(آیت 4) {فِيْهَايُفْرَقُكُلُّاَمْرٍحَكِيْمٍ: ”فَرْقٌ“} کا معنی فیصلہ ہے، اسی لیے قرآن کو {”فرقان“} کہا جاتا ہے۔ {”حَكِيْمٍ“} کے مفہوم میں دو باتیں شامل ہیں، ایک یہ کہ وہ حکم حکمت اور دانائی پر مبنی ہوتا ہے، اس میں کسی غلطی یا خامی کا امکان نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ وہ حکم محکم اور پختہ ہوتا ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا۔ یعنی ہم نے اسے خاص طور پر اس بابرکت رات میں اس لیے نازل کیا کہ یہ قرآن ایک امرِ حکیم ہے اور اسی رات میں ہر امرِ حکیم کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ سورۂ قدر میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: «تَنَزَّلُالْمَلٰٓىِٕكَةُوَالرُّوْحُفِيْهَابِاِذْنِرَبِّهِمْمِنْكُلِّاَمْرٍ»[القدر: ۴]”اس میں فرشتے اور روح (جبریل امین) اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق اترتے ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایسی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ آئندہ سال سے متعلق افراد و اقوام کی قسمتوں کے تمام فیصلے فرشتوں کے حوالے کر دیتے ہیں، مثلاً زندگی، موت، بیماری، رزق، عروج و زوال اور ہدایت و گمراہی وغیرہ، پھر وہ ان پر عمل درآمد کرتے رہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [إِنَّكَلَتَرَیالرَّجُلَيَمْشِيْفِيالْأَسْوَاقِ،وَقَدْوَقَعَاسْمُهُفِيالْمَوْتٰی،ثُمَّقَرَأَ: «اِنَّاۤاَنْزَلْنٰهُفِيْلَيْلَةٍمُّبٰرَكَةٍاِنَّاكُنَّامُنْذِرِيْنَ(3)فِيْهَايُفْرَقُكُلُّاَمْرٍحَكِيْمٍ»[الدخان: ۳، ۴]يَعْنِيْلَيْلَةَالْقَدْرِفَفِيْتِلْكَاللَّيْلَةِيُفْرَقُأَمْرُالدُّنْيَاإِلٰیمِثْلِهَامِنْقَابِلٍ][مستدرک حاکم، تفسیر سورۃ الدخان: 448/2، ح: ۳۶۷۸]”تم آدمی کو بازاروں میں چلتا پھرتا دیکھتے ہو، حالانکہ اس کا نام مُردوں میں درج ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی: «اِنَّاۤاَنْزَلْنٰهُفِيْلَيْلَةٍمُّبٰرَكَةٍاِنَّاكُنَّامُنْذِرِيْنَ(3)فِيْهَايُفْرَقُكُلُّاَمْرٍحَكِيْمٍ» کہ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے، اس رات میں دنیا کے معاملات کا آئندہ سال کی اسی رات تک فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔“ حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح کہا اور بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں اسے حاکم سے روایت کیا ہے اور اس کے محقق نے کہا کہ اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اس رات ہمارے حکم سے ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ کر دیا [3] جاتا ہے
[3] ﴿ليلة القدر﴾ کو کس قسم کے فیصلے ہوتے ہیں؟
یعنی جس رات قرآن کا نزول ہوا اس رات آئندہ سال میں دنیا پر واقع ہونے والے اہم امور کے نہایت ٹھوس اور پائیدار فیصلے کر کے فرشتوں کے حوالہ کر دیئے جاتے ہیں۔ اور یہ فیصلے سراسر حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور اسی مضمون کو سورۃ القدر میں یوں بیان فرمایا کہ ”اس رات ملائکہ اور جبرئیل اپنے پروردگار کے اذن سے ہر طرح کا حکم لے کر اترتے ہیں“ [97: 4] اس آیت سے معلوم ہوا کہ کائنات کے نظم و نسق کے بارے میں یہ ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ افراد، اقوام اور ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے کر کے اپنے فرشتوں کے حوالہ کر دیتا ہے۔ پھر وہ انہی فیصلوں کے مطابق عمل درآمد کرتے رہتے ہیں۔ یعنی افراد یا اقوام کی زندگی اور موت، فتح و شکست، عروج و زوال، قحط اور ارزانی اور رزق وغیرہ سے متعلق فیصلے اسی رات میں کر دیئے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔