ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 29

فَمَا بَکَتۡ عَلَیۡہِمُ السَّمَآءُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَا کَانُوۡا مُنۡظَرِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾
پھر نہ ان پر آسمان وزمین روئے اور نہ وہ مہلت پانے والے ہوئے۔ En
پھر ان پر نہ تو آسمان کو اور زمین کو رونا آیا اور نہ ان کو مہلت ہی دی گئی
En
سو ان پر نہ تو آسمان وزمین روئے اور نہ انہیں مہلت ملی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ {فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ:} اس آیت کی تفسیر میں تین قول ہیں، تینوں میں سے جو بھی مراد لے لیں درست ہے۔ ایک یہ کہ { السَّمَآءُ } سے پہلے لفظ {أَهْلٌ} محذوف ہے، جیسے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے والد کو جا کر بتایا کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، جس کی وجہ سے عزیز مصر نے اسے اپنے پاس روک لیا ہے۔ پھر یقین دلانے کے لیے کہا: «‏‏‏‏وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا فِيْهَا» [یوسف: ۸۲] اور آپ اس بستی سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس بستی والوں سے پوچھ لیں۔ اسی طرح یہاں مطلب یہ ہے کہ نہ ان پر آسمان والے روئے اور نہ زمین والے، بلکہ ہر ایک نے اطمینان کا سانس لیا اور ہر ظالم حکمران ٹولے کا یہی حشر ہوتا ہے۔
دوسرا قول یہ کہ اس سے مراد ان کی تحقیر اور ان کا مذاق اڑانا ہے۔ عرب کے ہاں جب کوئی بڑا آدمی فوت ہوتا تو وہ اس کی موت کو بہت بڑا حادثہ بتانے کے لیے کہتے کہ اس پر آسمان رویا، زمین روئی اور پہاڑ لرز اٹھے۔ مطلب یہ کہ اتنی شان و شوکت والے اور خدائی کا ڈنکا بجانے والے مرے تو ان لوگوں کی طرح جن کی نہ کوئی حیثیت ہوتی ہے اور نہ کسی کو ان کے مرنے کی پروا ہوتی ہے۔ تیسرا قول یہ کہ آیت کے ظاہر الفاظ کے مطابق آسمان و زمین نیک لوگوں کے مرنے پر روتے ہیں، مگر ان کے مرنے پر نہ آسمان رویا نہ زمین۔ یہ معنی بھی کچھ بعید نہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے ڈر سے پتھروں سے نہریں پھوٹنے، ان کے پھٹ جانے اور اللہ کے خوف سے گر پڑنے کا ذکر فرمایا ہے (دیکھیے بقرہ: ۷۴) اور جس طرح کھجور کے درخت کا تنا (حنانہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسے چھوڑ کر منبر پر خطبہ دینے کے وقت رویا تھا۔
➋ { وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ:} اور نہ وہ مہلت پانے والے ہوئے کہ توبہ کر لیتے، بلکہ آن کی آن میں ڈبو دیے گئے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یعنی ان فرعونیوں کے نیک اعمال ہی نہیں تھے جو آسمان پر چڑھتے اور ان کا سلسلہ منقطع ہونے پر آسمان روتے، نہ زمین پر ہی وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے کہ اس سے محرومی پر زمین روتی۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین میں کوئی بھی ان کی ہلاکت پر رونے والا نہیں تھا (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ پھر نہ آسمان ان پر رویا [21] اور نہ زمین اور نہ ہی انہیں کچھ مہلت دی گئی
[21] زمین اور آسمان کے رونے کے مختلف مفہوم :۔
زمین اور آسمان کے نہ رونے سے مراد یہ ہے کہ ان پر نہ زمین کی مخلوق کو رونا آیا یا افسوس لگا اور نہ آسمان میں بسنے والی مخلوق کو۔ بلکہ زمین والے تو ایسے ظالموں کے مرنے پر خوشی مناتے ہیں کہ ان کے ظلم و تشدد سے جان چھوٹی اور ”خس کم جہاں پاک“ کے مصداق اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں وہ بھلا روئیں گے کیوں؟ یہی حال آسمانوں کی مخلوق کا ہے۔ ایسے لوگوں کی روح کو جب مرنے کے بعد اوپر لے جایا جاتا ہے تو ان کے لیے آسمان کا دروازہ کھلتا ہی نہیں وہ ایسی ارواح پر پھٹکار بھیجتے ہیں وہ ان کی موت پر کیسے رو سکتے یا افسوس کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر ان الفاظ کو ان کے ظاہری مفہوم پر ہی محمول کیا جائے تو بھی اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اعمال کے اثرات ہمارے اعضاء و جوارح پر اور خود زمین پر ثبت ہو رہے ہیں تو پھر ہمیں آسمان و زمین کے رونے یا افسوس کرنے پر بھی تعجب نہ کرنا چاہئے۔ اور بعض روایات سے ایسی باتیں ثابت بھی ہیں۔ علاوہ ازیں ہر زبان میں ایسے الفاظ محاورتاً بھی استعمال ہوتے ہیں۔ جن پر نہ کسی نے کبھی تعجب کیا ہے اور نہ اعتراض۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔