(آیت 59) {فَارْتَقِبْاِنَّهُمْمُّرْتَقِبُوْنَ:} یعنی اگر قرآن آسان ہونے کے باوجود یہ لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے تو آپ انتظار کیجیے کہ کب اللہ کی پکڑ ان پر آتی ہے۔ یہ لوگ بھی انتظار کر رہے ہیں کہ آپ کب زمانے کی کسی گردش میں آتے ہیں اور کب ان کی جان چھوٹتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَمْيَقُوْلُوْنَشَاعِرٌنَّتَرَبَّصُبِهٖرَيْبَالْمَنُوْنِ (30) قُلْتَرَبَّصُوْافَاِنِّيْمَعَكُمْمِّنَالْمُتَرَبِّصِيْنَ» [الطور: ۳۰، ۳۱]”یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں؟ کہہ دے انتظار کرو، پس بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
59۔ 1 تو عذاب الٰہی کا انتظار کر، اگر یہ ایمان نہ لائے۔ یہ منتظر ہیں اس بات کے کہ اسلام کے غلبہ و نفوذ سے قبل ہی شاید آپ موت سے ہمکنار ہوجائیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
59۔ سو آپ انتظار کیجئے وہ بھی انتظار کر رہے [40] ہیں۔
[40] یعنی آپ تو اس بات کے منتظر ہیں کہ کب ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کی شامت آتی ہے۔ اور وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ آپ پر کب کوئی ناگہانی افتاد پڑتی ہے۔ جو آپ کو اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دے اور کام تو وہی ہو گا جو اللہ کو منظور ہے اور اسی وقت ہو گا جب اللہ کو منظور ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔