وَ قَالُوۡا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَ نَحۡیَا وَ مَا یُہۡلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہۡرُ ۚ وَ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ۚ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿۲۴﴾
اور انھوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی(زندگی) نہیں، ہم (یہیں) جیتے اور مرتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا، حالا نکہ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، وہ محض گمان کر رہے ہیں۔
En
اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے۔ اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ صرف ظن سے کام لیتے ہیں
En
کیا اب بھی تم نصیحت نہیں پکڑتے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے، (دراصل) انہیں اس کا کچھ علم ہی نہیں۔ یہ تو صرف (قیاس اور) اٹکل سے ہی کام لے رہے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 24) ➊ {وَ قَالُوْا مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَ نَحْيَا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون (۳۷) یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ {” نَحْيَا وَ نَمُوْتُ“} (ہم جیتے ہیں اور مرتے ہیں) یہ کیوں کہا: { «نَمُوْتُ وَ نَحْيَا» } ”ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں؟“ اس کا جواب کئی طرح سے ہے، ایک تویہ کہ ”واؤ“ میں ترتیب ضروری نہیں ہوتی اور یہاں ان کی بات نقل کرتے ہوئے کلام کے حسن کے لیے ایسا کیا گیا ہے، کیونکہ {” مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا “} کے بعد {” نَمُوْتُ وَ نَحْيَا “} کے جملے میں جو حسن اور موافقت ہے وہ {”نَحْيَا وَ نَمُوْتُ“} میں نہیں۔ دوسرا جواب یہ کہ {” نَمُوْتُ وَ نَحْيَا “} کا مطلب یہ ہے کہ ہم مر جاتے ہیں اور ہماری اولادیں رہتی ہیں، یا ہم میں سے کچھ مر جاتے ہیں کچھ جیتے رہتے ہیں اور تیسرا جواب یہ کہ {” نَمُوْتُ “} کا مطلب ہے کہ پہلے ہم عدم اور موت کی حالت میں ہوتے ہیں اور {” نَحْيَا “} کا مطلب ہے کہ پھر ہم دنیا کی حیات کی حالت میں آ جاتے ہیں، سو زندگی ہے تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے، اس کے بعد اور کوئی زندگی نہیں۔
➋ { وَ مَا يُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ:} ان کی اس بات سے ظاہر ہے کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ انھیں ہلاک کرنے والا کوئی ہے اور ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے، کیونکہ وہی پوری کائنات کا خالق و مالک اور مدبر ہے، مگر چونکہ ان کی بے قید خواہشات کی راہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے سامنے پیش ہونے کا عقیدہ زبردست رکاوٹ ہے، اس لیے انھوں نے آخرت کی زندگی ہی کا انکار کر دیا اور یہ ماننے کے بجائے کہ موت و حیات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، وہ جب چاہے پہلے کی طرح انھیں دوبارہ زندہ کر سکتا ہے اور کرے گا، یہ کہہ دیا کہ زمانے کے سوا کوئی نہیں جو ہمیں ہلاک کرے، بس یہ دن رات کی گردش ہی ہے جو ہمیں فنا کر دیتی ہے۔ درحقیقت یہ ان کا اپنے آپ کو فریب دینا ہے، کیونکہ زمانہ اور دن رات کی گردش اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتے، ان کی ڈور تو ایک مالک کے ہاتھ میں ہے جو اللہ تعالیٰ ہے، جس کا نام وہ نہیں لینا چاہتے، اس کے بجائے زمانے کا نام لیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ہمارے زمانے کے ملحد مسلمان ہیں جو خود بدکردار ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی حدود کو وحشیانہ سزائیں قرار دیتے ہیں، مگر کھل کر یہ کہہ نہیں سکتے، اس لیے مولوی کو گالی دیتے ہیں کہ مولوی لوگوں کو وحشیانہ سزائیں دلانا چاہتے ہیں، چوروں کے ہاتھ کٹوانا، زانی کو درّے مروانا اور قاتل کو قتل کروانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ بے چارے مولوی کا اس میں کیا قصور ہے؟ اس نے تو وہ حکم سنایا جو اس کے مالک نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے۔ اسی طرح وہ مشرک اپنی ہلاکت اور فنا کا باعث زمانے کو قرار دے رہے ہیں، حالانکہ بے چارہ زمانہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانے کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِيْنِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الْأَمْرُ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ] [بخاري، التفسیر، سورۃ الجاثیۃ: ۴۸۲۶] ”اللہ عز و جل نے فرمایا، ابنِ آدم مجھے ایذا دیتا ہے، وہ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہوں، تمام معاملہ میرے ہاتھ میں ہے، دن رات کو الٹ پلٹ میں کرتا ہوں۔“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ الدَّهْرُ] [مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النھي عن سب الدھر: 2246/5] ”زمانے کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِيْنِي ابْنُ آدَمَ، يَقُوْلُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ! فَلَا يَقُوْلَنَّ أَحَدُكُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ! فَإِنِّيْ أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا] [مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النھي عن سب الدھر: 2246/5] ”اللہ عز و جل نے فرمایا، ابنِ آدم مجھے ایذا دیتا ہے۔ کہتا ہے، ہائے زمانے کی ناکامی! سو تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ ہائے زمانے کی ناکامی! کیونکہ میں ہی تو زمانہ ہوں۔ اس کے رات دن کو الٹ پلٹ میں کرتا ہوں، پھر جب چاہوں گا دونوں کو قبض کر لوں گا۔“
ابنِ کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”شافعی، ابوعبیدہ اور کئی اور ائمہ رحمہم اللہ نے {”لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ الدَّهْرُ“} (زمانے کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے) کی تفسیر میں فرمایا: ”عرب اپنی جاہلیت میں جب انھیں کوئی شدت یا بلا یا تکلیف پہنچتی تو کہتے تھے: {” يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ!“} (ہائے زمانے کی ناکامی!) چنانچہ وہ ان کاموں کو زمانے کی طرف منسوب کرتے اور اسے برا بھلا کہتے، حالانکہ وہ سب کام کرنے والا تو اللہ تعالیٰ تھا، تو گویا انھوں نے اللہ تعالیٰ ہی کو برا بھلا کہا، کیونکہ حقیقی فاعل وہی ہے۔ اس لیے اس اعتبار سے زمانے کو برا بھلا کہنے سے منع فرما دیا، کیونکہ وہ جسے مراد لے رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہے۔“ اس کی یہ شرح سب سے اچھی ہے اور یہی مراد ہے۔ (واللہ اعلم) اور ابن حزم اور ان کے طریقے پر چلتے ہوئے جن لوگوں نے اس حدیث کو لے کر اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے {” اَلدَّهْرُ “} (زمانہ) کو شمار کیا ہے انھوں نے غلطی کی ہے۔“ (ابن کثیر)
➌ { وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ هُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ:} یعنی وہ یہ بات کہ ”اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں“ اور یہ کہ ”انسان کو فوت کرنے والا اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ زمانہ ہی اسے ہلاک کر تا ہے“ کسی علم کی بنا پر نہیں کہہ رہے، بلکہ صرف گمان کی بنا پر کہہ رہے ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ”ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں اور ہم نہیں جانتے کہ روح کیسے نکلتی ہے اور ہمیں کون ہلاک کرتا ہے۔“ کیونکہ جب وہ آئندہ ہونے والی کسی بات کا علم ہی نہیں رکھتے تو وہ یہ بات یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ دراصل ان کی خواہش یہ ہے کہ نہ موت کے بعد کوئی زندگی ہو اور نہ ان سے کوئی پوچھنے والا ہو کہ تم نے کیا کیا، تاکہ وہ اپنی من مانی کرتے رہیں۔ اس طرح انھوں نے اپنی خواہش نفس ہی کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور جانتے بوجھتے ہوئے اپنے مالک سے اور قیامت کے دن کی باز پرس سے آنکھیں اور کان بند کر رکھے ہیں۔
➋ { وَ مَا يُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ:} ان کی اس بات سے ظاہر ہے کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ انھیں ہلاک کرنے والا کوئی ہے اور ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے، کیونکہ وہی پوری کائنات کا خالق و مالک اور مدبر ہے، مگر چونکہ ان کی بے قید خواہشات کی راہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے سامنے پیش ہونے کا عقیدہ زبردست رکاوٹ ہے، اس لیے انھوں نے آخرت کی زندگی ہی کا انکار کر دیا اور یہ ماننے کے بجائے کہ موت و حیات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، وہ جب چاہے پہلے کی طرح انھیں دوبارہ زندہ کر سکتا ہے اور کرے گا، یہ کہہ دیا کہ زمانے کے سوا کوئی نہیں جو ہمیں ہلاک کرے، بس یہ دن رات کی گردش ہی ہے جو ہمیں فنا کر دیتی ہے۔ درحقیقت یہ ان کا اپنے آپ کو فریب دینا ہے، کیونکہ زمانہ اور دن رات کی گردش اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتے، ان کی ڈور تو ایک مالک کے ہاتھ میں ہے جو اللہ تعالیٰ ہے، جس کا نام وہ نہیں لینا چاہتے، اس کے بجائے زمانے کا نام لیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ہمارے زمانے کے ملحد مسلمان ہیں جو خود بدکردار ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی حدود کو وحشیانہ سزائیں قرار دیتے ہیں، مگر کھل کر یہ کہہ نہیں سکتے، اس لیے مولوی کو گالی دیتے ہیں کہ مولوی لوگوں کو وحشیانہ سزائیں دلانا چاہتے ہیں، چوروں کے ہاتھ کٹوانا، زانی کو درّے مروانا اور قاتل کو قتل کروانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ بے چارے مولوی کا اس میں کیا قصور ہے؟ اس نے تو وہ حکم سنایا جو اس کے مالک نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے۔ اسی طرح وہ مشرک اپنی ہلاکت اور فنا کا باعث زمانے کو قرار دے رہے ہیں، حالانکہ بے چارہ زمانہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانے کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِيْنِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الْأَمْرُ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ] [بخاري، التفسیر، سورۃ الجاثیۃ: ۴۸۲۶] ”اللہ عز و جل نے فرمایا، ابنِ آدم مجھے ایذا دیتا ہے، وہ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہوں، تمام معاملہ میرے ہاتھ میں ہے، دن رات کو الٹ پلٹ میں کرتا ہوں۔“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ الدَّهْرُ] [مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النھي عن سب الدھر: 2246/5] ”زمانے کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِيْنِي ابْنُ آدَمَ، يَقُوْلُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ! فَلَا يَقُوْلَنَّ أَحَدُكُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ! فَإِنِّيْ أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا] [مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النھي عن سب الدھر: 2246/5] ”اللہ عز و جل نے فرمایا، ابنِ آدم مجھے ایذا دیتا ہے۔ کہتا ہے، ہائے زمانے کی ناکامی! سو تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ ہائے زمانے کی ناکامی! کیونکہ میں ہی تو زمانہ ہوں۔ اس کے رات دن کو الٹ پلٹ میں کرتا ہوں، پھر جب چاہوں گا دونوں کو قبض کر لوں گا۔“
ابنِ کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”شافعی، ابوعبیدہ اور کئی اور ائمہ رحمہم اللہ نے {”لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ الدَّهْرُ“} (زمانے کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے) کی تفسیر میں فرمایا: ”عرب اپنی جاہلیت میں جب انھیں کوئی شدت یا بلا یا تکلیف پہنچتی تو کہتے تھے: {” يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ!“} (ہائے زمانے کی ناکامی!) چنانچہ وہ ان کاموں کو زمانے کی طرف منسوب کرتے اور اسے برا بھلا کہتے، حالانکہ وہ سب کام کرنے والا تو اللہ تعالیٰ تھا، تو گویا انھوں نے اللہ تعالیٰ ہی کو برا بھلا کہا، کیونکہ حقیقی فاعل وہی ہے۔ اس لیے اس اعتبار سے زمانے کو برا بھلا کہنے سے منع فرما دیا، کیونکہ وہ جسے مراد لے رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہے۔“ اس کی یہ شرح سب سے اچھی ہے اور یہی مراد ہے۔ (واللہ اعلم) اور ابن حزم اور ان کے طریقے پر چلتے ہوئے جن لوگوں نے اس حدیث کو لے کر اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے {” اَلدَّهْرُ “} (زمانہ) کو شمار کیا ہے انھوں نے غلطی کی ہے۔“ (ابن کثیر)
➌ { وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ هُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ:} یعنی وہ یہ بات کہ ”اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں“ اور یہ کہ ”انسان کو فوت کرنے والا اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ زمانہ ہی اسے ہلاک کر تا ہے“ کسی علم کی بنا پر نہیں کہہ رہے، بلکہ صرف گمان کی بنا پر کہہ رہے ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ”ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں اور ہم نہیں جانتے کہ روح کیسے نکلتی ہے اور ہمیں کون ہلاک کرتا ہے۔“ کیونکہ جب وہ آئندہ ہونے والی کسی بات کا علم ہی نہیں رکھتے تو وہ یہ بات یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ دراصل ان کی خواہش یہ ہے کہ نہ موت کے بعد کوئی زندگی ہو اور نہ ان سے کوئی پوچھنے والا ہو کہ تم نے کیا کیا، تاکہ وہ اپنی من مانی کرتے رہیں۔ اس طرح انھوں نے اپنی خواہش نفس ہی کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور جانتے بوجھتے ہوئے اپنے مالک سے اور قیامت کے دن کی باز پرس سے آنکھیں اور کان بند کر رکھے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
24۔ 1 یہ دہریہ اور ان کے ہم نوا مشرکین مکہ کا قول ہے جو آخرت کے منکر تھے وہ کہتے تھے کہ بس یہ دنیا کی زندگی ہی پہلی اور آخری زندگی ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں اور اس میں موت وحیات کا سلسلہ، محض زمانے کی گردش کا نتیجہ ہے، جیسے فلاسفر کا ایک گروہ کہتا ہے چھتیس ہزار سال کے بعد ہر چیز دوبارہ اپنی حالت لوٹ آتی ہے اور یہ سلسلہ، بغیر کسی سانح اور مدبر کے، یوں ہی چل رہا ہے اور چلتا رہے گا نہ اس کی کوئی ابتداء ہے نہ انتہاء۔ یہ گروہ دوریہ کہلاتا ہے (ابن کثیر) ظاہر بات ہے یہ نظریہ، اسے عقل بھی قبول نہیں کرتی اور نقل کے بھی خلاف ہے، حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ' ابن آدم مجھے ایذاء پہنچاتا ہے۔ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے (یعنی اس کی طرف افعال کی نسبت کرکے، اسے برا کہتا ہے، حالانکہ (زمانہ بجائے خود کوئی چیز نہیں) میں خود زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام اختیارات ہیں، رات دن بھی میں ہی پھیرتا ہوں ' (البخاری)۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ یہ لوگ کہتے ہیں۔ ”یہ بس ہماری دنیا ہی زندگی ہے۔ یہاں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی [35] ہمیں ہلاک کرتا ہے“ حالانکہ ان باتوں کا انہیں کچھ علم نہیں وہ محض گمان [36] سے یہ باتیں کرتے ہیں۔
[35] فلسفہ دہریت اور اس کا رد :۔
ان لوگوں کا فلسفہ یہ ہے کہ یہ کائنات ایک اتھاہ سمندر ہے۔ جس میں ہر وقت لہریں اٹھتی ہیں پھر اسی سمندر میں مدغم ہو جاتی ہیں۔ حباب اٹھتے ہیں تو وہ پھر اسی میں جذب ہو جاتے ہیں۔ یہی صورت حال اس دنیا میں واقعات و حوادث کی ہے اور ہماری مثال بس ایک حباب یا بلبلہ کی ہے جو پیدا ہوتا پھر اسی سمندر میں گم ہو جاتا ہے۔ ہم پیدا ہوتے ہیں پھر مر کر اسی میں مل جاتے ہیں۔ یہ زمانے کے حوادث ہیں کہ ہم پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ کائنات اسی طرح چل رہی ہے اور چلتی رہے گی۔ جس میں کسی کے مر کر دوبارہ جینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
[36] آخرت سے انکار کی بنیاد محض وہم و قیاس ہے جس پر کوئی علمی دلیل پیش نہیں کی جا سکتی :۔
اس فلسفہ سے نتیجہ اخذ کرنے میں غلطی آپ سے آپ ظاہر ہے۔ سمندر میں ایک موج اٹھی پھر اسی میں گم ہو گئی پھر اسی سمندر سے موج اٹھی گویا اگر سمندر سے دوبارہ بھی موج اٹھ سکتی ہے تو مٹی سے پیدا ہو کر انسان مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ اسی مٹی سے کیوں پیدا نہیں ہو سکتا؟ نیز مرنے کے بعد کے حالات سے متعلق اگر کچھ انسانی علم کی بنا پر کہا جا سکتا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ ”ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی ہے یا نہیں“ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ”مرنے کے بعد دوسری زندگی نہیں ہے“ انسان کے پاس تحقیق کا کوئی ذریعہ ایسا نہیں جس سے وہ دعویٰ کے طور پر کہہ سکے کہ ”مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں“ پھر یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ مرنے کے بعد روح کہاں جاتی ہے؟ ظاہر ہے کہ وہ تو نہیں مرتی کیونکہ روح کے متعلق سب لوگوں کا ایسا ہی عقیدہ رہا ہے۔ انسان کی موت کوئی ایسا حادثہ تو نہیں جیسے ایک گھڑی چلتے چلتے رک جائے۔ ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ظن غالب بھی دوبارہ زندہ ہونے کی طرف ہی ہے۔ مر کر بالکل فنا ہو جانے کی طرف نہیں۔ اور یہ لوگ جو دوبارہ زندگی کا انکار کرتے ہیں تو یہ بات کسی علم کی بنا پر نہیں کہتے بلکہ ان کا دل یہ نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہو۔ جس میں ان سے ان کے برے اعمال کی باز پرس ہو لہٰذا وہ اس کا سرے سے انکار کر دینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ اور یہ محض ان کا وہم و گمان ہی ہوتا ہے۔ کوئی علمی دلیل اس پر وہ کبھی پیش نہیں کر سکتے۔
دہریوں کی فریب خوردگی دہر تو اللہ ہے :۔
دہریہ لوگ دراصل فریب خوردگی میں مبتلا ہوتے ہیں اور اسی میں مبتلا رہنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”ہمیں زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔“ حالانکہ زمانہ تو گردش لیل و نہار کا ہی دوسرا نام ہے۔ جس میں نہ حس ہے نہ شعور، نہ تصرف نہ اختیار پھر وہ ہمیں ہلاک کیسے کرتا ہے؟ لامحالہ ان کے ذہن میں کوئی اور چیز ہوتی ہے جو حس شعور، تصرف اور اختیار رکھتی ہو مگر وہ اس کا نام نہیں لینا چاہتے اور اس کے بجائے زمانہ کا نام لے لیتے ہیں اور جس چیز کا وہ نام نہیں لینا چاہتے وہ اللہ ہے۔ جس کا وجود اور علی الاطلاق تصرف واضح دلائل سے ثابت ہے اور زمانہ کا الٹ پھیر اور گردش لیل ونہار بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ: ”ابن آدم مجھے دکھ پہنچاتا ہے جب وہ دہر (زمانہ) کو گالی دیتا ہے۔ حالانکہ دہر میں خود ہوں۔ تمام معاملات میرے ہی ہاتھ میں ہیں۔ میں ہی رات اور دن پھیر کر لاتا ہوں“ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ الجاثیہ۔ زیر آیت مذکورہ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
زمانے کو گالی مت دو ٭٭
دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں۔
فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دھریہ اور دوریہ تھے وہ خالق کے بھی منکر تھے ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آ جاتی ہے اور ایسے کئی دور کے وہ قائل تھے دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی ہے نہ کہ اللہ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے ‘۔
ابوداؤد وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ دہر کو (یعنی زمانے کو) گالیاں دیتا ہے دراصل زمانہ میں ہی ہوں تمام کام میرے ہاتھ ہیں دن رات کا ہیر پھیر کرتا ہوں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4826]
ایک روایت میں ہے { دہر (زمانہ) کو گالی نہ دو اللہ ہی زمانہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/5:صحیح]
ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے ایک بالکل غریب سند سے وارد کیا ہے اس میں ہے { اہل جاہلیت کا خیال تھا کہ ہمیں دن رات ہی ہلاک کرتے ہیں، وہی ہمیں مارتے جلاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں اسے نقل فرمایا ’ وہ زمانے کو برا کہتے تھے ‘،پس اللہ عزوجل نے فرمایا ’ مجھے ابن آدم ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں سب کام ہیں میں دن رات کا لے آنے لے جانے والا ہوں ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:264/11]
فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دھریہ اور دوریہ تھے وہ خالق کے بھی منکر تھے ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آ جاتی ہے اور ایسے کئی دور کے وہ قائل تھے دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی ہے نہ کہ اللہ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے ‘۔
ابوداؤد وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ دہر کو (یعنی زمانے کو) گالیاں دیتا ہے دراصل زمانہ میں ہی ہوں تمام کام میرے ہاتھ ہیں دن رات کا ہیر پھیر کرتا ہوں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4826]
ایک روایت میں ہے { دہر (زمانہ) کو گالی نہ دو اللہ ہی زمانہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:299/5:صحیح]
ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے ایک بالکل غریب سند سے وارد کیا ہے اس میں ہے { اہل جاہلیت کا خیال تھا کہ ہمیں دن رات ہی ہلاک کرتے ہیں، وہی ہمیں مارتے جلاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں اسے نقل فرمایا ’ وہ زمانے کو برا کہتے تھے ‘،پس اللہ عزوجل نے فرمایا ’ مجھے ابن آدم ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں سب کام ہیں میں دن رات کا لے آنے لے جانے والا ہوں ‘ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:264/11]
ابن ابی حاتم میں ہے { ابن آدم زمانے کو گالیاں دیتا ہے، میں زمانہ ہوں، دن رات میرے ہاتھ میں ہیں }۔ اور حدیث میں ہے { میں نے اپنے بندے سے قرض طلب کیا اس نے مجھے نہ دیا، مجھے میرے بندے گالیاں دیں، وہ کہتا ہے ہائے ہائے زمانہ اور زمانہ میں ہوں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:92/25:]
امام شافعی اور ابوعبیدہ رحمہا اللہ وغیرہ ائمہ لغت و تفسیر اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ”جاہلیت کے عربوں کو جب کوئی بلا اور شدت و تکلیف پہنچتی تو وہ اسے زمانے کی طرف نسبت کرتے اور زمانے کو برا کہتے دراصل زمانہ خود تو کچھ کرتا نہیں ہر کام کا کرتا دھرتا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے اس کا زمانے کو گالی دینا فی الواقع اسے برا کہنا تھا جس کی ہاتھ میں اور جس کے بس میں زمانہ ہے جو راحت و رنج کا مالک ہے اور وہ ذات باری تعالیٰ «عزاسمہ» ہے۔
پس وہ گالی حقیقی فاعل یعنی اللہ تعالیٰ پر پڑتی ہے اس لیے اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اور لوگوں کو اس سے روک دیا“ یہی شرح بہت ٹھیک اور بالکل درست ہے۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ وغیرہ نے اس حدیث سے جو یہ سمجھ لیا ہے کہ «دھر» اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام ہے یہ بالکل غلط ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام شافعی اور ابوعبیدہ رحمہا اللہ وغیرہ ائمہ لغت و تفسیر اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ”جاہلیت کے عربوں کو جب کوئی بلا اور شدت و تکلیف پہنچتی تو وہ اسے زمانے کی طرف نسبت کرتے اور زمانے کو برا کہتے دراصل زمانہ خود تو کچھ کرتا نہیں ہر کام کا کرتا دھرتا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے اس کا زمانے کو گالی دینا فی الواقع اسے برا کہنا تھا جس کی ہاتھ میں اور جس کے بس میں زمانہ ہے جو راحت و رنج کا مالک ہے اور وہ ذات باری تعالیٰ «عزاسمہ» ہے۔
پس وہ گالی حقیقی فاعل یعنی اللہ تعالیٰ پر پڑتی ہے اس لیے اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اور لوگوں کو اس سے روک دیا“ یہی شرح بہت ٹھیک اور بالکل درست ہے۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ وغیرہ نے اس حدیث سے جو یہ سمجھ لیا ہے کہ «دھر» اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام ہے یہ بالکل غلط ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر ان بےعلموں کی کج بخشی بیان ہو رہی ہے کہ قیامت قائم ہونے کی اور دوبارہ جلائے جانے کی بالکل صاف دلیلیں جب انہیں دی جاتی ہیں اور قائل معقول کر دیا جاتا ہے تو چونکہ جب کچھ بن نہیں پڑتا جھٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ اچھا پھر ہمارے مردہ باپ دادوں پردادوں کو زندہ کر کے ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اپنا پیدا کیا جانا اور مر جانا تو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہو کہ تم کچھ نہ تھے اور اس نے تمہیں موجود کر دیا پھر وہ تمہیں مار ڈالتا ہے ‘، «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم27] ’ تو جو ابتداءً پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ جی اٹھانے پر قادر کیسے نہ ہو گا؟ ‘۔ بلکہ عقلًا ہدایت (واضح طور پر) کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ جو شروع شروع کسی چیز کو بنا دے اس پر دوبارہ اس کا بنانا بہ نسبت پہلی دفعہ کے بہت آسان ہوتا ہے۔
پس یہاں فرمایا کہ پھر وہ تمہیں قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا۔ وہ دنیا میں تمہیں دوبارہ لانے کا نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر لاؤ۔ یہ تو دارعمل ہے، دارجزا قیامت کا دن ہے، یہاں تو ہر ایک کو تھوڑی بہت تاخیر مل جاتی ہے جس میں وہ اگر چاہے اس دوسرے گھر کے لیے تیاریاں کر سکتا ہے بس اپنی بےعلمی کی بناء پر تمہیں اس کا انکار نہ کرنا چاہیے۔
«إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا وَنَرَاهُ قَرِيبًا» ۱؎ [70-المعارج:6،7] ’ تم گو اسے دور جان رہے ہو لیکن دراصل وہ قریب ہی ہے ‘، تم گو اس کا آنا محال سمجھ رہے ہو لیکن فی الواقع اس کا آنا یقینی ہے، مومن باعلم اور ذی عقل ہیں کہ وہ اس پر یقین کامل رکھ کر عمل میں لگے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اپنا پیدا کیا جانا اور مر جانا تو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہو کہ تم کچھ نہ تھے اور اس نے تمہیں موجود کر دیا پھر وہ تمہیں مار ڈالتا ہے ‘، «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم27] ’ تو جو ابتداءً پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ جی اٹھانے پر قادر کیسے نہ ہو گا؟ ‘۔ بلکہ عقلًا ہدایت (واضح طور پر) کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ جو شروع شروع کسی چیز کو بنا دے اس پر دوبارہ اس کا بنانا بہ نسبت پہلی دفعہ کے بہت آسان ہوتا ہے۔
پس یہاں فرمایا کہ پھر وہ تمہیں قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا۔ وہ دنیا میں تمہیں دوبارہ لانے کا نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر لاؤ۔ یہ تو دارعمل ہے، دارجزا قیامت کا دن ہے، یہاں تو ہر ایک کو تھوڑی بہت تاخیر مل جاتی ہے جس میں وہ اگر چاہے اس دوسرے گھر کے لیے تیاریاں کر سکتا ہے بس اپنی بےعلمی کی بناء پر تمہیں اس کا انکار نہ کرنا چاہیے۔
«إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا وَنَرَاهُ قَرِيبًا» ۱؎ [70-المعارج:6،7] ’ تم گو اسے دور جان رہے ہو لیکن دراصل وہ قریب ہی ہے ‘، تم گو اس کا آنا محال سمجھ رہے ہو لیکن فی الواقع اس کا آنا یقینی ہے، مومن باعلم اور ذی عقل ہیں کہ وہ اس پر یقین کامل رکھ کر عمل میں لگے ہوئے ہیں۔