اس آیت کی تفسیر آیت 27 میں تا آیت 29 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 بعض کے نزدیک اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ لیکن بعض کے نزدیک بنی اسرائیل کا دوبارہ مصر آنا تاریخی طور پر ثابت نہیں، اس لئے ملک مصر کی وارث کوئی اور قوم بنی، بنی اسرائیل نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ اسی طرح ہوا۔ اور ہم نے ایک دوسری [20] قوم کو ان کا وارث بنا دیا۔
[20] یہ دوسری قوم کون تھی جو فرعون اور اٰل فرعون کے محلات، باغات، چشموں اور کھیتوں کی وارث بنی تھی؟ اس کے متعلق بھی اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل ہی کے کچھ لوگ مصر میں باقی رہے گئے تھے۔ جو فرعون اور آل فرعون کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد ان چیزوں کے وارث بن گئے تھے۔ اور بعض کا خیال ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے علاوہ کوئی اور لوگ تھے۔ قرآن کریم سے دو باتوں کی تائید ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ یہاں بھی ﴿قَوْمًااٰخَرِيْنَ﴾ کے الفاظ دوسری صورت کی تائید کرتے ہیں۔ نیز تاریخ سے بھی فرعون کی غرقابی کے بعد مصر میں بنی اسرائیل کی حکومت ثابت نہیں ہوتی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔