وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا کَانَ حُجَّتَہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کی دلیل اس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ کہتے ہیں ہمارے باپ دادا کو لے آؤ ، اگر تم سچے ہو۔
En
اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ
En
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح اور روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے، تو ان کے پاس اس قول کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو ﻻؤ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 25) ➊ { وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا …:} یہ کفار کی سب سے وزنی دلیل تھی جو وہ آخرت کی نفی کے لیے پیغمبروں کے سامنے پیش کرتے تھے کہ ”اگر تم اپنے اس عقیدہ میں سچے ہو کہ مرنے کے بعد ہم پھر جی اٹھیں گے تو ہمارے آبا و اجداد میں سے کسی کو لے آؤ۔“ حالانکہ قیامت سے پہلے فرداً فرداً اس دنیا میں زندہ ہو کر واپس آنے کو قرآن نے محال اور ناممکن بتایا ہے، جبکہ قیامت کے دن دوبارہ زندگی کے امکان پر عقلی دلائل قائم کیے ہیں جو اٹل اور ناقابلِ انکار ہیں۔ رہا آخرت پر ایمان، تو اس کا انحصار سراسر انبیاء علیھم السلام کی تصدیق پر ہے۔ اس آیت کی مفصل تفسیر سورۂ دخان کی آیت (۳۶) کے تحت گزر چکی ہے۔
➋ {مَا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا …:} ظاہر ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ ”اگر تم سچے ہو کہ قیامت آئے گی تو ابھی ہمارے آبا و اجداد کو زندہ کرکے لاؤ“ کوئی حجت یا دلیل نہیں، بلکہ نہایت فضول بات ہے، جیسا کہ سورۂ دخان (۳۶) میں تفصیل گزری۔ یہاں اسے حجت کہا گیا تو یہ واضح کرنے کے لیے کہ ان کے پاس کوئی حجت ہے ہی نہیں، کیونکہ اپنے گمان میں وہ جسے حجت سمجھ رہے ہیں فی الواقع اس کا حجت اور دلیل سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ اسے ان کی حجت کہنے میں ان سے تہکّم اور استہزا بھی مراد ہے کہ ان عقل مندوں کی حجت اور دلیل اس طرح کی ہوتی ہے۔
➋ {مَا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا …:} ظاہر ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ ”اگر تم سچے ہو کہ قیامت آئے گی تو ابھی ہمارے آبا و اجداد کو زندہ کرکے لاؤ“ کوئی حجت یا دلیل نہیں، بلکہ نہایت فضول بات ہے، جیسا کہ سورۂ دخان (۳۶) میں تفصیل گزری۔ یہاں اسے حجت کہا گیا تو یہ واضح کرنے کے لیے کہ ان کے پاس کوئی حجت ہے ہی نہیں، کیونکہ اپنے گمان میں وہ جسے حجت سمجھ رہے ہیں فی الواقع اس کا حجت اور دلیل سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ اسے ان کی حجت کہنے میں ان سے تہکّم اور استہزا بھی مراد ہے کہ ان عقل مندوں کی حجت اور دلیل اس طرح کی ہوتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
25۔ 1 یہ ان کی سب سے بڑی دلیل ہے جو ان کی کٹ حجتی کا مظہر ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ یہ کہہ دیتے کہ: ”اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباء و اجداد [37] کو اٹھا لاؤ“
[37] منکرین آخرت کا اعتراض، کوئی مردہ زندہ کر کے دکھاؤ :۔
لے دے کے ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اچھا اگر مرنے کے بعد زندگی یقینی ہے تو ہمیں ہمارا کوئی بڑا بزرگ زندہ کر کے دکھا دو۔ حالانکہ پیغمبروں کا دعویٰ یہ ہوتا ہی نہیں کہ جب کوئی انکار کرے تو قبر سے مردہ زندہ کر کے اسے دکھا سکتے ہیں تاکہ اسے پوری طرح یقین آجائے بلکہ ان کا دعویٰ صرف یہ ہوتا ہے کہ قیامت کے بعد اللہ تعالیٰ بیک وقت تمام انسانوں کو از سر نو زندہ کرے گا۔ یہ نہیں کہ قیامت سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً مردے زندہ کئے جاتے رہیں گے۔ پھر جب وہ تمہارے آباء و اجداد کو زندہ کرے گا اس وقت تمہیں بھی زندہ کرے گا اور ساری حقیقت تم سب کے سامنے آجائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
زمانے کو گالی مت دو ٭٭
دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں۔
فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دھریہ اور دوریہ تھے وہ خالق کے بھی منکر تھے ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آ جاتی ہے اور ایسے کئی دور کے وہ قائل تھے دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی ہے نہ کہ اللہ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے ‘۔
ابوداؤد وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ دہر کو (یعنی زمانے کو) گالیاں دیتا ہے دراصل زمانہ میں ہی ہوں تمام کام میرے ہاتھ ہیں دن رات کا ہیر پھیر کرتا ہوں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4826]
ایک روایت میں ہے { دہر (زمانہ) کو گالی نہ دو اللہ ہی زمانہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/5:صحیح]
ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے ایک بالکل غریب سند سے وارد کیا ہے اس میں ہے { اہل جاہلیت کا خیال تھا کہ ہمیں دن رات ہی ہلاک کرتے ہیں، وہی ہمیں مارتے جلاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں اسے نقل فرمایا ’ وہ زمانے کو برا کہتے تھے ‘،پس اللہ عزوجل نے فرمایا ’ مجھے ابن آدم ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں سب کام ہیں میں دن رات کا لے آنے لے جانے والا ہوں ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:264/11]
فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دھریہ اور دوریہ تھے وہ خالق کے بھی منکر تھے ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آ جاتی ہے اور ایسے کئی دور کے وہ قائل تھے دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی ہے نہ کہ اللہ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے ‘۔
ابوداؤد وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ دہر کو (یعنی زمانے کو) گالیاں دیتا ہے دراصل زمانہ میں ہی ہوں تمام کام میرے ہاتھ ہیں دن رات کا ہیر پھیر کرتا ہوں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4826]
ایک روایت میں ہے { دہر (زمانہ) کو گالی نہ دو اللہ ہی زمانہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/5:صحیح]
ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے ایک بالکل غریب سند سے وارد کیا ہے اس میں ہے { اہل جاہلیت کا خیال تھا کہ ہمیں دن رات ہی ہلاک کرتے ہیں، وہی ہمیں مارتے جلاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں اسے نقل فرمایا ’ وہ زمانے کو برا کہتے تھے ‘،پس اللہ عزوجل نے فرمایا ’ مجھے ابن آدم ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں سب کام ہیں میں دن رات کا لے آنے لے جانے والا ہوں ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:264/11]
ابن ابی حاتم میں ہے { ابن آدم زمانے کو گالیاں دیتا ہے، میں زمانہ ہوں، دن رات میرے ہاتھ میں ہیں }۔ اور حدیث میں ہے { میں نے اپنے بندے سے قرض طلب کیا اس نے مجھے نہ دیا، مجھے میرے بندے گالیاں دیں، وہ کہتا ہے ہائے ہائے زمانہ اور زمانہ میں ہوں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:92/25:]
امام شافعی اور ابوعبیدہ رحمہا اللہ وغیرہ ائمہ لغت و تفسیر اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ”جاہلیت کے عربوں کو جب کوئی بلا اور شدت و تکلیف پہنچتی تو وہ اسے زمانے کی طرف نسبت کرتے اور زمانے کو برا کہتے دراصل زمانہ خود تو کچھ کرتا نہیں ہر کام کا کرتا دھرتا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے اس کا زمانے کو گالی دینا فی الواقع اسے برا کہنا تھا جس کی ہاتھ میں اور جس کے بس میں زمانہ ہے جو راحت و رنج کا مالک ہے اور وہ ذات باری تعالیٰ «عزاسمہ» ہے۔
پس وہ گالی حقیقی فاعل یعنی اللہ تعالیٰ پر پڑتی ہے اس لیے اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اور لوگوں کو اس سے روک دیا“ یہی شرح بہت ٹھیک اور بالکل درست ہے۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ وغیرہ نے اس حدیث سے جو یہ سمجھ لیا ہے کہ «دھر» اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام ہے یہ بالکل غلط ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام شافعی اور ابوعبیدہ رحمہا اللہ وغیرہ ائمہ لغت و تفسیر اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ”جاہلیت کے عربوں کو جب کوئی بلا اور شدت و تکلیف پہنچتی تو وہ اسے زمانے کی طرف نسبت کرتے اور زمانے کو برا کہتے دراصل زمانہ خود تو کچھ کرتا نہیں ہر کام کا کرتا دھرتا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے اس کا زمانے کو گالی دینا فی الواقع اسے برا کہنا تھا جس کی ہاتھ میں اور جس کے بس میں زمانہ ہے جو راحت و رنج کا مالک ہے اور وہ ذات باری تعالیٰ «عزاسمہ» ہے۔
پس وہ گالی حقیقی فاعل یعنی اللہ تعالیٰ پر پڑتی ہے اس لیے اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اور لوگوں کو اس سے روک دیا“ یہی شرح بہت ٹھیک اور بالکل درست ہے۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ وغیرہ نے اس حدیث سے جو یہ سمجھ لیا ہے کہ «دھر» اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام ہے یہ بالکل غلط ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر ان بےعلموں کی کج بخشی بیان ہو رہی ہے کہ قیامت قائم ہونے کی اور دوبارہ جلائے جانے کی بالکل صاف دلیلیں جب انہیں دی جاتی ہیں اور قائل معقول کر دیا جاتا ہے تو چونکہ جب کچھ بن نہیں پڑتا جھٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ اچھا پھر ہمارے مردہ باپ دادوں پردادوں کو زندہ کر کے ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اپنا پیدا کیا جانا اور مر جانا تو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہو کہ تم کچھ نہ تھے اور اس نے تمہیں موجود کر دیا پھر وہ تمہیں مار ڈالتا ہے ‘، «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم27] ’ تو جو ابتداءً پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ جی اٹھانے پر قادر کیسے نہ ہو گا؟ ‘۔ بلکہ عقلًا ہدایت (واضح طور پر) کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ جو شروع شروع کسی چیز کو بنا دے اس پر دوبارہ اس کا بنانا بہ نسبت پہلی دفعہ کے بہت آسان ہوتا ہے۔
پس یہاں فرمایا کہ پھر وہ تمہیں قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا۔ وہ دنیا میں تمہیں دوبارہ لانے کا نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر لاؤ۔ یہ تو دارعمل ہے، دارجزا قیامت کا دن ہے، یہاں تو ہر ایک کو تھوڑی بہت تاخیر مل جاتی ہے جس میں وہ اگر چاہے اس دوسرے گھر کے لیے تیاریاں کر سکتا ہے بس اپنی بےعلمی کی بناء پر تمہیں اس کا انکار نہ کرنا چاہیے۔
«إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا وَنَرَاهُ قَرِيبًا» ۱؎ [70-المعارج:6،7] ’ تم گو اسے دور جان رہے ہو لیکن دراصل وہ قریب ہی ہے ‘، تم گو اس کا آنا محال سمجھ رہے ہو لیکن فی الواقع اس کا آنا یقینی ہے، مومن باعلم اور ذی عقل ہیں کہ وہ اس پر یقین کامل رکھ کر عمل میں لگے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اپنا پیدا کیا جانا اور مر جانا تو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہو کہ تم کچھ نہ تھے اور اس نے تمہیں موجود کر دیا پھر وہ تمہیں مار ڈالتا ہے ‘، «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم27] ’ تو جو ابتداءً پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ جی اٹھانے پر قادر کیسے نہ ہو گا؟ ‘۔ بلکہ عقلًا ہدایت (واضح طور پر) کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ جو شروع شروع کسی چیز کو بنا دے اس پر دوبارہ اس کا بنانا بہ نسبت پہلی دفعہ کے بہت آسان ہوتا ہے۔
پس یہاں فرمایا کہ پھر وہ تمہیں قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا۔ وہ دنیا میں تمہیں دوبارہ لانے کا نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر لاؤ۔ یہ تو دارعمل ہے، دارجزا قیامت کا دن ہے، یہاں تو ہر ایک کو تھوڑی بہت تاخیر مل جاتی ہے جس میں وہ اگر چاہے اس دوسرے گھر کے لیے تیاریاں کر سکتا ہے بس اپنی بےعلمی کی بناء پر تمہیں اس کا انکار نہ کرنا چاہیے۔
«إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا وَنَرَاهُ قَرِيبًا» ۱؎ [70-المعارج:6،7] ’ تم گو اسے دور جان رہے ہو لیکن دراصل وہ قریب ہی ہے ‘، تم گو اس کا آنا محال سمجھ رہے ہو لیکن فی الواقع اس کا آنا یقینی ہے، مومن باعلم اور ذی عقل ہیں کہ وہ اس پر یقین کامل رکھ کر عمل میں لگے ہوئے ہیں۔