ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 30

وَ لَقَدۡ نَجَّیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ ﴿ۙ۳۰﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی۔ En
اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی
En
اور بےشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو (سخت) رسوا کن سزا سے نجات دی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 30) {وَ لَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ:} موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں فرعون اور آل فرعون کو غرق کرنے کا ذکر کرنے کے بعد بنی اسرائیل پر اپنے انعامات کا ذکر فرمایا۔ اس میں قریش کے جباروں کو فرعون اور آلِ فرعون کے انجام سے ڈرایا گیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ نہ کفر کے یہ سردار فرعون جیسی قوت و شوکت کے مالک ہیں نہ مسلمان بنی اسرائیل جتنے مظلوم اور بے بس۔ تو جب فرعون کی قوت و شوکت کا یہ حال ہوا تو یہ بے چارے کیا حیثیت رکھتے ہیں اور جب بنی اسرائیل جیسے بے بس اور مظلوم ظلم سے نجات پا سکتے ہیں تو مسلمانوں کو بھی اس کی امید رکھنی چاہیے۔
لام اور {قَدْ} تاکید کے لیے قسم کا مفہوم رکھتے ہیں۔ یقین دلانے کے لیے قسم کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی کسی بات کا منکر ہو، یہاں یہ بات اتنی تاکید کے ساتھ اس لیے فرمائی کہ ماننے میں نہیں آتا کہ ظلم میں اس قدر جکڑی ہوئی قوم، جن کے لڑکے ذبح کیے جا رہے ہوں، لڑکیوں کو زندہ رکھ کر ان سے ہر خدمت لی جا رہی ہو اور وہ اف تک نہ کر سکتے ہوں اور دنیا میں کہیں سے انھیں مدد مل سکتی ہو نہ کوئی ان کے حق میں آواز اٹھانے والا ہو، انھیں بھی اتنی ذلت سے نجات مل سکتی ہے؟ فرمایا، ہاں، ہاں! ایسا ہوا ہے اور یقینا ہوا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ اور بنی اسرائیل کو ہم نے رسوا کرنے والے عذاب سے نجات دی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ «إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [28-القص: 4]‏‏‏‏ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے «قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ» [7- الاعراف: 144]‏‏‏‏ فرمایا "اے موسیٰ علیہ السلام، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"۔
جیسے مریم علیہا السلام کے لیے فرمایا «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» [سورة آل عمران 3: 42]‏‏‏‏ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لیے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ان سے یقیناً افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر۔[صحیح مسلم:70-89]‏‏‏‏
پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت و برہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لیے صاف صاف امتحان تھا۔