ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 13

اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۱۳﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ En
جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
En
بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14،13){ اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حم سجدہ (۳۰، ۳۱) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ یقیناً جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر ڈٹ گئے انہیں کوئی خوف نہ ہو گا [18] اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
[18] اس آیت کی تفسیر کے لیے سورۃ حٰم السجدۃ کی آیت نمبر 30 کے حواشی ملاحظہ فرمایئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب تورات امام و رحمت تھی اور یہ کتاب یعنی قرآن مجید اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کو منزل من اللہ اور سچی کتابیں مانتا ہے۔ یہ عربی فصیح اور بلیغ زبان میں نہایت واضح کتاب ہے۔ اس میں کفار کے لیے ڈراوا ہے اور ایمانداروں کے لیے بشارت ہے۔
اس کے بعد کی آیت کی پوری تفسیر سورۂ حم السجدہ میں گزر چکی ہے۔ ان پر خوف نہ ہو گا۔ یعنی آئندہ اور یہ غم نہ کھائیں گے یعنی چھوڑی ہوئی چیزوں کا۔ یہ ہمیشہ جنت میں رہنے والے جنتی ہیں، ان کے پاکیزہ اعمال تھے ہی ایسے کہ رحمت رحیم، کرم کریم کی بدلیاں ان پر جھوم جھوم کر موسلا دھار بارش برسائیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»