ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 21

وَ اذۡکُرۡ اَخَا عَادٍ ؕ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَہٗ بِالۡاَحۡقَافِ وَ قَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖۤ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۲۱﴾
اور عاد کے بھائی کو یاد کر جب اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا، جب کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد کئی ڈرانے والے گزر چکے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، بے شک میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ En
اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزرچکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے
En
اور عاد کے بھائی کو یاد کرو، جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی یہ کہ تم سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی عبادت نہ کرو، بیشک میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے خوف کھاتا ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) ➊ {وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ: اذْكُرْ ذِكْرٌ} سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ اپنی قوم کے سامنے اس کا ذکر کرو، تاکہ انھیں نصیحت ہو اور اگر {ذُكْرٌ} سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ اسے یاد کرو، تاکہ تمھیں اس سے تسلی حاصل ہو۔ دونوں باتیں بیک وقت بھی مراد ہو سکتی ہیں، کیونکہ { اذْكُرْ } دونوں سے فعلِ امر ہے۔ قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کا حال بیان کرنے کے بعد دنیا میں چند متکبر اقوام کا ذکر فرمایا، جن میں سے عاد کا ذکر کچھ تفصیل کے ساتھ اور دوسری اقوام کا حال آیت (۲۷): «‏‏‏‏وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى» میں اجمال کے ساتھ بیان فرمایا۔ عاد کے بھائی سے مراد ہود علیہ السلام ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا» ‏‏‏‏ [الأعراف: ۶۵] اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۶۵) کی تفسیر۔ ہود علیہ السلام کو قومِ عاد کا بھائی اس لیے فرمایا کہ وہ ان کے ایک فرد تھے۔ عاد کا تفصیلی ذکر اس لیے فرمایا کہ عرب اقوام میں سے یہ پہلی قوم ہے جس کے پاس نوح علیہ السلام کی عام رسالت کے بعد کوئی رسول آیا۔ ہود اور صالح علیھما السلام کا زمانہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کا ہے۔ سرداران قریش جو اپنی بڑائی کا زعم رکھتے تھے، انھیں قومِ عاد کا قصہ سنایا جو ان کی سرزمین کی سب سے طاقتور قوم تھی۔
➋ {اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ: اَلْأَحْقَافُ حِقْفٌ} کی جمع ہے، ریت کے بلند اور مستطیل ٹیلے کو {حِقْفٌ} کہتے ہیں، جو کچھ ٹیڑھا ہو۔ {اِحْقَوْقَفَ الشَّيْءُ} جب کوئی چیز ٹیڑھی ہو۔ یہاں احقاف سے مراد یمن کے مشرق میں حضر موت کا وہ علاقہ ہے جو عرب کے صحرائے اعظم (ربع خالی) کا حصہ ہے۔ ہود علیہ السلام کی قوم وہاں آباد تھی اور اس زمانے میں وہ نہایت زرخیز اور ترقی یافتہ علاقہ تھا، جس میں چشمے، باغات اور مال مویشی کثرت کے ساتھ موجود تھے، جیسا کہ سورۂ شعراء (۱۳۲ تا ۱۳۴) میں مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بعد وہ علاقہ ایسا برباد ہوا کہ اب تک وہاں آبادی کا نام و نشان نہیں، ہر طرف ریگستان ہے اور ریت کے لمبے چوڑے ٹیلے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے کو احقاف اس کی موجودہ حالت کے اعتبار سے کہا گیا ہے۔ تفہیم القرآن میں ہے: احقاف کی موجودہ حالت دیکھ کر کوئی شخص یہ گمان بھی نہیں کر سکتا کہ کبھی یہاں ایک شاندار تمدن رکھنے والی ایک طاقتور قوم آباد ہو گی۔ اغلب یہ ہے کہ ہزاروں برس پہلے یہ ایک شاداب علاقہ ہو گا اور بعد میں آب و ہوا کی تبدیلی نے اسے ریگزار بنا دیا ہو گا۔ آج اس کی یہ حالت ہے کہ وہ ایک لق و دق ریگستان ہے، جس کے اندرونی حصوں میں جانے کی بھی کوئی ہمت نہیں رکھتا۔ ۱۸۴۳ء میں بویریا کا ایک فوجی آدمی اس کے جنوبی کنارے پر پہنچ گیا تھا، وہ کہتا ہے کہ حضر موت کی شمالی سطح مرتفع پر سے کھڑا ہو کر دیکھا جائے تو یہ صحرا ایک ہزار فٹ نشیب میں نظر آتا ہے، اس میں جگہ جگہ ایسے سفید خطے ہیں جن میں اگر کوئی چیز گر جائے تو ریت میں غرق ہوتی چلی جاتی ہے اور بالکل بوسیدہ ہو جاتی ہے۔ عرب کے بدو اس علاقے سے بہت ڈرتے ہیں اور کسی قیمت پر وہاں جانے پر راضی نہیں ہوتے۔ ایک موقع پر جب بدو اسے وہاں لے جانے پر راضی نہ ہوئے تو وہ اکیلا وہاں گیا۔ اس کا بیان ہے کہ یہاں کی ریت بالکل باریک سفوف کی طرح ہے، میں نے دور سے ایک شاقول اس میں پھینکا تو وہ پانچ منٹ کے اندر اس میں غرق ہو گیا اور اس رسی کا سرا گل گیا جس کے ساتھ وہ بندھا ہوا تھا۔ مفصل معلومات کے لیے ملاحظہ ہو:
Arabia and the Isles by Harold Ingrams, London 1946
The Unveiling of Arabia. By Reginald Hugh kiernan, London 1937
".The Empty Quarter By st john philby. London 1933
➌ {وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ …:} اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہود علیہ السلام سے پہلے بھی کئی ڈرانے والے گزرے اور ان کے بعد بھی اپنی اپنی قوم کو ڈرانے والے کئی پیغمبر گزر چکے، سب کی تعلیم یہی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ ڈرانے والوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ بشارت ماننے والوں کو دی جاتی ہے۔ اس سورت کی ابتدا بھی اسی بات سے ہوئی ہے، فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ» ‏‏‏‏ [الأحقاف: ۳] اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے، منہ پھیرنے والے ہیں۔
➍ { اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ: عَظِيْمٍ يَوْمٍ } کی صفت ہے۔ اس عظیم دن سے مراد آخرت کا دن بھی ہو سکتا ہے اور دنیا میں آنے والے تباہ کن عذاب کا دن بھی، جو قومِ عاد پر آندھی کی صورت میں آیا۔ یوم (دن) کو ان عظیم واقعات کی وجہ سے عظیم کہا ہے جو اس میں واقع ہوں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21۔ 1 احقاف حقف کی جمع ہے ریت کا بلند مستطیل ٹیلہ بعض نے اس کے معنی پہاڑ اور غار کے کیے ہیں یہ حضرت ہود ؑ کی قوم عاد اولی کے علاقے کا نام ہے جو حضرموت (یمن) کے قریب تھا کفار کہ کی تکذیب کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ 21۔ 2 یوم عظیم سے مراد قیامت کا دن ہے، جسے اس کی ہولناکیوں کی وجہ سے بجا طور پر بڑا دن کہا گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ اور ان (کفار مکہ) سے قوم عاد [33] کے بھائی (ہود) کا ذکر کیجئے۔ جب اس نے احقاف [34] میں اپنی قوم کو (برے انجام سے) ڈرایا۔ جبکہ ہود سے پہلے بھی انہیں ڈرانے والے آئے اور اس کے بعد بھی آتے رہے۔ اور کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت [35] نہ کرنا۔ بلا شبہ میں تمہیں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈراتا ہوں۔
[33] یہاں قوم عاد کا ذکر اس مناسبت سے کیا گیا ہے کہ یہ لوگ قریشی سرداروں سے بھی زیادہ مغرور، متکبر اور سرکش تھے۔ یہ قوم کفار مکہ کی نسبت قد و قامت، ڈیل ڈول اور جسمانی قوت کے لحاظ سے بھی بہت بڑھ کر تھی۔
[34] احقاف قوم عاد کا مسکن :۔
احقاف، حقف کی جمع ہے۔ بمعنی ریت کے بڑے بڑے میلوں میں پھیلے ہوئے ٹیلے۔ یہی علاقہ قوم عاد کا مسکن تھا۔ جو کسی زمانہ میں سرسبز اور شاداب علاقہ تھا۔ قوم عاد نے اسی جگہ زمین دوز مکان بنا رکھے تھے۔ یہ علاقہ جنوبی عرب میں حضرموت کے شمال میں واقع ہے۔ اور آج کل وہاں ریت ہی ریت کے ٹیلے ہیں جو سینکڑوں میل تک پھیلتے چلے گئے ہیں۔ اس علاقہ کو آج کل ربع خالی بھی کہتے ہیں۔ کوئی شخص اس صحرا میں داخل ہونے کی جرأت نہیں کرتا۔ اور جو چیز اس ریت میں گر پڑے وہ بھی ریت میں دھنس کر ریت ہی بن جاتی ہے۔ جیسے کوئی چیز نمک کی کان میں گر پڑے تو وہ بھی نمک ہی بن جاتی ہے۔
[35] اس علاقہ میں ہودؑ سے پہلے بھی کئی نبی آئے تھے اور بعد میں آتے رہے۔ ان سب کی تعلیم یہی تھی کہ اللہ ہی کائنات کا اور تمہارا خالق اور مالک ہے۔ لہٰذا وہی ہستی عبادت کے لائق ہے۔ صرف اسی کی عبادت کرو۔ کیونکہ اور کسی کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اور اگر تم نے اللہ کا حکم نہ مانا، شرک اور اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو تم پر سخت عذاب نازل ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو «احقاف» میں رہتے تھے «احقاف» جمع ہے «حقف» کی اور «حقف» کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضر موت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی «احقاف» کا بیان کیا گیا ہے قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شحر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:291/11]‏‏‏‏
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ { جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے[سنن ابن ماجہ:3852،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول علیہم السلام مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ» ۔ [2-البقرة:66]‏‏‏‏
اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے «فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» ۔ [41-فصلت:14،13]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہو گا۔ جس پر قوم نے کہا: کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔
جیسے کہ اور آیت میں ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [42-الشورى:18]‏‏‏‏ یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو، اب اللہ کا عذاب آ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے چونکہ خشک سالی تھی، گرمی سخت تھی، یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے، اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الٰہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے، اس میں وہ عذاب تھا، جسے ہود علیہ السلام سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے حکم تھا۔
جیسے اور آیت میں ہے «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [51-الذاريات:42]‏‏‏‏ یعنی جس چیز پر وہ گزر جاتی تھی اسے چورا چورا کر دیتی تھی، پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہو گئے ایک بھی نہ بچ سکا۔
پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔
{ سیدنا حارث بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدنا علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا تھا۔ ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی، مجھ سے کہنے لگی، اے اللہ کے بندے! میرا ایک کام اللہ کے رسول سے ہے، کیا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دے گا؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور بلال تلوار لٹکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا۔ سلام علیک کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی؟ میں نے کہا: ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بھی اندر بلا لو، چنانچہ وہ آ گئیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر سکتے ہیں تو اسے کر دیجئیے، اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یا رسول اللہ! آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں؟ اللہ کی پناہ، واللہ! کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے تو آیا نہیں الٰہی عادیوں کو وہ پلا جو تو انہیں پلانے والا ہے۔ چنانچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کر لے چنانچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کر لیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہو گئے۔ ابووائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا }۔ [مسند احمد:482/3:حسن]‏‏‏‏ یہ روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔
جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزرا مسند احمد میں ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہو جاتے۔ چنانچہ ایک روز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہو جاؤں؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔‏‏‏‏ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے }۔ [صحیح بخاری:4828]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَآ فِیہ» اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے، پس اگر یہ کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ صَیِّباً نَّافِعًا» اے اللہ! اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے }۔ [مسند احمد:190/6:صحیح]‏‏‏‏
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ { جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِیھَا وَخَيْرَ مآ اَرسَلتَ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرّ مَآ فِیھَا وَشَرِ مَآ اَرسَلتَ بِہِ» یا اللہ! میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کو یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا، کبھی اندر، کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہو جاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہو جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا }۔ [صحیح مسلم:899,15]‏‏‏‏
سورۃ الاعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور ہود کا پورا واقعہ گزر چکا ہے اس لیے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے «فللہ الحمد والمنہ» طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے، یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہو گئے، ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی }۔ [طبرانی کبیر:12416:ضعیف]‏‏‏‏ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»