وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۟ اَفَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَاسۡتَکۡبَرۡتُمۡ وَ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اور رہے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو کیا میری آیات تمھارے سامنے نہ پڑھی جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔
En
اور جنہوں نے کفر کیا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے
En
لیکن جن لوگوں نے کفر کیا تو (میں ان سے کہوں گا) کیا میری آیتیں تمہیں سنائی نہیں جاتی تھیں؟ پھر بھی تم تکبر کرتے رہے اور تم تھے ہی گنہ گار لوگ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 31) ➊ {وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ: ” وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “} کے بعد کچھ الفاظ محذوف ہیں، کیونکہ {” وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “} جملہ خبریہ کا ایک حصہ ہے اور {” اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ “} خطاب اور استفہام ہے جو جملہ انشائیہ ہے۔ وہ محذوف الفاظ کچھ پچھلی آیت سے واضح ہو رہے ہیں اور کچھ بعد کے الفاظ {” اَفَلَمْ تَكُنْ …“} سے سمجھ میں آ رہے ہیں، جو اس طرح کے ہو سکتے ہیں: {”وَ أَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيُدْخِلُهُمْ فِيْ عَذَابِهِ وَ يَقُوْلُ أَفَلَمْ تَكُنْ آيَاتِيْ تُتْلٰي عَلَيْكُمْ“} ”یعنی رہے کافر تو وہ انھیں اپنے عذاب میں داخل کرے گا اور فرمائے گا، تو کیا میری آیات تمھارے سامنے پڑھی نہ جاتی تھیں؟“(واللہ اعلم) مطلب یہ ہے کہ جہنم کے عذاب کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کا عتاب اور اس کی ڈانٹ بھی سنیں گے جو اپنی جگہ بہت بڑا عذاب ہو گا۔
➋ { فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ:} قرآن میں ”مجرم “ کا لفظ ”مسلم“ کے مقابلے میں آیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ (35) مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ» [القلم: ۳۵، ۳۶] ”تو کیا ہم فرماں برداروں کو جرم کرنے والوں کی طرح کر دیں گے؟ کیا ہے تمھیں، تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟“ یعنی تم نے میری آیات سننے کے باوجود اپنے آپ کو میرا تابع فرمان بنانے سے بڑا اور اونچا سمجھا اور مسلم بننے کے بجائے مجرم بننے پر اڑے رہے، جب کہ یہ بات مجھے کسی طرح گوارا نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ جاثیہ (۷ تا ۱۱) اور سورۂ اعراف (۳۶، ۴۰) کی تفسیر۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی الْكِبْرِيَاءُ رِدَاءِيْ وَالْعَظَمَةُ إِزَارِيْ فَمَنْ نَازَعَنِيْ وَاحِدًا مِّنْهُمَا قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ] [أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء في الکبر: ۴۰۹۰، وقال الألباني صحیح] ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عظمت میری ازار ہے تو جو کوئی ان میں سے ایک بھی مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے آگ میں پھینکوں گا۔“ اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِّنْ كِبْرٍ، وَلاَ يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِّنْ إِيْمَانٍ] [ابن ماجہ، المقدمۃ، باب في الإیمان: ۵۹، قال الألباني صحیح] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر کبر ہو گا اور وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبر کی وضاحت خود فرمائی کہ وہ خوبصورت کپڑے یا خوبصورت جوتے پہننے کا نام نہیں، بلکہ فرمایا: [اَلْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ] [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱] ”تکبر حق سے انکار کر دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“
➋ { فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ:} قرآن میں ”مجرم “ کا لفظ ”مسلم“ کے مقابلے میں آیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ (35) مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ» [القلم: ۳۵، ۳۶] ”تو کیا ہم فرماں برداروں کو جرم کرنے والوں کی طرح کر دیں گے؟ کیا ہے تمھیں، تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟“ یعنی تم نے میری آیات سننے کے باوجود اپنے آپ کو میرا تابع فرمان بنانے سے بڑا اور اونچا سمجھا اور مسلم بننے کے بجائے مجرم بننے پر اڑے رہے، جب کہ یہ بات مجھے کسی طرح گوارا نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ جاثیہ (۷ تا ۱۱) اور سورۂ اعراف (۳۶، ۴۰) کی تفسیر۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی الْكِبْرِيَاءُ رِدَاءِيْ وَالْعَظَمَةُ إِزَارِيْ فَمَنْ نَازَعَنِيْ وَاحِدًا مِّنْهُمَا قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ] [أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء في الکبر: ۴۰۹۰، وقال الألباني صحیح] ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عظمت میری ازار ہے تو جو کوئی ان میں سے ایک بھی مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے آگ میں پھینکوں گا۔“ اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِّنْ كِبْرٍ، وَلاَ يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِّنْ إِيْمَانٍ] [ابن ماجہ، المقدمۃ، باب في الإیمان: ۵۹، قال الألباني صحیح] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر کبر ہو گا اور وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبر کی وضاحت خود فرمائی کہ وہ خوبصورت کپڑے یا خوبصورت جوتے پہننے کا نام نہیں، بلکہ فرمایا: [اَلْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ] [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱] ”تکبر حق سے انکار کر دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
31۔ 1 یہ بطور توبیخ کے ان سے کہا جائے گا، کیونکہ رسول ان کے پاس آئے تھے، انہوں نے اللہ کے احکام انہیں سنائے تھے، لیکن انہوں نے پروا ہی نہیں کی تھی۔ 31۔ 2 یعنی حق کے قبول کرنے سے تم نے تکبر کیا اور ایمان نہیں لائے، بلکہ تم تھے ہی گناہ گار۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
31۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا (انہیں کہا جائے گا) کیا تمہیں میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟ مگر تم اکڑ گئے [44] اور تم تھے ہی مجرم لوگ
[44] یعنی کبر و نخوت تم میں اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ اللہ کی آیات سننا بھی تم اپنی شان سے فروتر سمجھتے تھے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا «رحمت» سے مراد جنت ہے۔
جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4850]
کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کر لینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں؟، یعنی یقیناً پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آ کر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے، اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لیے ہوئے تم نے ظاہراً اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی، گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے، (جب کہا جاتا) اور قیامت ضرور قائم ہو گی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور ہی آئے گی۔
جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4850]
کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کر لینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں؟، یعنی یقیناً پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آ کر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے، اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لیے ہوئے تم نے ظاہراً اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی، گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے، (جب کہا جاتا) اور قیامت ضرور قائم ہو گی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور ہی آئے گی۔