ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 3

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿۳﴾
بے شک ہم نے اسے ایک بہت برکت والی رات میں اتارا، بے شک ہم ڈرانے والے تھے۔ En
کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم تو رستہ دکھانے والے ہیں
En
یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 2 میں تا آیت 4 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 بابرکت رات (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ) سے مراد شب قدر ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ) 2۔ البقرۃ:185) رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا، یہ شب قدر رمضان کے عشرہ اخیر کی طاق راتوں میں سے ہی کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ یہاں قدر کی رات اس رات کو بابرکت رات قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بابرکت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ ایک تو اس میں قرآن کا نزول ہوا دوسرے، اس میں فرشتوں اور روح الامین کا نزول ہوتا ہے تیسرے اس میں سارے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے (جیسا کہ آگے آرہا ہے) چوتھے اس رات کی عبادت ہزار مہینے (83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے بہتر ہے شب قدر یا لیلہ مبارکہ میں قرآن کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ اسی رات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ یعنی پہلے پہل اس رات آپ پر قرآن نازل ہوا، یا یہ مطلب ہے لوح محفوظ سے اسی رات قرآن بیت العزت میں اتارا گیا جو آ ّسمان دنیا پر ہے۔ پھر وہاں سے ضرورت و مصلحت 33 سالوں تک مختلف اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتا رہا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ کہ ہم نے اسے خیر و برکت والی [1] رات میں نازل کیا ہے کیونکہ ہمیں بلا شبہ اس سے ڈرانا [2] مقصود تھا
[1] ﴿ليلة القدر﴾ اور شب برات ایک ہی رات ہے :۔
یعنی جس رات قرآن نازل ہوا وہ بڑی خیر و برکت والی رات تھی۔ کیونکہ اس رات کو تمام دنیا کی ہدایت کا اہتمام کیا جا رہا تھا۔ اس مقام پر اس رات کو ﴿لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ کہا گیا اور سورۃ القدر میں ﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ یعنی بڑی قدر و منزلت والی رات یا وہ رات جس میں بڑے اہم امور کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے اگلی آیت میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ مطلب دونوں کا ایک ہی ہے بالفاظ دیگر ایک ہی رات کو یہاں ﴿لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ کہا گیا ہے اور سورۃ القدر میں ﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ اور سورۃ بقرہ میں یہ صراحت بھی موجود ہے ہے کہ یہ رات ماہ رمضان المبارک کی رات تھی۔ [2: 185]
اور احادیث صحیحہ میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ یہ رات ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی رات ہوتی ہے۔ اور اکثر اقوال کے مطابق یہ رمضان کی ستائیسیویں رات ہوتی ہے۔ مگر بعض ناقابل احتجاج روایات کی بنا پر بعض لوگوں نے اس رات کو دو الگ الگ راتیں قرار دے لیا یعنی ﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ کو تو رمضان کے آخری عشرہ میں ہی سمجھا اور ﴿لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ کو ماہ شعبان کی پندرہ تاریخ قرار دے دیا۔ اور اس کا نام شب قدر یا شب برات رکھ لیا۔ حالانکہ شب کا لفظ ﴿ليلة﴾ کا فارسی ترجمہ ہے اور برات کا لفظ قدر کا۔ گویا ﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا ہی فارسی زبان میں ترجمہ کر کے ایک دوسری رات بنا کر اس کا تہوار منانے لگے اور اس میں پٹاخے اور آتش بازی چلانے لگے۔ گویا جو کام ہندو اپنے دسہرہ کے موقع پر کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں نے شب برات سے متعلق کر کے اپنے تہوار منانے کے شوق کو پورا کر لیا۔ رہی یہ بات کہ کیا سارے کا سارا قرآن اسی رات اترا تھا جیسا کہ بظاہر اس سورت اور سورۃ القدر سے معلوم ہوتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سارے کا سارا قرآن ہی لوح محفوظ سے نقل کر کے فرشتوں اور بالخصوص جبرئیل علیہ السلام کے حوالہ کر دیا گیا تھا۔ یا یہ سارا قرآن آسمان دنیا پر اتار دیا گیا تھا۔ پھر یہ وہاں سے حسب موقع و ضرورت تئیس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا۔ البتہ سورۃ علق کی پہلی پانچ آیات اسی رات رسول اللہ پر غار حرا میں نازل ہوئی تھیں۔
[2] یعنی قرآن کریم کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود یہ تھا کہ اس سے تمام اہل عالم کو ان کے انجام سے خبردار کیا جائے اور ان کی گمراہی اور برے اعمال کی سزا سے انہیں ڈرایا جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔