ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 32

وَ اِذَا قِیۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ السَّاعَۃُ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا قُلۡتُمۡ مَّا نَدۡرِیۡ مَا السَّاعَۃُ ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحۡنُ بِمُسۡتَیۡقِنِیۡنَ ﴿۳۲﴾
اور جب کہا جاتا تھا کہ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے اور جو قیامت ہے اس میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے، ہم تو محض معمولی سا گمان کرتے ہیں اور ہم ہرگز پورا یقین کرنے والے نہیں۔ En
اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا
En
اور جب کبھی کہا جاتا کہ اللہ کا وعده یقیناً سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم جواب دیتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ ہمیں کچھ یوں ہی سا خیال ہوجاتا ہے لیکن ہمیں یقین نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32) ➊ {وَ اِذَا قِيْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ …:} اللہ تعالیٰ کفار کے جرائم بیان کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ جب تم سے کہا جاتا تھا کہ یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم یہ کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے اور انکار کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ جیسے فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کا انکار کرتے ہوئے کہا تھا: «‏‏‏‏وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏ [الشعراء: ۲۳] اور رب العالمین کیا چیز ہے؟ یہ جھٹلانے کا بدترین انداز ہے جس میں انکار کے ساتھ استہزا بھی شامل ہے۔
➋ {اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا:} یہاں ایک سوال ہے کہ اس جملے کا لفظی معنی ہے ہم نہیں گمان کرتے مگر گمان کرنا یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے {إِنْ نَأْكُلُ إِلَّا أَكْلًا} ہم نہیں کھاتے مگر کھانا۔ ظاہر ہے اس سے کوئی مفید مطلب بات حاصل نہیں ہوتی۔ جواب اس کا یہ ہے کہ { ظَنًّا } پر تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے، یعنی ہم گمان نہیں کرتے مگر ہلکا اور معمولی سا گمان، یعنی پیغمبروں کے وعظ اور لوگوں کے کہنے کی وجہ سے ہمیں اس کا معمولی سا گمان ہوتا ہے جس کی کچھ حیثیت نہیں۔ واضح رہے کہ قرآن مجید میں بعض مقامات پر ظن یقین کے معنی میں آیا ہے، مگر یہاں شک کے معنی میں ہے، کیونکہ وہ یقین کے مقابلے میں آ رہا ہے۔
➌ { وَ مَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِيْنَ:} باء یہاں نفی کی تاکید کے لیے ہے اور { مُسْتَيْقِنِيْنَ } میں سین اور تاء مبالغہ کے لیے ہے، یعنی ہم پورا یقین کرنے والے ہر گز نہیں ہیں، کبھی معمولی سا گمان یا دھندلا سا خیال آ جائے تو وہ الگ بات ہے۔
➍ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، یومِ آخرت اور تقدیر میں سے کسی چیز میں شک ہو (گو انکار نہ بھی ہو) تو وہ کافر ہے۔ ایمان نام ہی یقین یعنی زوالِ شک کا ہے، کیونکہ انسان کو اللہ کے احکام کا پابند بنانے والی چیز ہے ہی یقین۔ آگے یقین کے درجات مختلف ہو سکتے ہیں اور ایمان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے چار پرندوں والے واقعہ سے ظاہر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32۔ 1 یعنی قیامت کا وقوع، محض ظن وتخمین ہے، ہمیں تو یقین نہیں کہ یہ واقعی ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ اور جب تمہیں کہا جاتا کہ: ”اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں“ تو تم کہہ دیتے تھے: ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا چیز ہے؟ ہم تو اسے ایک ظنی چیز ہی خیال کرتے ہیں [45] اور ظنی چیز پر ہم یقین نہیں کر سکتے۔
[45] ایمان کے کسی جزو میں بھی شک کرنے والے کافر ہیں :۔
اس آیت سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کے منکر اور قیامت میں شک رکھنے والے کے درمیان کوئی فرق نہیں، دونوں ہی ایک جیسے مجرم اور کافر ہیں۔ اور اس سے آگے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ جن جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر، اس کے فرشتوں پر اس کے رسولوں پر، اس کی کتابوں پر، روز آخرت پر اور خیر و شر کے اللہ کی طرف سے مقدر ہونے پر۔ ان میں سے کسی بھی ایک چیز کا انکار کر دینا یا اسے مشکوک سمجھنا ایک ہی بات ہے اور ایسا شک کرنے والا مومن نہیں بلکہ کافر ہی ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ آخرت میں شک کرنے والے مجرم کیوں ہوتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو احکام الٰہی کا پابند بنانے اور بنائے رکھنے والی چیز صرف اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کا تصور ہے۔ اب اگر کوئی شخص آخرت کا منکر ہو یا اس میں شک رکھتا ہو، دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔ یعنی انسان بلا خوف گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔