(آیت 37) ➊ { اَهُمْخَيْرٌاَمْقَوْمُتُبَّعٍ:} تبع یمن کے قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا، جیسے کسریٰ ایران کے بادشاہوں کا، قیصر روم کے بادشاہوں کا، فرعون مصر کے بادشاہوں کا اور نجاشی حبشہ کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا۔ یہ حمیر کا بادشاہ تبع مومن تھا اور اس کی قوم کافر تھی، اس لیے اس کی قوم کی مذمت کی ہے، اس کی نہیں۔ ➋ {وَالَّذِيْنَمِنْقَبْلِهِمْ:} پہلے لوگوں سے مراد عاد و ثمود، قومِ ابراہیم، قومِ لوط، اصحابِ مدین اور قومِ فرعون وغیرہ ہیں۔ ➌ { اَهْلَكْنٰهُمْاِنَّهُمْكَانُوْامُجْرِمِيْنَ:} یہ کفار کے اعتراض کا تاریخ سے جواب ہے کہ جو شخص یا قوم آخرت کا انکار کرے گی اسے کوئی چیز مجرم بننے سے روک نہیں سکتی، کیونکہ اسے بازپرس کی فکر ہی نہیں ہوتی، وہ اپنی خواہشات کے پیچھے بے لگام دوڑے چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کی سرکشی، ظلم و زیادتی اور حد سے بڑھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انھیں حرف غلط کی طرح مٹا دیا جاتا ہے۔ رہی یہ بات کہ ”یہ لوگ بہتر ہیں یا قومِ تبع اور اس سے پہلے کے لوگ“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کفارِ مکہ تو اس خوش حالی اور قوت و شوکت کو پہنچ ہی نہیں سکے جو تبع کی قوم اور اس سے پہلے کی اقوام کو حاصل رہی ہے، جب ان کی خوش حالی انھیں اس زوال سے نہیں بچا سکی جو قیامت کے انکار کی وجہ سے ان پر آیا تو ان بے چاروں کی کیا حیثیت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 یعنی یہ کفار مکہ اور ان سے پہلے کی قومیں، عاد وثمود وغیرہ سے زیادہ طاقتور اور بہتر ہیں، جب ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں، ان سے زیادہ قوت و طاقت رکھنے کے باوجود ہلاک کردیا تو یہ کیا حیثیت رکھتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ کیا یہ بہتر ہیں یا قوم تبع [27]؟ اور اس سے پہلے [28] کے لوگ؟ ہم نے ان سب کو ہلاک کر دیا۔ کیونکہ وہ مجرم تھے
[27] قوم تبع کا ذکر :۔
تُبع شاہان یمن کا لقب ہے۔ جو حمیری قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسے ایران کے بادشاہوں کا لقب کسریٰ، روم کے بادشاہوں کا لقب قیصر اور حبشہ کے بادشاہوں کا لقب نجاشی تھا۔ تبع، قوم تبع کے جد امجد کا نام تھا۔ یہ بذات خود ایک ایماندار آدمی تھا اور اپنے وقت میں اس کا ڈنکا بجتا تھا۔ اس نے بہت سے علاقے بھی فتح کر لیے تھے۔ مگر اس کے بعد میں آنے والے لوگ کفر و شرک میں مبتلا ہو گئے اور اللہ سے سرکشی کی راہ اختیار کر لی تھی۔ ان بادشاہوں کا زمانہ 115 ق م سے 300 ء تک ہے۔ عرب میں صدیوں تک ان کی عظمت کے افسانے زبان زد خلائق رہے۔
[28] کفار کے اعتراض کا پہلا جواب تاریخ سے متعلق :۔
پہلے کے لوگوں سے مراد قوم عاد، قوم ثمود، قوم ابراہیم نیز نمرود، شداد اور فراعنہ مصر وغیرہ ہیں۔ اپنے اپنے دور میں ان سب قوموں کی عظمت کا ڈنکا بجتا تھا۔ اور یہ سب لوگ اللہ کے نافرمان اور آخرت کے منکر تھے اور یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ جس قوم نے بھی آخرت کا انکار کیا وہ اخلاقی انحطاط فتنہ و فساد اور ظلم و جور میں مبتلا ہو گئی اور بالآخر اسے تباہ کر دیا گیا۔ کفار مکہ سے پوچھا یہ جا رہا ہے کہ ان قوموں نے جب آخرت کا انکار کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو ان کو ہلاک کر ڈالا گیا تھا۔ حالانکہ وہ تم سے ہر لحاظ سے بہتر تھے تو پھر تم کس کھیت کی مولی ہو کہ تم اپنے انجام سے بچ جاؤ گے۔ یہ گویا کفار مکہ کی اس کٹ حجتی ” کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباء و اجداد کو لا کے دکھا دو“ کا پہلا جواب ہے جو تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔