(آیت 39،38) {وَمَاخَلَقْنَاالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضَ …:} یہ منکرین قیامت کے اعتراض کا عقلی جواب ہے کہ اگر سب لوگوں کو زندہ کرکے ان سے باز پرس کا اور نیک و بد کی جزا و سزا کا کوئی دن نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنی عظیم کائنات محض کھیلنے کے لیے بنائی ہے، اس کا کوئی مقصد نہیں، اس کے ہاں نیک و بد اور ظالم و مظلوم برابر ہیں، نہ اس کے ہاں عدل ہے نہ حکمت۔ فرمایا ایسا نہیں ہے، ہم نے آسمان و زمین کو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور قیامت قائم کرنا ہماری حکمت اور عدل کا تقاضا ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے، اس لیے آخرت کی تیاری سے غافل ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے، دیکھیے سورۂ انبیاء (۱۶ تا ۱۸)، مومنون (۱۱۵، ۱۱۶) اور قیامہ (۳۶ تا ۴۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
38۔ 1 یہی مضمون اس سے قبل (وَمَاخَلَقْنَاالسَّمَاۗءَوَالْاَرْضَوَمَابَيْنَهُمَابَاطِلًا ۭ ذٰلِكَظَنُّالَّذِيْنَكَفَرُوْا ۚ فَوَيْلٌلِّــلَّذِيْنَكَفَرُوْامِنَالنَّارِ 27ۭ) 38۔ ص:27) (اَفَحَسِبْتُمْاَنَّمَاخَلَقْنٰكُمْعَبَثًاوَّاَنَّكُمْاِلَيْنَالَاتُرْجَعُوْنَ 115 فَتَعٰلَىاللّٰهُالْمَلِكُالْحَقُّ ۚ لَآاِلٰهَاِلَّاهُوَ ۚ رَبُّالْعَرْشِالْكَرِيْمِ 116) 23۔ المؤمنون:116-115) (وَمَاخَلَقْنَاالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضَوَمَابَيْنَهُمَآاِلَّابالْحَقِّ ۭ وَاِنَّالسَّاعَةَلَاٰتِيَةٌفَاصْفَحِالصَّفْحَالْجَمِيْلَ 85) 15۔ الحجر:85) و غیرہا میں بیان کیا گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
38۔ نیز ہم نے آسمانوں اور زمین کو، اور جو چیزیں ان کے درمیان ہیں انہیں کھیل کے طور پیدا نہیں کیا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صور پھونکنے کے بعد ٭٭
یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْأَنَّمَاخَلَقْنَاكُمْعَبَثًاوَأَنَّكُمْإِلَيْنَالَاتُرْجَعُونَفَتَعَالَىاللَّـهُالْمَلِكُالْحَقُّ ۖ لَاإِلَـٰهَإِلَّاهُوَرَبُّالْعَرْشِالْكَرِيمِ»[23-سورة المؤمنون: 116، 115]، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَانُفِخَفِيالصُّوْرِفَلَآاَنْسَابَبَيْنَهُمْيَوْمَىِٕذٍوَّلَايَتَسَاۗءَلُوْنَ» [23- المؤمنون: 101]، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَايَسْأَلُحَمِيمٌحَمِيمًايُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّالْمُجْرِمُلَوْيَفْتَدِيمِنْعَذَابِيَوْمِئِذٍبِبَنِيهِ»[70-المعارج: 10، 11] کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔