ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 18

ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ فَاتَّبِعۡہَا وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸﴾
پھر ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے۔ En
پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر (قائم) کر دیا تو اسی (رستے) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا
En
پھر ہم نے آپ کو دین کی (ﻇاہر) راه پر قائم کردیا، سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ { ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ: شَرِيْعَةٍ } کا معنی صاف راستہ اور واضح طریقہ ہے۔ { الْاَمْرِ } سے مراد امرِ دین ہے۔ یعنی بنی اسرائیل جب اپنی سرکشی، ضد اور عناد کی وجہ سے دین کے واضح احکام پر قائم نہ رہے بلکہ بہت سے گمراہ فرقوں میں بٹ گئے اور واضح اور صحیح دین کی دعوت دینے والوں سے عداوت اور گمراہی میں اس حد تک بڑھ گئے کہ انھوں نے مسیح علیہ السلام جیسے برگزیدہ پیغمبر کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہ کیا، بلکہ اپنے گمان میں انھیں صلیب پر چڑھا کر دم لیا۔ جب وہ سرکشی کی اس حد تک آ پہنچے تو اس فضیلت سے محروم کر دیے گئے جو انھیں دنیا کی امامت کی صورت میں حاصل تھی۔ پھر اے محمد! ہم نے تجھے اس امر (یعنی دین) کے واضح راستے اور طریقے پر لگا دیا اور وہ خدمت جو پہلے پیغمبروں کے سپرد تھی وہ آپ کے سپرد کر دی۔
➋ { فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ:} اس لیے آپ ہمارے مقرر کر دہ طریقے پر چلیں اور ہمارے نازل کردہ احکام کی پیروی کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں جو نہیں جانتے، یعنی وحی الٰہی کا علم نہیں رکھتے، یا علم کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتے، کیونکہ وہ بھی انھی لوگوں میں شامل ہیں جو نہیں جانتے۔ ان سے مراد اہلِ کتاب اور مشرکینِ عرب ہیں۔ صرف اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کی تاکید اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمائی ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۴۸ تا ۵۰) اور سورۂ اعراف (۳)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 شریعت کے لغوی معنی ہیں، ملت اور منہاج۔ شاہراہ کو بھی شارع کہا جاتا ہے کہ وہ مقصد اور منزل تک پہنچاتی ہے پس شریعت سے مراد، وہ دین ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے تاکہ لوگ اس پر چل کر اللہ کی رضا کا مقصد حاصل کرلیں۔ آیت کا مطلب ہے ہم نے آپ کو دین کے ایک واضح راستے یا طریقے پر قائم کردیا ہے جو آپ کو حق تک پہنچا دے گا۔ 18۔ 2 جو اللہ کی توحید اور اس کی شریعت سے ناواقف ہیں۔ مراد کفار مکہ اور ان کے ساتھی ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ پھر ہم نے آپ کے لئے دین [25] کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔ آپ بس اس کی پیروی کیجئے اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے جو علم نہیں رکھتے
[25] بنی اسرائیل سے امت محمدیہ کو اقامت دین کی پیشوائی :۔
اس آیت میں امر سے مراد اقامت دین ہے۔ یعنی اے نبی! ہم نے پہلے اہل عالم کی رہنمائی کے لیے بنی اسرائیل کو اقامت دین کا علمبردار بنایا تھا۔ وہ آپس میں ہی کئی فرقوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے۔ اس حال میں وہ اقامت دین کا فریضہ کیا سرانجام دے سکتے تھے۔ بلکہ اس قابل ہی نہ رہ گئے تھے۔ اب ہم نے آپ کو اقامت دین کی پیشوائی کے منصب پر سرفراز فرمایا ہے۔ اور جو تمہیں شریعت دی جا رہی ہے اس میں اقامت دین کے لیے مکمل اور واضح ہدایات موجود ہیں۔ آپ بس ان احکام و ہدایات کے مطابق عمل کرتے جائیے۔ بنی اسرائیل کا ہر فرقہ آپ سے یہ توقع رکھے گا کہ آپ اس کے موقف کی حمایت کریں۔ آپ ان میں سے کسی کی بات نہ مانئے کیونکہ ان لوگوں نے یہ فرقے علم کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی وجہ سے بنائے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔