(آیت 36){ فَاْتُوْابِاٰبَآىِٕنَاۤاِنْكُنْتُمْصٰدِقِيْنَ:} یعنی ہم نے آج تک کسی فوت شدہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا، اگر تمھارا دعویٰ ہے کہ دوسری زندگی ہے تو ہمارے آبا و اجداد کو قبروں سے اٹھا لاؤ، اگر تم سچے ہو، ورنہ ہم تمھیں جھوٹا سمجھیں گے۔ وہ اپنی اس دلیل کو بہت مضبوط سمجھتے تھے! حالانکہ یہ کئی وجہوں سے بالکل فضول ہے، کیونکہ انھیں یہ کس نے کہا کہ وہ اسی دنیا میں آئے گی؟ وہ تو ایک نئی دنیا ہو گی جس میں تمام مردے بیک وقت اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر انھیں یہ کس نے کہا ہے کہ مردوں کا زندہ کرنا پیغمبر کے اختیار میں ہے؟ اس کا کام تو صرف پیغام پہنچانا ہے، مردے زندہ کرنا یا معجزوں کے مطالبے پورے کرنا نہیں اور تیسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کا ایک وقت مقرر ہے جسے صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، وہ اسی وقت آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔ اب قیامت سے پہلے قیامت کا مطالبہ کون سی دانش مندی ہے؟ اگر کسی کو آئندہ ہونے والے کسی کام کی اطلاع دی جائے تو کیا یہ کہہ کر اسے جھٹلایا جا سکتا ہے کہ یہ کام فوراً کرکے دکھاؤ، اگر ابھی نہیں ہوتا توکبھی بھی نہیں ہو گا۔ ظاہر ہے یہ نہایت بے عقلی کی بات ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36۔ 1 یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو کافروں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تمہارا یہ عقیدہ واضح اور صحیح ہے کہ دوبارہ زندہ ہونا ہے تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے دکھا دو یہ ان کی کٹ حجتی تھی کیونکہ دوبارہ زندہ کرنے کا عقیدہ قیامت سے متعلق ہے نہ کہ قیامت سے پہلے ہی دنیا میں زندہ ہوجانا یا کردینا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباء و اجداد کو لا کے [26] دکھاؤ۔
[26] کفار کا یہ اعتراض کہ ہمارے آباء کو زندہ کر کے دکھاؤ:۔
کفار کا یہ مطالبہ تین وجوہ کی بنا پر غلط ہے۔ ایک یہ کہ رسول کی ذمہ داری صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ خدائی اختیارات کا نہ وہ کبھی دعویٰ کرتا ہے اور نہ اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں کہ جب کوئی کافر ایسا مطالبہ کرے تو اس کا کوئی بڑا بزرگ اسے دوبارہ زندہ کر کے دکھا دے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی نبی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اسی دنیا میں بھیجا جائے گا بلکہ وہ جہاں ہی دوسرا ہو گا جس میں مردے زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ نبی یہ خبر دیتا ہے کہ تمہاری دوبارہ زندگی قیامت کے دن ہو گی تو کیا یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ قیامت سے پہلے ہی ایک اور قیامت آجائے۔ حالانکہ قیامت کا وقت مقرر ہے اور وہ اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ پھر جب ان کے باپ دادا یا یہ خود زندہ ہوں گے تو انہیں اپنے اس مطالبہ کی ہوش بھی رہے گی بلکہ دوسرے کئی قسم کے فکر دامن گیر ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔