ترجمہ و تفسیر — سورۃ الدخان (44) — آیت 17

وَ لَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَہُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے اس سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمایا اور ان کے پاس ایک بہت باعزت رسول آیا۔ En
اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی آزمائش کی اور ان کے پاس ایک عالی قدر پیغمبر آئے
En
یقیناً ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو (بھی) آزما چکے ہیں جن کے پاس (اللہ) کا باعزت رسول آیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17) ➊ { وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ:} یعنی ان کفارِ مکہ سے پہلے ہم نے فرعون کی قوم کو آزمایا، کبھی وسعت اور فراخی دے کر اور کبھی کوئی عذاب بھیج کر۔ ان کا بھی یہی حال تھا کہ جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے، یہ ہمارے ہنر کا کمال ہے اور جب ان پر عذاب آتا تو اسے موسیٰ علیہ السلام کی نحوست قرار دیتے، مگر پھر انھی سے درخواست کرتے کہ اپنے رب سے دعا کر، اگر اس نے یہ عذاب ہم سے ہٹا دیا تو ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ مگر جب ان کی دعا سے وہ عذاب دور ہوتا تو فوراً عہد توڑ ڈالتے۔ آخر انجام ان کا یہ ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی بددعا سے ہم نے انھیں سمندر میں غرق کر دیا۔ (دیکھیے اعراف: ۱۳۰ تا ۱۳۶) مقصود ان آیات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور کفار کو عبرت دلانا ہے۔
➋ {وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِيْمٌ: كَرِيْمٌ } کا لفظ کسی بھی چیز میں سے اعلیٰ درجے کی چیز پر بولا جاتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو کریم اس لیے فرمایا کہ وہ حسب نسب میں ان سب سے اونچے اور اخلاق و صفات میں نہایت بلند تھے اور اللہ کے ہاں اتنے عالی مرتبے والے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان سے کلام فرمایا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انہیں دنیاوی خوشی، خوشحالی و فراغت سے نوازا اور پھر اپنا جلیل القدر پیغمبر بھی ان کی طرف ارسال کیا لیکن انہوں نے رب کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا اور نہ پیغمبر پر ایمان لائے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ ان سے پہلے ہم فرعون کی قوم کو آزما چکے [11] ہیں۔ ان کے پاس ایک معزز [12] رسول آیا
[11] فرعونیوں کی بار بار کی عہد شکنی :۔
یعنی وہ بھی انتہائی ہٹ دھرم اور عہد شکن لوگ تھے۔ جب ان پر کوئی عذاب آتا تو سیدنا موسیٰؑ سے التجا کرتے کہ اللہ سے دعا کرو ہم پر سے یہ عذاب ہٹا دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ پھر جب سیدنا موسیٰؑ کی دعا سے وہ عذاب دور ہو جاتا تو وہ پھر اکڑ جاتے۔ اور انہوں نے بار بار ایسی عہد شکنی کی تھی۔ یہ کفار مکہ بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
[12] یعنی ایسا رسول جو نہایت اعلیٰ اور بلند سیرت و کردار کا مالک تھا۔ مراد سیدنا موسیٰؑ ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قبطیوں کا انجام ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔[20-طه:47]‏‏‏‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا
پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏‏‏‏ [10-يونس: 88]‏‏‏‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [10-يونس: 89]‏‏‏‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔[10-يونس:88-89]‏‏‏‏