ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 49

ذُقۡ ۚۙ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡکَرِیۡمُ ﴿۴۹﴾
چکھ، بے شک تو ہی وہ شخص ہے جو بڑا زبردست، بہت باعزت ہے۔ En
(اب) مزہ چکھ۔ تو بڑی عزت والا (اور) سردار ہے
En
(اس سے کہا جائے گا) چکھتا جا تو تو بڑا ذی عزت اور بڑے اکرام واﻻ تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) {ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ: ذُقْ ذَاقَ يَذُوْقُ ذَوْقًا} (ن) سے امر ہے، چکھو۔ یہ بات ان سے طنز اور مذاق کے طور پر کہی جائے گی، کیونکہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو ایسا ہی سمجھتے اور باور کرواتے تھے۔ جملے کی خبر { الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ } پر الف لام اور ضمیرِ فصل { اَنْتَ } سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے کہ تو ہی وہ شخص ہے جو عزیز و کریم ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49۔ 1 یعنی دنیا میں اپنے طور پر تو بڑا ذی عزت اور صاحب اکرام بنا پھرتا تھا اور اہل ایمان کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ (پھر اسے کہا جائے گا کہ اب سزا) چکھ، تو بڑا معزز اور شریف [34] بنا پھرتا تھا۔
[34] جب اہل دوزخ کی یہ گت بنائی جا رہی ہو گی تو اس وقت دوزخ کا فرشتہ ان سے مخاطب ہو کر کہے گا۔ ارے تم تو دنیا میں بڑے معزز اور شریف بنے پھرتے تھے۔ رسولوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اکڑ بیٹھے تھے اور سرکشی اور شرارتیں کیا کرتے تھے۔ اور جب تمہیں اس برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا تو رسولوں کا اور اس دن کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ کیا آج بھی تمہیں اس معاملہ میں کچھ شک باقی رہ گیا ہے؟ اس آیت کا روئے سخن دراصل ان معزز سرداران قریش کی طرف ہے جنہیں نبی کے مقابلہ میں معزز سمجھا جاتا تھا جو مظلوم مسلمانوں کو ایک کمتر درجہ کی مخلوق سمجھ کر ان کے ساتھ بیٹھنا بھی گوارا نہ کرتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔