اور ہر ایک کے لیے الگ الگ درجے ہیں، ان اعمال کی وجہ سے جو انھوں نے کیے اور تاکہ اللہ انھیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
En
اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہوں گے ان کے مطابق سب کے درجے ہوں گے۔ غرض یہ ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے
(آیت 19) {وَلِكُلٍّدَرَجٰتٌمِّمَّاعَمِلُوْا …:} اس آیت سے پہلے مضمون کی تاکید مقصود ہے، یعنی ہر ایک کو، وہ مومن ہو یا کافر، اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا ملے گی۔ یہ نہیں ہو گا کہ بروں پر ایسے گناہ لاد دیے جائیں جو انھوں نے نہ کیے ہوں، یا نیکوں کو ان کی نیکی سے محروم کر دیا جائے۔ واضح رہے یہاں مومن و کافر سب کے لیے {”دَرَجٰتٌ“} کا لفظ تغلیباً استعمال ہوا ہے، ورنہ تو اصل میں منازلِ جنت کو ”درجات“ اور منازلِ جہنم کو ”درکات“ کہا جاتا ہے، جس طرح منافقوں کے بارے میں {”فِيالدَّرْكِالْاَسْفَلِمِنَالنَّارِ“} آیا ہے۔ (روح المعانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 مومن اور کافر دونوں کا ان کے عملوں کے مطابق اللہ کے ہاں مرتبہ ہوگا مومن مراتب عالیہ سے سرفراز ہوں گے اور کافر جہنم کے پست ترین درجوں میں ہوں گے۔ 19۔ 1 گنہگار کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی اور نیکوکار کے صلے میں کمی نہیں ہوگی۔ بلکہ ہر ایک کو خیر یا شر میں سے وہی ملے گا جس کا وہ مستحق ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ (ان دونوں قسموں کے لوگوں میں سے) ہر ایک کے ان کے اعمال کے لحاظ سے درجے ہوں گے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ [30] دے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
[30] نیک لوگوں پر ظلم کی صورتیں یہ ہیں کہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ نہ دیا جائے یا کم دیا جائے۔ اور مجرموں پر ظلم کی صورتیں یہ ہیں کہ انہیں جرم سے زیادہ سزا دے ڈالی جائے یا مجرموں کو سزا دیئے بغیر چھوڑ دیا جائے غرضیکہ ظلم کی کوئی بھی صورت وہاں ممکن نہ ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر فرماتا ہے ہر ایک کے لیے اس کی برائی کے مطابق سزا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بلکہ اس سے بھی کم کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہنم کے درجے نیچے ہیں اور جنت کے درجے اونچے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:288/11] پھر فرماتا ہے کہ جب جہنمی جہنم پر لا کھڑے کئے جائیں گے انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ تم اپنی نیکیاں دنیا میں ہی وصول کر چکے ان سے فائدہ وہیں اٹھا لیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بہت زیادہ مرغوب اور لطیف غذا سے اسی آیت کو پیش نظر رکھ کر اجتناب کر لیا تھا اور فرماتے تھے مجھے خوف ہے کہیں میں بھی ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ فرمائے گا۔ ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا میں کی ہوئی اپنی نیکیاں قیامت کے دن گم پائیں گے اور ان سے یہی کہا جائے گا۔ پھر فرماتا ہے آج انہیں ذلت کے عذابوں کی سزا دی جائے گی ان کے تکبر اور ان کے فسق کی وجہ سے۔ جیسا عمل ویسا ہی بدلہ ملا۔ دنیا میں یہ ناز و نعمت سے اپنی جانوں کو پالنے والے اور نخوت و بڑائی سے اتباع حق کو چھوڑنے والے اور برائیوں اور نافرمانیوں میں ہمہ تن مشغول رہنے والے تھے، تو آج قیامت کے دن انہیں اہانت اور رسوائی والے عذاب اور سخت درد ناک سزائیں اور ہائے وائے اور افسوس و حسرت کے ساتھ جہنم کے نیچے کے طبقوں میں جگہ ملے گی اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں ان سب باتوں سے محفوظ رکھے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔