(آیت 37) ➊ {وَلَهُالْكِبْرِيَآءُفِيالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ:} یہ جملہ لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے بندوں کو اپنی حمد کی تلقین و تاکید انھی کے فائدے کے لیے کی ہے، ورنہ وہ خود نہ ان کی تعریف کا محتاج ہے، نہ اسے اس کی ضرورت ہے اور نہ ان کی تعریف سے اس کی شان میں کوئی اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلے سے اور ہمیشہ سے ساری بڑائی اور عظمت کا اکیلا مالک ہے، کوئی اور اس کی بڑائی میں کیا اضافہ کرے گا۔ ➋ { وَهُوَالْعَزِيْزُالْحَكِيْمُ:} یہ دو صفات اس بات کی دلیل کے طور پر ذکر فرمائیں کہ وہ اکیلا ہر کبریائی اور عظمت کا مالک ہے، کیونکہ وہی عزیز ہے اور وہی حکیم ہے (خبرپر الف لام سے حصر کا معنی پیدا ہو رہا ہے)، دوسرا کوئی نہ عزیز ہے نہ حکیم، تو اس میں کبریائی کیا ہو گی؟ {”الْعَزِيْزُ“} میں قدرت و اختیار کی ہر صورت آ جاتی ہے اور {”الْحَكِيْمُ“} میں علم کا ہر مفہوم آ جاتا ہے۔ وہ {”الْعَزِيْزُ“} (سب پر غالب) ہے، جو چاہے کر سکتا ہے، کوئی کام ایسا نہیں جو وہ نہ کر سکے اور کوئی ہستی ایسی نہیں جو اسے روک سکے اور وہ {”الْحَكِيْمُ“} (کمال حکمت والا) ہے، جو کرتا ہے عین حکمت اور بالکل درست ہوتا ہے، کوئی اس میں نہ غلطی نکال سکتا ہے نہ اس سے بہتر کی نشان دہی کر سکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 جیسے حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلْعَظَمَۃُاِذَارِیْوَالْکِبْریاءُرِدَائیْفَمَنْنَازَعَنِیْوَاحِدًامِنْھُمَااَسْکَنْتُہُنَارِیْ (صحیح مسلم)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ آسمانوں اور زمین میں کبریائی [49] اسی کے لئے ہے اور وہ زبردست ہے، حکمت والا ہے
[49] 1۔ تکبر کی مذمت۔ 2۔ کبریائی صرف اللہ کو لائق ہے :۔
تکبر اور غرور ایسا جرم ہے جس کی سزا دنیا میں بھی مل کے رہتی ہے۔ مثل مشہور ہے کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کا ہر شخص دنیا میں ہی مشاہدہ کر لیتا ہے۔ اور آخرت میں تو متکبرین کا یہ انجام ہو گا کہ کوئی ایسا متکبر نہیں ہو گا جسے جہنم میں ذلیل و رسوا کر کے داخل نہ کیا جائے۔ بہت سی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جہنم میں زیادہ تر متکبر قسم کے لوگ ہی ہوں گے۔ نیز سیدنا ابو سعید خدریؓ اور سیدنا ابوہریرہؓ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزت پروردگار کی ازار ہے اور بزرگی اس کی چادر ہے۔ (پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) جو کوئی اسے مجھ سے کھینچنے کی کوشش کرے گا میں اسے ضرور عذاب دوں گا“ [مسلم۔ کتاب البر والصلۃ والادب۔ باب تحریم الکبر] نیز ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کبریائی میری چادر اور عظمت میرا ازار بند ہے۔ لہٰذا جو شخص ان دونوں میں سے کسی چیز کو مجھ سے کھینچنے کی کوشش کرے گا۔ میں اسے اٹھا کر آگ میں پھینک دوں گا۔ [حواله ايضاً] گویا کبریائی اور تکبر ایسی صفت ہے جو صرف اللہ اکیلے کو سزاوار ہے اور ایک مومن کبھی متکبر نہیں ہو سکتا۔ تکبر اور ایمان ایک دوسرے کی ضد ہیں جو کسی ایک انسان میں جمع نہیں ہو سکتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں