(آیت 15) {اِنَّاكَاشِفُواالْعَذَابِقَلِيْلًا …:} یعنی ہم تمھارے رسول کی دعا سے عذاب کو تھوڑی مدت کے لیے ہٹانے والے ہیں، تاکہ تمھارے ایمان لانے کے وعدے کی حقیقت سامنے آ جائے اور تم پر حجت پوری ہو جائے، اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ عذاب ہٹنے پر تم دوبارہ وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ ہم تھوڑی مدت کے لئے عذاب ہٹا دیں گے مگر تم لوگ پھر وہی [10] کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے
[10] یعنی اگر ہم ان پر سے یہ قحط کا عذاب کچھ مدت کے لیے ہٹا بھی دیں تو پھر وہی حرکتیں کرنے لگیں گے جو پہلے کرتے رہے اور اس قحط کے طبعی اسباب تلاش کرنے لگیں گے۔ پھر بھی انہیں یہ خیال نہیں آئے گا کہ ہمیں ہماری شرارتوں کی سزا اس صورت میں ملی تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔