ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 22

وَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَ لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۲﴾
اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ En
اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
En
اور آسمانوں اور زمین کو اللہ نے بہت ہی عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کام کا پورا بدلہ دیا جائے اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22){ وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ …:} یہ آخرت کے حق ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ص (۲۷) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حقیقی مصلحت کے تحت [32] پیدا کیا ہے اور اس لئے بھی کہ ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
[32] آخرت پر دوسری عقلی دلیل اللہ کی حکمتیں اور ان کا تقاضا کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی گئی :۔
یہ معاد یا عالم آخرت کے قیام پر دوسری دلیل ہے اور یہ اللہ کی صفت حکیم ہونے کے تقاضا کے مطابق ہے۔ یعنی اللہ کا کوئی کام بھی حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ پھر کیا یہ سارا کارخانہ کائنات حکمت سے خالی ہو سکتا ہے۔ جس کی ایک ایک چیز انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے اور انسان ہر چیز سے فائدہ بھی اٹھا رہا ہے۔ اب اگر انسان اچھے یا برے اعمال، جیسے بھی اس سے بن پڑیں اس دنیا میں کر کے مر جاتا ہے اور اس سے کچھ بھی مؤاخذہ نہیں کیا جاتا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کائنات کو پیدا کرنا، پھر اس کائنات کی چیزوں سے انسان کو فائدہ اٹھانے کا موقعہ دینا سب کچھ بے سود، عبث اور ایک بے نتیجہ کھیل تھا۔ اور ایسا کام کرنا اللہ کی حکمت کے سراسر منافی ہے۔ لہٰذا لازمی ہے کہ اس دنیا کا نتیجہ ایک دوسرے عالم کی صورت میں نکلے جس میں ہر طرح کے انسانوں کا پورا پورا محاسبہ کیا جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اصل دین چار چیزیں ہیں ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مومن و کافر برابر نہیں، جیسے اور آیت میں ہے کہ «لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [59-الحشر:20]‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں جنتی کامیاب ہیں ‘۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کفر و برائی والے اور ایمان و اچھائی والے موت و زیست میں دنیا و آخرت میں برابر ہو جائیں۔ یہ تو ہماری ذات اور ہماری صفت عدل کے ساتھ پرلے درجے کی بدگمانی ہے۔
مسند ابو یعلیٰ میں ہے { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چار چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنا رکھی ہے، جو ان سے ہٹ جائے اور ان پر عامل نہ بنے وہ اللہ سے فاسق ہو کر ملاقات کرے گا۔‏‏‏‏ پوچھا گیا کہ وہ چاروں چیزیں کیا ہیں؟ فرمایا: یہ کہ کامل عقیدہ رکھے کہ حلال، حرام، حکم اور ممانعت یہ چاروں صرف اللہ کی اختیار میں ہیں، اس کے حلال کو حلال، اس کے حرام بتائے ہوئے کو حرام ماننا، اس کے حکموں کو قابل تعمیل اور لائق تسلیم جاننا، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے باز آ جانا اور حلال حرام امر و نہی کا مالک صرف اسی کو جاننا بس یہ دین کی اصل ہے۔ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس طرح ببول کے درخت سے انگور پیدا نہیں ہو سکتے اسی طرح بدکار لوگ نیک کاروں کا درجہ حاصل نہیں کر سکتے }۔ ۱؎ [المجروحین:41/3:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے۔
سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ { کعبتہ اللہ کی نیو میں سے ایک پتھر نکلا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہوئے نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی خاردار درخت میں سے انگور چننا چاہتا ہو }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:196/1]‏‏‏‏ طبرانی میں ہے کہ { سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ رات بھر تہجد میں اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی }۔
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ہر ایک شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے گا اور کسی پر اس کی طرف سے ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے کہ تم نے انہیں بھی دیکھا جو اپنی خواہشوں کو رب بنائے ہوئے ہیں۔ جس کام کی طرف طبیعت جھکی کر ڈالا، جس سے دل رکا چھوڑ دیا۔ یہ آیت معتزلہ کے اس اصول کو رد کرتی ہے کہ اچھائی برائی عقلی ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس کے دل میں جس کی عبادت کا خیال گزرتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہے، اس کے بعد کے جملے کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بناء پر اسے مستحق گمراہی جان کر گمراہ کر دیا دوسرا معنی یہ کہ اس کے پاس علم و حجت دلیل و سند آ گئی پھر اسے گمراہ کیا۔‏‏‏‏
یہ دوسری بات پہلی کو بھی مستلزم ہے اور پہلی دوسری کو مستلزم نہیں۔ اس کے کانوں پر مہر ہے، نفع دینے والی شرعی بات سنتا ہی نہیں۔ اس کے دل پر مہر ہے، ہدایت کی بات دل میں اترتی ہی نہیں، اس کی آنکھوں پر پردہ ہے کوئی دلیل اسے دکھتی ہی نہیں، بھلا اب اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے؟ کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے؟ جیسے فرمایا «مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:186]‏‏‏‏ یعنی ’ جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ انہیں چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں ‘۔