اس آیت کی تفسیر آیت 38 میں تا آیت 40 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
39۔ 1 یعنی وہ اس مقصد سے غافل اور بیخبر ہیں۔ اسی لئے آخرت کی تیاری سے لا پروا ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
39۔ بلکہ انہیں حقیقی مصلحت سے پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ [29] یہ بات جانتے نہیں۔
[29] دوسرا عقلی جواب : یہ کائنات بیکار پیدا نہیں کی گئی :۔
یہ کفار مکہ کی اس کٹ حجتی کا عقلی جواب ہے۔ یعنی جو شخص روز آخرت اور اپنے اعمال کی جزا و سزا کا منکر ہے وہ دراصل یہ سمجھتا ہے کہ یہ کارخانہ کائنات بس ایک کھیل تماشا ہی ہے۔ اور اس دنیا میں کوئی شخص جو چاہتا ہے کرتا رہے۔ وہ مر کر مٹی ہو جائے گا اور اسے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ اور خالق کائنات نے بس یونہی ایک شغل اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا کر دیا ہے۔ حالانکہ اس کائنات کی ایک ایک چیز میں باہمی ربط، نظم و نسق، انضباط باقاعدگی اور ہر چیز کا کثیر المقاصد اور اسی نسبت سے افادیت سے معمور ہونا اس بات پر کھلی شہادت ہے کہ اس کائنات کا خالق انتہا درجہ کی دانا اور مدبر ہستی ہی ہو سکتی ہے۔ اور کوئی دانا بے کار اور عبث کام نہیں کیا کرتا۔ لامحالہ یہ کائنات کسی نتیجہ پر منتج ہونی چاہئے۔ اور اسی نتیجہ کا نام دوسرا جہان یا روز آخرت ہے۔ قرآن میں بہت سے دوسرے مقامات پر روز آخرت پر ایک دوسری عقلی دلیل پیش کی گئی ہے جو یہ ہے کہ جو شخص روز آخرت کا منکر ہے وہ دراصل سمجھتا ہے کہ نیک اور بد (یا نیکی یا بدی) سب برابر ہیں۔ دونوں کا انجام یہی ہے مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں۔ حالانکہ اس بات کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا کہ نیک اور بد ایک جیسے ہوتے ہیں یا ان دونوں کا انجام ایک ہی جیسا ہونا چاہئے گویا روز آخرت سے انکار اللہ تعالیٰ کی صفات حکمت اور عدل دونوں کی نفی کر دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صور پھونکنے کے بعد ٭٭
یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْأَنَّمَاخَلَقْنَاكُمْعَبَثًاوَأَنَّكُمْإِلَيْنَالَاتُرْجَعُونَفَتَعَالَىاللَّـهُالْمَلِكُالْحَقُّ ۖ لَاإِلَـٰهَإِلَّاهُوَرَبُّالْعَرْشِالْكَرِيمِ»[23-سورة المؤمنون: 116، 115]، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَانُفِخَفِيالصُّوْرِفَلَآاَنْسَابَبَيْنَهُمْيَوْمَىِٕذٍوَّلَايَتَسَاۗءَلُوْنَ» [23- المؤمنون: 101]، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَايَسْأَلُحَمِيمٌحَمِيمًايُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّالْمُجْرِمُلَوْيَفْتَدِيمِنْعَذَابِيَوْمِئِذٍبِبَنِيهِ»[70-المعارج: 10، 11] کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔