہ لے جایا جائے جو مقام فضل ہے بلکہ یہ بہت زیادہ لائق اور بطور اولیٰ ہونے کے قابل ہے اور اس پر وہ آیتیں بھی دلیل ہیں جن میں عام طور پر ایمانداروں کو جنت کو خوشخبری دی گئی ہے مثلا «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا» [18-الكهف:107] وغیرہ وغیرہ یعنی ایمان داروں کا مہمان خانہ یقینًا جنت فردوس ہے۔
«الحمداللہ» میں نے اس مسئلہ کو بہت کچھ وضاحت کے ساتھ اپنی ایک مستقل تصنیف میں بیان کر دیا ہے اور سنئے جنت کا تو یہ حال ہے کہ ایمانداروں کے کل کے داخل ہو جانے کے بعد بھی اس میں بےحد و حساب جگہ بچ رہے گی۔ اور پھر ایک نئی مخلوق پیدا کر کے انہیں اس میں آباد کیا جائے گا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایماندار اور نیک عمل والے جنات جنت میں نہ بھیجے جائیں اور سنئے یہاں دو باتیں بیان کی گئی ہیں گناہوں کی بخشش اور عذابوں سے رہائی اور جب یہ دونوں چیزیں ہیں تو یقیناً یہ مستلزم ہیں دخول جنت کو۔ اس لیے کہ آخرت میں یا جنت ہے یا جہنم، پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا وہ قطعًا جنت میں جانا چاہیئے اور کوئی نص صریح یا ظاہر اس بات کے بیان میں وارد نہیں ہوئی کہ مومن جن باوجود دوزخ سے بچ جانے کے جنت میں نہیں جائیں گے اگر کوئی اس قسم کی صاف دلیل ہو تو بیشک ہم اس کے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
نوح علیہ السلام کو دیکھئیے اپنی قوم سے فرماتے ہیں «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى» [71-نوح:4] ’ اللہ تمہارے گناہوں کو (بوجہ ایمان لانے کے) بخش دے گا اور ایک وقت مقرر تک تمہیں مہلت دے گا ‘۔ تو یہاں بھی دخول جنت کا ذکر نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے مسلمان جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ بالاتفاق وہ سب جنتی ہیں پس اسی طرح یہاں بھی سمجھ لیجئے۔
اب چند اور اقوال بھی اس مسئلہ میں سن لیجئے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بیچ جنت میں تو یہ پہنچیں گے نہیں البتہ کناروں پر ادھر ادھر رہیں گے۔
بعض لوگ کہتے ہیں جنت میں تو وہ ہوں گے لیکن دنیا کے بالکل برعکس انسان انہیں دیکھیں گے اور یہ انسانوں کو دیکھ نہیں سکیں گے۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ وہ جنت میں کھائیں پئیں گے نہیں صرف تسبیح و تحمید و تقدیس کا طَعام ہو گا جیسے فرشتے اس لیے کہ یہ بھی انہی کی جنس سے ہیں۔
لیکن ان تمام اقوال میں نظر ہے اور سب بے دلیل ہیں۔
پھر مومن واعظ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہ کرے گا وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتا بلکہ قدرت اللہ اس پر شامل اور اسے گھیرے ہوئے ہے اس کے عذابوں سے انہیں کوئی بچا نہیں سکتا، یہ کھلے بہکاوے میں ہیں، خیال فرمائیے کہ تبلیغ کا یہ طریقہ کتنا پیارا اور کس قدر موثر ہے، رغبت بھی دلائی اور دھمکایا بھی اسی لیے ان میں سے اکثر ٹھیک ہو گئے اور قافلے کے قافلے اور فوجیں بن کر کئی کئی بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے اور اسلام قبول کیا جیسے کہ پہلے مفصلًا ہم نے بیان کر دیا ہے جس پر ہم جناب باری کے احسان کے شکر گزار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اب چند اور اقوال بھی اس مسئلہ میں سن لیجئے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بیچ جنت میں تو یہ پہنچیں گے نہیں البتہ کناروں پر ادھر ادھر رہیں گے۔
بعض لوگ کہتے ہیں جنت میں تو وہ ہوں گے لیکن دنیا کے بالکل برعکس انسان انہیں دیکھیں گے اور یہ انسانوں کو دیکھ نہیں سکیں گے۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ وہ جنت میں کھائیں پئیں گے نہیں صرف تسبیح و تحمید و تقدیس کا طَعام ہو گا جیسے فرشتے اس لیے کہ یہ بھی انہی کی جنس سے ہیں۔
لیکن ان تمام اقوال میں نظر ہے اور سب بے دلیل ہیں۔
پھر مومن واعظ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہ کرے گا وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتا بلکہ قدرت اللہ اس پر شامل اور اسے گھیرے ہوئے ہے اس کے عذابوں سے انہیں کوئی بچا نہیں سکتا، یہ کھلے بہکاوے میں ہیں، خیال فرمائیے کہ تبلیغ کا یہ طریقہ کتنا پیارا اور کس قدر موثر ہے، رغبت بھی دلائی اور دھمکایا بھی اسی لیے ان میں سے اکثر ٹھیک ہو گئے اور قافلے کے قافلے اور فوجیں بن کر کئی کئی بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے اور اسلام قبول کیا جیسے کہ پہلے مفصلًا ہم نے بیان کر دیا ہے جس پر ہم جناب باری کے احسان کے شکر گزار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»